’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان کی سرحد کے ساتھ عالمی فوج تعینات کی گئی تو وہ اپنی سرحد بند کردے گا۔ یہ بات فن لینڈ کے وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب سے ہیلسکنی میں ملاقات کے باع کہی ہے۔ اس سے پہلے شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ لبنان کی سرحد کے ساتھ عالمی فوج کی تعیناتی ایک جارحانہ قدم ہوگا۔ عرب ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بشارالاسد نے کہا کہ یہ لبنان کی سالمیت کی خلاف ورزی اور ایک جارحانہ پوزیشن لینے کے مترادف ہوگا۔ صدر اسد نے کہا کہ عالمی فوج کی تعیناتی سے لبنان اور شام کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی۔ ’سب سے پہلے تو یہ لبنان کی سالمیت کی خلاف ورزی ہوگی کیونکہ دنیا کی کوئی بھی ریاست اس وقت تک اپنی سر زمین پر غیر ملکی فوج کی تعیناتی قبول نہیں کرے گی جب تک وہ کسی دوسری ریاست کے ساتھ جنگ کی حالت میں نہ ہو اور دوسرے یہ کہ یہ قدم شام کی طرف ایک جارحانہ قدم تصور کیا جائے گا۔‘ شام کے وزیر خارجہ نے اس بیان کے بعد کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی فوج کو سرحد پر تعینات کیا گیا تو ان کا ملک سرحد بند کردے گا۔ اس بیان سے پہلے اسرائیل کے وزیر خارجہ نے’خطرناک صورتحال‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لبنان میں اقوام متحدہ کی وسیع تر امن فوج کی فوری تعیناتی پر زور دیا تھا۔ دمشق میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل ووس کے مطابق لبنان ایک مرتبہ پھر شام اور اسرائیل کے درمیان پھنسا ہوا نظر آرہا ہے لبنان میں تعینات کی جانے والی فوج کی تشکیل میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ نے یورپی ممالک کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک مایوس ردعمل پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کئی ممالک اس وقت تک امن فوج میں اپنے فوجی بھیجنے پر مکمل طور تیار نہیں ہورہے جب تک اس فوج کا مینڈیٹ خاص طور پر حزب اللہ کا غیر مسلح کرنے کا عمل واضح نہیں ہوتا۔ لبنان میں پچھلے دس روز سے جاری جنگ بندی کے دوران پہلے ہی کئی جھڑپیں اور اسرائیل کی طرف سے لبنان کے اندر کمانڈو آپریشن جیسے واقعات ہوچکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||