 | | | جون ڈرگر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وکیل ہیں |
اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں حقوقِ انسانی کی صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہونے کی انتہائی حدود تک پہنچ چکی ہے۔ جون ڈگرڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بڑی حد تک غزہ کو ایک ایسا ’قید خانہ‘ بنا دیا ہے جسے بند کرنے کے بعد ’چابی بھی کہیں پھینک دی گئی ہو‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکہ، کنیڈا اور یورپ کو بھی اس صورتِ حال کا ذمہ دار قراردیا ہے کینکہ انہوں نے حماس کے حکومت میں آنے کی وجہ سے اس لیئے فلسطینی اتھارٹی کی مالی اعانت بند کر دی ہے کہ حماس اسرائی کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے اس بیان کو غیر حقیقت پسندانہ اور ضرورت سے زیادہ سادگی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جون ڈگرڈ جو فلسطین میں حقوقِ انسانی کے صورتحال پر اقوام متحدہ کے وقائع نگار ہیں، کہتے ہیں کہ اسرائیلی چھاپوں، محاصروں اور انہدامی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں رہنے والی فلسطینیوں تین چوتھائی تعداد امدادی خوردنی اشیاء پر انحصار کے لیئے مجبور ہو چکی ہے۔
 | ایک اسرائیلی سو فلسطینی  ایک اسرائیلی فوجی کے پکڑے جانے کے بعد ہونے والے فوجی حملوں اور بمباری میں ایک سو سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں  |
جنیوا میں حقوقِ انسانی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے جو حالات بتا رہے ہیں اس کے بعد ان لوگوں کے ضمیر کو جاگنے کی زحمت دے گا جنہوں نے چشم پوشی کو عادت بنا لیا ہے اور جنہوں نے فلسطینیوں کو مصائب پر کان بند کر لیئے ہیں۔جون ڈرگر جو جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک وکیل ہیں کہتے ہیں کہ غزہ میں شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک بین السرحدی کارروائی کے ذریعے ایک اسرائیلی فوجی کے پکڑے جانے کے بعد سے حالا ت اتنے بدتر ہوئے ہیں کہ اس پہلے ان کے دور کم از کم کبھی نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے اس واقعے کے بعد سے ہونے والے فوجی حملوں اور بمباری میں ایک سو سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ |