BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 August, 2006, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سان فرانسسکو: جنگ مخالف مظاہرہ

 جنگ مخالف مظاہرے
مظاہرین کو منظم کرنے والے ایک عہدیدار کے مطابق، ریلی لبنانیوں اور فلسطینیوں کے حق اور لبنان اور فلسطیین میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف زبردست مظاہرہ تھی
امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ہزاروں افراد نے جنگ مخالف مظاہرے میں شرکت کی ہے۔ لبنانی اور فسطینی نژاد امریکیوں کی بڑی تعداد پر مشتمل اس ریلی نے اسرائیل کے خلاف اور لبنان کے حق میں مظاہرے کیئے اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کرنے پر اسرائیل نواز مظاہرین سے جھڑپیں بھی ہوئيں۔

سان فرانسسکو سے سنیچر کو نکالی جانے والی ریلی میں شریک ایک جنوبی ایشیائی تنظیم فرینڈز آف ساؤتھ ایشیا کے سرگرم کارکن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا کہ تقریباً دس ہزار عورتوں اور مردوں پر مشتمل یہ ’نیشنل ریلی‘ کہلانے والا جنگ مخالف جلوس امریکہ میں جنگ مخلاف بڑی تنظیم اینسر یا ’ایکٹ ناؤ ٹو اسٹاپ وار اینڈ ریس ازم‘ عرب ایسوسی ایشن اگینسٹ ڈیفے میشن، اے بی سی، فرینڈز آف ساؤتھ ایشیا کے زیر انتظام نکالی گئی تھی۔

مظاہرین کو منظم کرنے والے ایک عہدیدار کے مطابق، ریلی لبنانیوں اور فلسطینیوں کے حق اور لبنان اور فلسطیین میں اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف زبردست مظاہرہ تھی۔

گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں
 رواں سال میں مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال اور لبنان کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف دو ہفتہ قبل بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں جن میں کچھ مظاہرین کی گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ریلی کے شرکاء میں سے ایک نے بتایا کہ مظاہرین کی بڑی تعداد سان فرانسسکو اور شمالی کیلیفورنیا میں بسنے والے لبنانی اور فلسطینی نژاد شہریوں کی تھی۔ انہوں نے صدر بش اور مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں، اسرائیل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور ایسے ہی نعروں کے تحریری کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔ ریلی سے مقررین نے اقوام متحدہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اینسر اور جنگ مخالف تنظیمیں سان فرانسسکو میں ہرسال بڑے جنگ مخالف مظاہرے منعقد کیا کرتی ہیں لیکن سال رواں کے دوران حالیہ مشرق وسطی صورتحال میں لبنان کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف دو ہفتہ قبل بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں جن میں کچھ مظاہرین کی گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں۔

ریلی کے شرکاء میں سے ایک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو سنیچر کی ریلی کے متعلق بتایا کہ صبح گیارہ بجے سان فرانسسکو میں شروع ہونے والی یہ ریلی شام گئے تک جاری رہی جو سوک سینٹر سے متصل بڑے پارک میں ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہوگئی۔

مظاہرین کی بڑی تعداد
 مظاہرین کی بڑی تعداد سان فرانسسکو اور شمالی کیلیفورنیا میں بسنے والے لبنانی اور فلسطینی نژاد شہریوں کی تھی۔ انہوں نے صدر بش اور مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں، اسرائیل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی

ایک اندازے کے مطابق مظاہرین کی تعداد دس ہزار کے قریب تھی لیکن ہر سال ایسے مظاہرے میں شریک ہونیوالوں میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سالوں کی نسبت سنیچر کے مظاہرے میں شرکاء کی تعداد اگرچہ کم تھی لیکن جوش و خروش زیادہ دیکھنے میں آیا اور شرکاء کی زیادہ تعداد پہلی بار عرب نژاد اور خاص طور لبنانی اور فلسطینی نژاد امریکی شہریوں پر مشتمل تھی۔

لبنان اور فلسطین نواز اس ریلی کے مد مقابل کوئی پچاس مظاہرین پر مشتمل ایک اسرائیل نواز مظاہرہ بھی ہوا جو اسرائیل کے حق میں نعرے بازی کررہا تھا۔

ایک موقع پر کچھ اسرائیل اور عرب نواز مظاہرین کے درمیان اس وقت معمولی جھڑپیں بھی ہوئيں جب عرب نواز مظاہرین نے اسرائيل کا پرچم نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود پولیس نے مداخلت کرکے مظاہرین کو ایک دوسرے سے دست وگریباں ہونے سے دور رکھا۔

 سنڈی شایان
سنڈی شایان کو ان کے حامی یا جنگ مخالف ’مادر امن‘ قرار دیتے ہیں

اگرچہ سان فرانسسکو اور شمالی کیلیفورنیا میں جنوبی ایشیائي تنظیم فرینڈز آف ساؤتھ ایشیا کافی سرگرم ہے لیکن ایسے مظاہروں میں جنوبی ایشیائی لوگوں کی عدم دلچسپی نمایاں دیکھنے میں آتی ہے۔ فرینڈز آف ساؤتھ ایشیا کے بانی رکن نے بتایا کہ انہوں نے سنیچر کے جنگ مخالف مظاہرے کیلیئے بھی سان فرانسسکو سمیت شمالی کیلیفورنیا میں بسنے والے بہت سے جنوبی ایشیائي لوگوں سے رابطہ کیا تھا لیکن انکی شرکت بہت ہی کم رہی۔

امریکہ کے دوسرے شہروں سے بھی بڑے مظاہروں کی اطلاعات ہیں جن میں ہزارہا لوگوں نے شرکت کی ہے۔

ان مظاہروں میں ایک ٹیکساس کے کرافورڈ میں صدر بش کے زرعی فارم یا رینچ کے باہر عراق کی جنگ میں مارے جانے والے سپاہی کی والدہ اور مشہور جنگ مخالف سرگرم کارکن سنڈی شایان کی قیادت میں بتایا جاتا ہے، جس نے اس دن روزہ رکھا۔ سنڈی شایان کو ان کے حامی یا جنگ مخالف ’مادر امن‘ قرار دیتے ہیں۔

مملکتِ بے وجود
’قابلِ رحم ہے وہ قوم جو تقسیم کر دی جائے‘
کوفی عنانقرارداد کہتی کیا ہے؟
سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا پورا متن
مسلم کمیونٹی کا خط
بلیئر سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ
یو این ’یواین چھوڑ دیں‘
مسلمان ممالک کو یو این چھوڑنے کا مشورہ
اقوام متحدہلبنان اسرائیل تنازعہ
اقوام متحدہ کا امن منصوبہ: آپ کی رائے
لبنان اور میڈیالبنان اور میڈیا
کیا آپ میڈیا کوریج سے مطمئن ہیں؟
لبنانلبنانی مایوس
’قرارداد کا مسودہ وقت حاصل کرنے کا بہانہ‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد