کوفی عنان کاتباہ شدہ لبنان کا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان نے لبنان کے دورے کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان چار ہفتوں کی لڑائی سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا ہے۔ کوفی عنان بیروت سے آتے ہوئے نقورا کے ہوائی اڈے پر اترے جو کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کا صدر دفتر ہے۔ لبنان کی حالیہ جنگ بندی کے بعد فوج کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ اس جنگ بندی کو قائم رکھنے کے لئیے اسرائیل کا دورہ بھی کریں گے اور اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے بات چیت کریں گے۔ اس کے بعد وہ ایران اور شام بھی جائیں گے کیونکہ ان ممالک کا حزب اللہ سے کافی گہرا تعلق ہے۔ پیر کو کوفی عنان کے بیروت پہنچنے پر حزب اللہ کے حامیوں نے مظاہرہ کیا تھا۔ سیکرٹیری جنرل نے بماری سے ہونے والی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا اور لبنان کے سیاسی لیڈروں سے بات چیت بھی کی ہے۔ مسٹر عنان نے کہا کہ وہ اسرائیل سے کہیں گے کہ لڑائی کے شروع میں لبنان کی بندرگاہ اور ہوائی اڈوں پر کئیے گئے محاصرے کو ختم کر دیں۔ اور لبنانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ بارہ جولائی کو پکڑے جانے والے دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا کر دیں۔ کوفی عنان لڑائی کے چونتیسویں دن بھاری بمباری سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ہوائی جائزہ بھی لیں گے۔ بی بی سی کی نمائندے جان لین کے مطابق کوفی عنان کے غیر گرم جوش استقبال کے باوجود لبنان کے زیادہ لوگ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ امن قائم رکھنے والوں میں اضافہ کرے۔ نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک کئی دیہات میں راکٹوں اور بموں کا کچرا جوں کا توں پڑا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ تب تک محاصرہ ختم نہیں کریں گے جب تک لبنانی قبضے کے علاقوں میں اقوام متحدہ کی فوج تعینات نہیں کی جاتی۔اقوام متحدہ کی پندرہ ہزار کی فوج میں یورپی یونین کی ریاستوں کے سات ہزار فوجی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ لبنان کے جھگڑے سے نبٹنے کے لیئے دو حکومتی تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں سے ایک سیاسی معاملات اور دوسری فوجی معاملات نبٹائے گی۔ | اسی بارے میں اسرائیلی حملہ خلاف ورزی:عنان20 August, 2006 | آس پاس شیبا فارم پر اسرائیل کی نگرانی26 August, 2006 | آس پاس پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان28 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||