 | | | امن فوج میں فوجی بھیجنے کے سلسلے میں یورپی ممالک ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوئے۔ |
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ’خطرناک صورتحال‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لبنان میں اقوام متحدہ کی وسیع تر امن فوج کی فوری تعیناتی پر زور دیا ہے۔ پیرس میں بات چیت کے بعد زپی لیونی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قراردار پر عملدرآمد کے لئے وقت گزرتا جارہا ہے۔’وہ لوگ جو اقوام متحدہ کی قراردار کا اطلاق دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔‘ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب برسلز میں یورپی وزرا امن فوج میں فوجی بھیجنے کے معاملے پر مذاکرات کے لئے اکھٹے ہورہے ہیں۔ اسی دوران شام کے صدر بشر اسد نے لبنان شام کی سرحد کے ساتھ عالمی فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی ہے۔ دبئی کے ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں صدر اسد نے کہا کہ سرحد پر فوج کی تعیناتی سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کری گی۔ ’یہ لبنان کی سالمیت کے خلاف اور ایک سخت گیر اقدام ہوگا۔‘ اسرائیل شام پر حزب اللہ کو اسلحہ سپلائی کرنے کا الزام عائد کرتا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک لبنان کا بری اور بحری محاصرہ ختم نہیں کریں گے جب تک اس سرحد پر فوج تعینات نہیں کردی جاتی۔ لبنان میں تعینات کی جانے والی فوج کی تشکیل میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ نے یورپی ممالک کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک مایوس ردعمل پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بہت سے ممالک اس وقت تک اس فوج میں اپنے فوجی بھیجنے پر مکمل طور تیار نہیں ہورہے جب تک اس فوج کا مینڈیٹ خاص طور پر حزب اللہ کا غیر مسلحہ کرنے کا عمل واضح نہیں ہوتا۔ لبنان میں پچھلے دس روز سے جاری جنگ بندی کے دوران پہلے ہی کئی جھڑپیں اور اسرائیل کی طرف سے لبنان کے اندر کمانڈو آپریشن جیسے واقعات ہوچکے ہیں۔ |