غزہ میں جنگ بندی میں مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگ بندی کا اطلاق صرف لبنان پر ہوا ہے جبکہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے اور تازہ اسرائیلی بمباری میں مزید تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے کچھ ہی دیر بعد عزہ سے دو راکٹ فائر کیے گئے جو کہ اسرائیلی شہر اشکیلون میں گرے لیکن کسی کے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ اسلامی جہاد تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ میزائیل ’فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے جواب میں پھینکے گئے ہیں‘ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بیت حنون کے قریبی دیہات سے یہ میزائیل فائر کیے گئے تھے اور اس جگہ کو نشانہ بنایا گیا ہے اگرچہ فلسطین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شدت پسند وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔ لیکن اس جگہ کے قریب ہی موجود ایک ہی خاندان کے تین افراد اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ اس علاقے سے آنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں نے اسرائیلی فوج کے اس جگہ پر جوابی حملہ کے پیش نظر شدت پسندوں کو بھاگنے میں مدد فراہم کی۔ پچھلے چند ہفتوں سے غزہ فوج کی طرف سے مسلسل اور شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد نہ صرف راکٹ کے حملوں کو روکنا ہے بلکہ اپنے فوجی کارپورال گیلد شالیت کو بھی آزاد کروانا ہے۔
اس فوجی کو حماس اور دیگر گروپوں کے شدت پسندوں نے گرفتار کیا تھا اور اُن کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری اتنے لمبے عرصے تک جاری رہنے والے اسرائیلی فوج کے حملوں کا جواب ہے۔ اس سے قبل فلسطینی حکومت نے جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس فوجی کو ان ہزاروں فلسطینی قیدیوں میں سے چند کے بدلے میں چھوڑا جا سکتا ہے جو کہ اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ ان قیدیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ لیکن اسرائیل کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کر رہا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندوں کی تنظیم ہے جو کہ اسرائیل کی مکمل تباہی چاہتی ہے۔ درجنوں زمینی اور فضائی حملوں میں قریباً 200 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔اس کے علاوہ کئی سو افراد ان حملوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والی افراد میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ جبکہ ایک اسرائیلی فوجی اپنے ساتھیوں کی ہاتھوں غلطی سے مارا گیا ہے۔ ان حملوں میں غزہ کے مواصلاتی نظام خصوصًا سڑکوں، پلوں اور سرکاری عمارات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔
پاور پلانٹ پر فضائی حملے سے بجلی کی شدید قلت ہو گئی ہے جس کے باعث پانی کی فراہمی بھی مشکل ہو گئی ہے اور اس سے غریب اور پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندے جان ڈوگارڑ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ ’اُس نے انسانی حقوق کے بنیادی قوانین توڑے ہیں‘۔ لیکن غزہ کی صورتحال لبنان میں جاری جنگ کے باعث مکمل طور پر نظر انداز ہو رہی ہے۔ یہاں پر رہنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو بین الاقوامی برادری نے نظر انداز کر دیا ہے۔ لبنان میں جنگ بندی کے بعد حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ نے غزہ میں بھی جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہمیں اسرائیل سے بات چیت میں کسی قسم کا مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن یہ طے کرنا اسرائیل کا کام ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق دے سکتا ہے یا نہیں‘۔ غزہ کی سڑکوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کی بعد اسرائیلی فوج دوبارہ اس لڑائی میں زیادہ ذرائع استعمال کرے گی۔ یہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ لبنان میں نقصان کے بعد اسرائیل فلسطین کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ | اسی بارے میں غزہ: اسرائیلی حملہ، سات ہلاک26 July, 2006 | آس پاس ’غزہ میں حالت فاقوں کے قریب‘03 August, 2006 | آس پاس ایم پی اسرائیلی حراست میں07 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی پر عمل درآمد شروع14 August, 2006 | آس پاس لبنان:’قرارداد‘ پر صلاح مشورے 14 August, 2006 | آس پاس غزہ: تین فلسطینی ہلاک14 August, 2006 | آس پاس غزہ پر پھر اسرائیلی حملے15 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||