BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 August, 2006, 04:47 GMT 09:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم ممالک اقوام متحدہ چھوڑ دیں‘

سیمنار
’اسرائیلی جارحیت، مسلم دنیا اور میڈیا کا کردار‘ سیمنار کا موضوع تھا
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک سیمنار کے دوران مقررین نے مسلم ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل لبنان میں جنگ بندی نہیں کراسکتی تو وہ اقوام متحدہ کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں۔

کراچی پریس کلب کی جانب سے ’اسرائیلی جارحیت، مسلم دنیا اور میڈیا کا کردار‘ کے موضوع پر منعقد کیئے گئے سیمنار کو سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ، قومی اسمبلی کے سابق سپیکر الہی بخش سومرو، ایران کے قونصل جنرل موسٰی حسینی، جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد، سینئر سیاستدان معراج محمد خان، مسلم لیگی رہنما سردار رحیم اور صحافی غازی صلاح الدین نے اظہار رائے کیا۔ مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ میڈیا کے انقلاب سے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک متحدہ نہیں ہیں۔ انیس سو ستتر میں انور سادات نے اسرائیل کو تسلیم کرکے پہل کی تھی ورنہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک اسرائیل کو قابض ریاست تصور کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر واقعے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ القاعدہ نے کروایا اس میں مسلم ملوث ہیں جبکہ سی آئی اے نے خود اسامہ کو افغانستان بھیجا تھا۔ ’آخر گیارہ ستمبر کے واقعے میں ایک بھی یہودی کیوں ہلاک نہیں ہوا؟‘

انہوں نے واضع کیا کہ اپنے ملک کی آزادی کے لیئے لڑنے والے اور دہشتگردوں میں فرق ہے اور جہاد کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی بدولت موجودہ وقت رائے عامہ میں تبدیلی آئی ہے اگر حکومت وقت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس سے عوام اختلاف کرسکتی جس کا ثبوت عراق جنگ کے خلاف امریکہ اور برطانیہ میں لاکھوں لوگوں کے مظاہرے ہیں۔

انہوں نے مسلم ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آخر وہ کیوں ایک بلاک نہیں بناتے، کیوں مشترکہ تجارت نہیں کرتے اور مشترکہ فوج کیوں نہیں بنائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں جہاد کا تصور موجود ہے اور اسے کوئی نہیں نکال سکتا چاہئے سلیبس کیوں نہ تبدیل کر دیئے جائیں۔

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر الہی بخش سومرو کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا کام جنگ روکنا ہے اگر وہ اپنا یہ کردار ادا نہیں کرتی تو مسلم ممالک کو احتجاجاً اقوام متحدہ سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جس تکلیف میں مسلمان آج ہیں اس سے قبل کبھی نہ تھے ان کو خود ان سے نکلنے کے لیئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہونگے ان کے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک نے کمزوری کا ثبوت دیا ہے۔ ’او آئی سی کے اجلاس میں صرف سترہ ممبران نے شرکت کی جبکہ ایک کمزور قرارد پیش کی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمان رہتے ہیں اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ جہاد کرناچاہتے ہیں مگر اسرائیل نے تمام راستے بند کر دیئے ہیں تاکہ حزب اللہ کی مدد کے لیئے کوئی نہ پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی صحافیوں نے بھی اپنی جان خطرہ میں ڈال کر حقائق بیان کیئے ہیں اور بیداری پیدا کی ہے۔

ایران کے قونصل جنرل موسیٰ حسینی نے کہا کہ عالمی برداری کی خاموشی اور مسلمانوں کی ناقص حکمت عملی اسرائیلی جارحیت کو جاری رکھنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مقررین کی اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ لبنان کی مزاحمتی تحریک کوختم کیا جاسکے۔

 عالمی برداری کی خاموشی اور مسلمانوں کی ناقص حکمت عملی اسرائیلی جارحیت کو جاری رکھنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔
ایرانی قونصل جنرل

موسیٰ حسینی کا کہنا تھا کہ ایران پر حزب اللہ کی پشت پناہی کا الزام لگا کر اس کی بہادری کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اسرائیلی اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا کام امن قائم کرنا تھا جس میں وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ ادارہ امریکی دباؤ میں مخصوص مفاد کی ترجمانی کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی صحافیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت سے عوام کوآگاہ رکھنے کے لیئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

سینئر سیاستدان معراج محمد خان کا کہنا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ نے ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ کارروائی کی ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ ممالک بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ حزب اللہ اور حماس دہشت گرد تنظیمیں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ظلم و زیادتی اور جارحیت سے کوئی بھی ریاست کبھی قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ امریکہ خطے میں مزاحمتی تحریکوں کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں اس کی پکڑ مضبوط ہو۔

سابق کمیونسٹ رہنما نے جہاد کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں ورنہ آج میں حزب اللہ اور حماس کی صفوں میں شامل ہوتا اور جہاد کرتا۔

پریس کلب کراچی کے صدر اور سینئر صحافی غازی صلاح الدین کا کہنا تھا کہ
جب جنگ شروع ہوتی ہے تو سچ بات کہنے کا زمانہ ختم ہوجاتا او اس کی جگہ پروپیگینڈہ لے لیتا ہے۔

میڈیا کے اس انقلاب نے ہمیں ہر محاذ پر کھڑا کر دیا ہے اور اظہار رائے میں تبدیلی آئی ہے۔ عراق پر امریکہ سے قبل جو اس کا تصور تھا اسے عراق جنگ کے بعد تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اس طرح جب اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو اس سے بھی لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی ہے۔

نواز لیگ کے رہنما سردار رحیم کا کہنا تھا کہ جن ممالک کو کردار ادا کرنا چاہئے تھا اور جن کے پاس ویٹو پاور ہے انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی جب بھی جارحیت کی جاتی ہے تو یہ یہ تاثر دیا جاتا ہے دوسری جانب سے پہل کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے موجودہ انقلاب کے بعد پہلے کی طرح تصویر مسخ نہیں ہوتی۔ آج جہاں بین لاقومی نشریاتی ادارے موجود ہیں وہاں پاکستانی میڈیا بھی موجود ہے۔

اسی بارے میں
لبنان کی تباہی کی ویڈیو
20 July, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد