BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 August, 2006, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیبا فارم پر اسرائیل کی نگرانی

شیبا فارم
شیبا فارم دفاعی نقطئہ نظر سے لبنان اور اسرائیل کے لیئے کافی اہم ہے
اسرائیلی افواج ان دنوں گولان کی پہاڑیوں کے ماؤنٹ ہرمن سے لبنانی سرحد پر کڑی نگاہ رکھ رہی ہیں۔

برقی آلات کے ذریعہ مشرق میں شام اور مغرب میں شیبا فارم کی فضائی اور بری سرحدوں پر مخصوص توجہ دی جا رہی ہے۔

مئی 2000 میں جب اسرائیلی فوج لبنان سے واپس ہوئی تب سے ان علاقوں کے چودہ فارموں کے ارد گرد تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ یہ علاقہ چودہ کلو میٹرلمبے اور ڈھائی کلومیٹر چوڑے رقبے پر محیط ہے۔

اقوام متحدہ کے ذریغہ مقرر کردہ شام کے کچھ علاقوں پر پر فی الحال اسرائیل کا قبضہ ہے۔ لیکن حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ علاقے لبنان کے ہیں۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فوج پر حزب اللہ لگاتار حملہ کرتا رہا ہے۔ اس علاقے سے ہی گزشتہ جولائی میں حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو پکڑ لیا تھا جس کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ تک جنگ ہوئی۔

’میڈ ایسٹ مونیٹر ‘ کے ایڈیٹر گیری سی گیمبل کا کہنا ہے کہ’ سن دو ہزار میں لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بعد شیبا فارم ہی دونوں کے درمیان تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں‘۔

لبنان اور اسرائیل کی سرحد کا متعین 1923 میں فرانسیسی نقشہ نگاروں نے کیا تھا۔ اس کے مطابق شیبا گاؤں کو لبنان کی طرف دکھایا گیا ہے جب کہ شیبا کے فارموں کو شام کی سرحد میں شامل کیا گیا۔

شیبا فارم پر اسرائیل کا 1967 سے قبضہ ہے

1967 تک یہ فارم شام کے قبضے میں رہے لیکن یہاں کے کسانوں کو لبنانی شہریت حاصل تھی۔

ان علاقوں پر اسرائیل نے 1967 میں مشرقی وسطیٰ کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا اور 1981 میں باقی ماندہ گولان کی پہاڑیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا جسے بین الاقوامی سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔

لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اس کا حصہ ہیں جب ان علاقوں پر دمشق بھی اپنا حق جتاتا ہے۔

سعادات سنٹر فار سٹریٹجک سٹڈیز کےڈاکٹر مورڈیکے کادر کا کہنا ہے کہ ’ اقوام متحدہ کے ایک نقشہ کے مطابق یہ علاقے شام کے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج جب سن 200 میں لبنان سے ہٹی تو اس نے ان علاقوں کو خالی نہیں کیا۔ یہ معاملہ اسرائیل اور شام کا ہے۔ اس سے لبنان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

یہ علاقے فی الحال رسٹرکٹیڈ زون ہیں اور ان فارموں تک جانے والی سڑک بند کر دی گئی ہے۔

ماؤنٹ ہرمن کی پہاڑیوں کی برفوں کے پگھلنے کے سبب یہاں کافی مقدار میں پانی دستیاب ہے جو لبنان اور اسرائیل تک پہنچتا ہے اور یہاں کے کاشتکاروں کے لیئے کافی اہم ہے۔

ہیبرو یونیور سٹی کے پروفیسر اسیر کوفمن کا کہنا ہے کا’جارڈن ندی کے پانی کی وجہ سے شیبا فارم کی اپنی خاص اہمیت ہے اور یہ جنگی اعتبار سے بھی کافی اہم ہے‘۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ ان علاقوں کو اپنی تحویل میں لے کر اپنے لڑاکے یہاں تعینات کر دے تو وہ اسرائیل کے کئی شہروں پر گہری نظر رکھ سکتا ہے۔

کفمن نے کہا کہ’ میری سمجھ میں شیبا فارم اسرائیل کے لیئے ایک اہم موضوع بن گیا ہے اگر وہ ان علاقوں کو خالی کر دے تو اسے اس کی شکست کے طور پر تعبیر کی جائے گی‘۔

یہ علاقے سیاحت کے لحاظ سے بھی اہم ہیں۔ جاڑے کے موسم میں یہاں دس ہزار سیاح پہنچتے ہیں۔ اس علاقے کے ایک ریسورٹ کے جنرل منیجر مینکیم باروک کا کہنا ہےکہ ’سن دو ہزار سے قبل شیبا فارم پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔اگر اسرائیل امن مذاکرات کے تحت ان علاقوں کو چھوڑ دیتا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اسے ان علاقوں کو جنگ کے ذریعہ کسی بھی صورت نہیں چھوڑنا چاہیئے کیونکہ لوگ اسے اسرائیل کی کمزوری سمجھینگے۔‘

اس علاقے کے قریب کے گاؤں دروز میں رہنے والے پچاس سالہ ابو صالح کا کہنا ہے کہ’ اسرائیل اگر امن چاہتا ہے تو اسے ان علاقوں کو خالی کرنا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کے یہ علاقے لبنان کے ہیں یا شام کے لیکن حقیقت ہے کہ یہ علاقے اسرائیل کے نہیں ہیں۔یہ عرب کی سرزمین ہے جسے ہر حال میں انہیں واپس دیا جاناچاہیئے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد