BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروت کا پارک یا چھوٹا سا جنوبی لبنان؟

احمد فرخ نے بتایا کہ یہاں روزانہ کوئی پچاس ساٹھ نئے لوگ آجاتے ہیں
ثنائیہ پارک سنٹرل بیروت میں پرائم منسٹر ہاؤس کے بالکل پیچھے واقع ہے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں خالی جگہ کا مطلب صرف یہ لیا جاتا ہے کہ یا تو یہاں کثیرمنزلہ فلیٹس بنیں گے یا پھر کچھ بھی نہیں بنے گا۔ ثنائیہ پارک کمرشل ازم کے سفاک ماحول میں تازہ ہوا کا سبز جھونکا معلوم ہوتا ہے۔

قریباً ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ پارک آج کل آس پاس کے بچوں کے لیئے بند ہے کیونکہ یہاں پر بیسیوں ایسے بچے اپنے بڑوں کے ساتھ موجود ہیں جن کا اب اس پارک کے علاوہ کوئی گھر نہیں۔ یوں سمجھئے کہ پارک کیا ہے چھوٹا سا جنوبی لبنان ہے۔

بش کو پیغام پہنچا دو
 اور یہ جو بش ہے، میں نے سنا ہے کہ اس کے پاس بہت بڑی ذاتی زمین ہے۔ تو کیا اس کی جاگیر میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر گھس سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اس نے کیسے اسرائیل کو ہماری زمین میں گھسنے، مکانوں کو تباہ کرنے اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دے دی۔
پناہ گزین خاتون

اگر ایک گھنے درخت کے نیچے ہبوش گاؤں سے آئی ہوئی کوئی فیملی اپنے بستربچھائے بیٹھی ہے تو ذرا فاصلے پر پارک کی ریلنگ کے ساتھ قاسمیہ سے آئے ہوئے کسی خاندان نے دو چادریں باندھ کر ذرا سا پردہ دار ماحول بنانے کی کوشش کی ہے اور اس سے بائیں ہاتھ پر معروب گاؤں سے دھکیلی جانے والی کوئی آنٹی سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو رہی ہیں۔

صمیدون نامی ایک این جی او کے لڑکے لڑکیاں ان پناہ گزینوں کی ہر ممکن دیکھ بھال میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک نوجوان کارکن احمد فرخ انگریزی جاننے کے سبب وہ چابی بن گیا جس سے اس پارک کا لسانی تالہ کھل گیا۔

بی بی سی کے نمائندے وسعت اللہ حان

احمد فرخ نے بتایا کہ یہاں روزانہ کوئی پچاس ساٹھ نئے لوگ آجاتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی خاندان پارک میں کھلے آسمان تلے زیادہ دن نہ رہے۔ جیسے ہی کوئی مناسب جگہ ملتی ہے ہم متاثرہ خاندانوں کو وہاں منتقل کردیتے ہیں۔ مگر اب بیروت کے اسکولوں میں بھی جگہ باقی نہیں ہے۔ اس لیئے یہاں سے کوئی اسی کلومیٹر شمال میں تریپولی تک جس بھی عمارت کے بارے میں ہمیں دوسری این جی اوز بتاتی ہیں کہ خالی ہے تو ہم ان میں سے کچھ خاندانوں کو وہاں روانہ کردیتے ہیں تاکہ پارک میں نئے لوگوں کے لیئے جگہ بن سکے۔

شروع کے دنوں میں لوگوں کو رفاہ حاجت اور نہانے دھونے کی خاصی تکلیف تھی کیونکہ پارک میں صرف دو واش روم تھے۔لیکن اب کوئی بیس کے لگ بھگ عارضی واش روم بنا دئیے گئے ہیں اور کئی واش رومز میں درخت کی مضبوط ٹہنیوں کو بھی شاور لٹکانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

احمد فرخ نے بتایا کہ مقامی لوگ جن میں ڈاکٹر، وکیل، اساتذہ اور دوکاندار سب ہی شامل ہیں اپنی جیب سے ہمیں پیسے دیتے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کے لیئے کم از کم کھانے اور بستر کا انتظام ہوسکے۔

بیروت پارک
یہ بچے ثنائیہ پارک میں بے گھری کا پہلا عملی سبق لے رہے

احمد نے بتایا کہ یہاں کے لوگ میڈیا والوں سے بہت تنگ ہیں۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی کیمرہ ٹیم موجود ہوتی ہے۔ اس بیزاری کا اندازہ مجھے فوراً ہی ہوگیا جب احمد فرخ نے دو تین لوگوں کو میرے بارے میں بتایا توانہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔

ایک درخت کے نیچے سیاہ چادر میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر عورت اپنے دو بچوں کو کھانا کھلا رہی تھی اور ایک نسبتاً جوان عورت کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔

سیاہ پوش خاتون کا نام فاطمہ تھا اور یہ سب اسرائیل لبنان سرحد پر واقع گاؤں بنتِ جبیل سے آئے تھے جسے اسرائیلی اٹھائیس دن کے بعد بھی قابو میں نہیں لا سکے۔ فاطمہ نے بتایا کہ اس کا شوہر حزب اللہ میں شامل ہے۔ ’وہ خود محاذ پر ہے اور ہم اس لیئے گاؤں سے نکلے کیونکہ بنتِ جبیل میں لڑائی کے شروع میں جو گھر تباہ ہوئے تھے ان میں ہمارا گھر بھی شامل تھا‘۔

فاطمہ کے بقول یہ کوئی نئی ہجرت نہیں ہے۔ انیس سو چھیانوے میں بھی اسرائیلی توپوں نے گھر چھڑوا دیا تھا لیکن اس دفعہ تو وہ گھر بھی نہیں بچا۔

پارک میں ایک بنچ پر ایک بڑے میاں اکیلے بیٹھے بہت دم لگا کر سگریٹ کے کش لے رہے تھے۔ انہوں نے اپنا نام بتانے سے انکار کردیا۔ بس یہ بتایا کہ ان کا تعلق سیدا کے نزدیک ال عون نامی گاؤں سے ہے۔ بیوی اور چار بچوں کے ساتھ کسی ٹرک میں بیٹھ کر یہاں آ گئے۔ دس دن ہوگئے، بغیر چھت کے یوں لگ رہا ہے جیسے اجنبیوں کے درمیان فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوں۔ ’بس اب میں سوچ رہا ہوں کہ بہت ہوگیا۔ اگلے چند دن اور دیکھوں گا اس کے بعد امن قائم ہویا نہ ہو میری بلا سے۔ میں دوبارہ اپنے گاؤں جاؤں گا۔ اگر شہر میں اسی طرح رہنا ہے تو گاؤں کی موت اس سے بہت اچھی ہے‘۔

ان بڑے میاں سے ذرا آگے پانچ مرد بستر بچھائے تاش کھیل رہے تھے۔احمد فرخ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بی بی سی سے کچھ بات کرنا پسند کریں گے۔ پانچوں نے ایک ساتھ ہاتھ ہلا دئیے جس کا مطلب تھا نہیں۔ ان میں سے ایک بہت دیر تک احمد سے عربی میں کچھ کہتا رہا، جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ ہم اس لیئے بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اگر منہ سے برطانیہ، امریکہ یا اسرائیل کے لیئے کوئی فحش کلامی ہوگئی تو اس بے چارے کی نوکری جائے گی اور اسے عربی نہیں آتی۔ احمد نے مجھے مشورہ دیا کہ ان سے بات نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ثنائیہ پارک کے عین وسط میں ایک بڑا سا فوارہ ہے۔ آج کل خشک پڑا ہے۔ اس کے اندر ایک پچاس پچپن برس کی خاتون غالباً اپنے پوتے کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسکے پیچھے چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہی تھیں۔ احمد نے ان سے بات کی۔ وہ اسے کچھ سمجھانے لگیں۔ میں نے مائیکروفون آگے کردیا۔ انہوں نے ہاتھ سے جھٹک دیا۔ احمد نے مجھے بتایا کہ یہ ملکہ برطانیہ پر بڑے غصے میں ہیں۔ میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں یہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی ہیں۔

بیروت پارک
یہاں کے لوگ میڈیا والوں سے بہت تنگ ہیں

اس خاتون نے بھی اپنا نام بتانے سے پرہیز کیا بس یہ بتایا کہ وہ جنوبی بیروت کے علاقے ہرت ہریک میں رہتی ہیں لیکن مسلسل بمباری کے سبب سارا محلہ تقریباً خالی ہو گیا ہے۔

خاتون نے مجھے یہ پیغام ریکارڈ کروایا کہ ’ملکہ الزبتھ کو کہہ دو کہ وہ ٹونی بلیئر کو کیوں لگام نہیں دیتی۔ کیا اسے نہیں معلوم کہ وہ کیا کرتا پھر رہا ہے۔ کیا ملکہ ٹی وی پر مرنے والے بچوں کی تصویریں نہیں دیکھتی۔ اگر اس کے پاس ٹی وی ہے تو رات کو نیند کیسے آ جاتی ہے۔ اور یہ جو بش ہے، میں نے سنا ہے کہ اس کے پاس بہت بڑی ذاتی زمین ہے۔ تو کیا اس کی جاگیر میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر گھس سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اس نے کیسے اسرائیل کو ہماری زمین میں گھسنے، مکانوں کو تباہ کرنے اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دے دی‘۔

اسی ثنائیہ پارک کے ایک کونے میں گھاس کے ایک قطعے پر مجھے چھوٹے چھوٹے بچے ایک دائرے میں بیٹھے دکھائی دئیے۔ ایک سوشل ورکر ماریا ان بچوں کو پڑھاتی ہے۔ ماریا نے بچوں کو کاغذ کی ایک ایک شیٹ اور دو دو رنگین پنسلیں بانٹ دیں

گاؤں کی موت اچھی۔۔
 بس اب میں سوچ رہا ہوں کہ بہت ہوگیا۔ اگلے چند دن اور دیکھوں گا اس کے بعد امن قائم ہویا نہ ہو میری بلا سے۔ میں دوبارہ اپنے گاؤں جاؤں گا۔ اگر شہر میں اسی طرح رہنا ہے تو گاؤں کی موت اس سے بہت اچھی ہے۔
پناہ گزین شخص

دائرے میں زینب بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی عمر بارہ تیرہ برس لگ رہی تھی۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے بنائے ہوئے ایک خاکے میں رنگ بھر رہی تھی۔ کہنے لگی کہ اس نے ٹینک بنایا ہے لیکن اصل میں وہ شپ بنانا چاہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ جو کچھ بھی بنایا ہے اس پر جو جھنڈا لگا ہوا ہے اس پر تو اسرائیلی جھنڈے کی طرح ستارہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تو کیا یہ اسرائیلی شپ ہے۔ زینب نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ کیا یہ اسرائیلی شپ ہے۔ بھائی نے کہا ہاں اسرائیلی شپ ہے۔ لیکن میں نے اس لیئے بنایا ہے کہ میں چاہتا ہوں میرے پاس بھی ایسا شپ ہو۔

اسی دائرے میں ایک بچی کاغذ پرگھر بنانے کی کوشش کررہی تھی۔اس نے بتایا کہ میرا نام دعا ہے۔ میں پانچ سال کی ہوں۔ میں ایلیمنٹری کلاس میں پڑھتی ہوں۔ مجھے اس پارک میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ لیکن ابھی مجھے گھر یاد آرہا ہے۔ میں اپنا گھر بنا رہی ہوں۔

دعا اور دعا کی طرح کے دوسرے بچے ان دنوں ثنائیہ پارک میں بے گھری کا پہلا عملی سبق لے رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جب یہ بڑے ہوں گے تو کس طرح کے بڑے ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد