لبنان: امن فوج کی جلد روانگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سربراہ کوفی عنان نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں پندرہ ہزار فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ کوفی عنان نے یورپی یونین کے وزراء سے برسلز میں ملاقات کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوج فرانس کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس کا پہلا دستہ اگلے چند دنوں میں لبنان پہنچ جائے گا۔ اس سے پہلے فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا تھا کہ فوجیوں کی اتنی تعداد اتنے چھوٹے علاقے کے لیے بہت زیادہ ہے۔ فوج کو لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت بھیجا جا رہا ہے۔ جمعے کی صبح کو 170 فرانسیسی فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ لبنان کے ساحلی علاقے ناقورہ میں پہنچ گیا ہے۔ یہ دستہ تعمیر نو اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے کام میں ماہر ہے۔ لیکن بی بی سی کے بیروت میں موجود نمائندے کرس مورس کا کہنا ہے کہ اگر امن فوجیں بھیجنے میں دیر کی گئی تو جنگ دوبارہ چھڑ جانے کا خطرہ ہے۔ اسرائیل نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اس وقت تک اپنی فوجیں واپس نہیں بلائے گا جب تک امن فوج اس علاقے میں نہیں پہنچ جاتی۔ اسی اثناء میں یورپی یونین کے خارجہ اور سلامتی کے امور کے سربراہ حاویے سولانا نے اسرائیل کو کہا ہے کہ وہ لبنان کی ناکہ بندی ختم کر دے۔ برسلز میں بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو گا جب اقوام متحدہ کی بڑی فوج جیسے ’یونیفِل 2 ‘ کہا جاتا ہے ’ مضبوط، قابل اعتماد اور چاقو چوبند ہو‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج آدھی سے زیادہ مطلوبہ فوج کا وعدہ کیا گیا ہے جس میں صرف زمینی فوج ہی نہیں بلکہ بحری اور فضائی فوج بھی شامل ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یورپ کے فوجی، امن فوج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں لبنان:اٹلی امن فوج کی سربراہی پر تیار22 August, 2006 | آس پاس لبنان میں امن فوج بڑھانے کی کوشش23 August, 2006 | آس پاس فرانس مزید فوج بھیجنے پر رضا مند 24 August, 2006 | آس پاس عالمی فوج کی فوری تعیناتی پر زور24 August, 2006 | آس پاس ’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘24 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||