ہمیں اندازہ نہیں تھا: حسن نصراللہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اگر ان کی تنظیم کو اسرائیل سے جنگ چھڑنے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہوتا تو ان کی تنظیم اسرائیلی فوجیوں کو قیدی نہیں بناتی۔ لبنانی ٹیلی ویژن سے ایک انٹرویو کے دوران حسن نصر اللہ نے کہا: ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ فوجیوں کو قیدی بنانے کا نتیجہ یہ ہوتا تو یقینی طور پر ہم ایسا نہیں کرتے۔‘ حزب اللہ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ فریقین میں سے کوئی بھی جنگ کے ’دوسرے دور کی جانب‘ نہیں جارہا۔ بارہ جولائی کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فوجی کارروائی تب شروع کردی تھی جب حزب اللہ نے سرحد سے دو اسرائیلی قیدیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ چونتیس دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران 1000 سے زائد لبنانی مارے گئے اور جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ دوسری جانب اسرائیل کے 116 فوجی اور تینتالیس شہری ہلاک ہوگئے۔ حسن نصراللہ نے کہا: ’ہم نے نہیں سوچا کہ اس بات کا ایک فیصد بھی امکان ہے کہ فوجیوں کو قیدی بنانے سے اس پیمانے پر جنگ شروع ہوجائے گی۔‘ ’اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ یہ گیارہ جولائی ہے اور ایک فیصد امکان ہے کہ (اسرائیلی فوجیوں) کو قیدی بنانے سے حال کی جنگ کی طرح کی جنگ چھڑ جائے گی تو کیا میں قیدی بناؤں گا؟‘ ’تو میں یہ کہوں گا نہیں، ہرگز نہیں، انسانی، اخلاقی، سماجی، سکیورٹی، ملٹری اور سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ نہ ہی میں، حزب اللہ، اسرائیلی جیلوں میں قیدی اور نہ ہی ان قیدیوں کے گھر والوں کو یہ قبول ہوگا۔‘ حزب اللہ کے رہنما نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ اسرائیل سے رابطہ ہوا ہے اور اسرائیلی فوجیوں کے بدلے اسرائیل میں لبنانی قیدیوں کو چھڑانے کی بات ہورہی ہے۔ حسن نصر اللہ کا یہ انٹرویو ایسے وقت نشر ہوا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچنے والے ہیں جہاں وہ جنوبی لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام متحدہ کی افواج سے متعلق بات چیت کریں گے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امن کے برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے پندرہ ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے جن میں سات ہزار فوجی یورپی ممالک کے ہوں گے۔ اقوام متحدہ کو امید ہے کہ ایک ہفتے کے اندر فوجی جنوبی لبنان میں تعینات ہوجائیں گے۔ لیکن یورپی یونین کے موجودہ صدر نے کہا ہے کہ فوجیوں کی تعیناتی میں دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ امن فوج فروری تک فرانس کے کمانڈ میں ہوگی جس کے بعد اٹلی کمان سنبھالے گا۔ |
اسی بارے میں ’لبنان میں حالات اب بھی نازک‘22 August, 2006 | آس پاس فرانس مزید فوج بھیجنے پر رضا مند 24 August, 2006 | آس پاس عالمی فوج کی فوری تعیناتی پر زور24 August, 2006 | آس پاس ’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘24 August, 2006 | آس پاس لبنان: امن فوج کی جلد روانگی 25 August, 2006 | آس پاس شیبا فارم پر اسرائیل کی نگرانی26 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||