BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 23:48 GMT 04:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہمیں اندازہ نہیں تھا: حسن نصراللہ
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ اگر ان کی تنظیم کو اسرائیل سے جنگ چھڑنے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہوتا تو ان کی تنظیم اسرائیلی فوجیوں کو قیدی نہیں بناتی۔

لبنانی ٹیلی ویژن سے ایک انٹرویو کے دوران حسن نصر اللہ نے کہا: ’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ فوجیوں کو قیدی بنانے کا نتیجہ یہ ہوتا تو یقینی طور پر ہم ایسا نہیں کرتے۔‘

حزب اللہ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ فریقین میں سے کوئی بھی جنگ کے ’دوسرے دور کی جانب‘ نہیں جارہا۔

بارہ جولائی کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فوجی کارروائی تب شروع کردی تھی جب حزب اللہ نے سرحد سے دو اسرائیلی قیدیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ چونتیس دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران 1000 سے زائد لبنانی مارے گئے اور جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیل کے 116 فوجی اور تینتالیس شہری ہلاک ہوگئے۔

حسن نصراللہ نے کہا: ’ہم نے نہیں سوچا کہ اس بات کا ایک فیصد بھی امکان ہے کہ فوجیوں کو قیدی بنانے سے اس پیمانے پر جنگ شروع ہوجائے گی۔‘

’اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ یہ گیارہ جولائی ہے اور ایک فیصد امکان ہے کہ (اسرائیلی فوجیوں) کو قیدی بنانے سے حال کی جنگ کی طرح کی جنگ چھڑ جائے گی تو کیا میں قیدی بناؤں گا؟‘

’تو میں یہ کہوں گا نہیں، ہرگز نہیں، انسانی، اخلاقی، سماجی، سکیورٹی، ملٹری اور سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ نہ ہی میں، حزب اللہ، اسرائیلی جیلوں میں قیدی اور نہ ہی ان قیدیوں کے گھر والوں کو یہ قبول ہوگا۔‘

حزب اللہ کے رہنما نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ اسرائیل سے رابطہ ہوا ہے اور اسرائیلی فوجیوں کے بدلے اسرائیل میں لبنانی قیدیوں کو چھڑانے کی بات ہورہی ہے۔

حسن نصر اللہ کا یہ انٹرویو ایسے وقت نشر ہوا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچنے والے ہیں جہاں وہ جنوبی لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام متحدہ کی افواج سے متعلق بات چیت کریں گے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امن کے برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے پندرہ ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے جن میں سات ہزار فوجی یورپی ممالک کے ہوں گے۔

اقوام متحدہ کو امید ہے کہ ایک ہفتے کے اندر فوجی جنوبی لبنان میں تعینات ہوجائیں گے۔ لیکن یورپی یونین کے موجودہ صدر نے کہا ہے کہ فوجیوں کی تعیناتی میں دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ امن فوج فروری تک فرانس کے کمانڈ میں ہوگی جس کے بعد اٹلی کمان سنبھالے گا۔

لبنان کے لیئے مشکل
وزیر اعظم سے عوام تک قرار داد پر ناخوش
بیروتفوٹو پر تنازع
بلاگرز، رائٹرز اور تبدیل شدہ فوٹو
کوفی عنانقرارداد کہتی کیا ہے؟
سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا پورا متن
جنگ مخالف مظاہرےجنگ مخالف امریکی
امریکہ میں اسرائیل اور جنگ مخالف مظاہرے
وسعت اللہ خانآنکھوں کا سفر
وسعت اللہ خان جنوبی لبنان میں
لبنانی مچھیرےمچھیرے اب کیا کریں
لبنان کے شہر طائر سے وسعت اللہ خان
لبنان میں بھگوانلبنان میں بھگوان
تئیس دن میں پہلی بار وسعت کی آنکھ میں آنسو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد