BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 07:19 GMT 12:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خط، جنرل اور’تار‘

صدر مشرف
صدر مشرف سےخط میں وردی اتارنے کا مطالبہ کیا گیا ہے
پاکستان میں جنرل خط لکھنے پر آ تو جاتے ہیں لیکن خط لکھنے پر واپس نہیں جاتے۔یہ پاکستان کی بازنطینی ون وے فوجی سیاست ہے۔

اور وہ دن بھی گئے جب سمجھا جاتا تھا کہ اگر پنجاب کے عوام کسی حکمران کے خلاف ہو جائيں تو پھر اسے اقتدار سے جانا ہی پڑتا ہے جیسے حبیب جالب نے کہا تھا:
’جگاؤ خطۂ پنجاب کو جگاؤ بھی
اگر وہ جاگ اٹھے تو یہ نوکری سے جائےگا‘

اور حال ہی میں ائر مارشل ریٹائرڈ نور خان جیسے آدمی نے بھی ایسی ہی بات کہی ہے۔ نور خان کی بات سے کچھ روز قبل یا بعد میں جب پاکستان کی فضائیہ کے موجودہ سربراہ نے کہا تھا کہ’پاک فضائيہ کے فائٹر جیٹ بلوچستان میں بھی استعمال کیئے گئے ہیں‘ تو ان سے پوچھا گیا کیا کسی پائلٹ نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے تو ان کا جواب ’نہ‘ میں تھا۔ ایسے پائلٹ تو ’پی اے ایف‘ سے کب کے باعزت ڈسچارج لے گئے تھے! اب جو پیچھے رہ گئے ہیں تو ان کے لیئے کہہ سکتے ہیں ’ تیرے جہے پُت جمن ماواں!‘۔

 اب یہ تو نہیں معلوم کہ اس خط سے باوردی صدر جنرل پرویز مشرف کی کرسی کتنی ہل گئی ہے لیکن ایسی خبروں پرگجرات کے چودھریوں اور سندھ کے وزیرِاعلی ارباب رحیم کو اپنی کرسیاں ہلتی نظر آتی ہیں۔

اور اب پاکستان کے باوردی صدر جنرل پرویزمشرف سے ملک کی اٹھارہ چیدہ شخصیات نے وردی اور عہدۂ صدارت میں سے ایک کا انتخاب کرنے، فوج کو سیاست سے علیحدہ رکھنے، دو ہزار سات کے آئندہ مجوزہ انتخابات نگران حکومت کے تحت کرانے کے مطالبات کیئے ہیں۔

’سول سوسائٹی فورم‘ نام کے پلیٹ فارم سے ایسے خط کے بقلم خود دستخط کنندگان شخصیات میں اکثریت ان جنرلوں کی ہے جنہوں نے بنفس نفیس ملکی تاریخ میں ایسے کارنامے کیئے ہیں جو وہ نہ کرتے تو پاکستان میں صحیح معنوں میں جہموریت کب کی آ چکی ہوتی۔

ان حضرات میں سے صرف جنرل حمید گل اور اسد درانی کو ہی لے لیجیئے۔ یہ جو آج پاکستان کے اندر ’آئی ایس آئی‘ اور اس کا نام نہاد ’سیاسی ونگ‘ جمہوریت و دستور کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ریاست کے اندر ایک اور ریاست بنی ہوئی ہے اس کا سہرا بھی انہی کے سر ہی جاتاہے۔ دن رات ایسی وہ کون سی جمہوری حکومتوں کے خلاف ہونے والی سازشیں تھیں جن میں انہوں نے حصہ نہیں لیا ہوگا؟

 وقت کے چور قدموں کے آوازیں کہہ رہی ہیں کہ انہیں ایسے خط کو تار (ٹیلیگرام) سمجھ کر پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کوئی جاوید ہاشمی کا خط تو ہے نہیں کہ وہ برا منائیں اور اسے’ بغاوت‘ سمجھ لیں!

جنرل حمید گل نے ہی بطور آئی ایس آئی کے سربراہ ملک میں پیپلز پارٹی کے خلاف مذہبی، سیاسی اور کچھ قوم پرست اور دیگر چھوٹے بڑے سیاسی گروپوں کا اتحاد ’ آئي جے آئی‘ بنوایا جس کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کو انیس سو نوے کے انتخابات میں شکست دلوانا تھا اور جس کے لیئے انہوں نے اور اس وقت ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل اسد درانی نے مبینہ طور پر ملکی خزانے کے کروڑہا روپے آئی جی آئی میں شامل جماعتوں اور ان کے سربراہوں کے حوالے کیئے۔

ملکی خزانے کی ایسی بندر بانٹ نما لوٹ مار میں نواز شریف اور جماعت اسلامی سے لے کر غلام مصطفی جتوئی اور سندھ میں کچھ قوم پرستوں سمیت عوامی تحریک کے اسماعیل راہو تک شامل ہیں۔

ائر مارشل اصغر خان (یہ اور بات ہے کہ انہوں نے بھی جنرل ضیا ءالحق کو خط لکھ کر بھٹو حکومت کے خلاف فوجی مداخلت کی اپیل کی تھی) نے اس بندر بانٹ کے خلاف ایک آئينی پٹیشن داخل کر رکھی ہے لیکن اس درخواست کی شنوائی آج تک آگے نہیں ہو سکی ہے۔ افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ تب سے پاکستان کی ایسی از غیبی لیکن منفی قوتیں ان کے اور ان کے خاندان کے درپے ہیں۔

 یہ سارے عقاب ’میٹامورفیسس‘ کے عمل سے گزر کر پاکستان میں آمریت کی طویل رات میں جمہوریت کی فاختائيں بن گئي ہیں تو اچھی بات ہے۔

بہرحال، عرض کیا کہ تاریخ میں توبہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، جنرل ضیاء بھی ’ضمیر کا قیدی‘ بن سکتے تھے، سات چوہے کھا کر بلیاں بھی حج کو جاسکتی ہیں یا نہیں لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں ریٹائرڈ جنرلوں اور ان جیسی دوسری ’فارغ‘ سویلین شخصیات کا (سوائے پروفیسر حسن عسکری رضوی کے) جمہوریت پسند بن جانا یقیناً ’دیر آید بہ درست آید‘ والی بات ہے۔

چاہے ان میں شامل جنرل معین الدین حیدر ہی کیوں نہ ہوں جو سندھ پر ایسی گورنری کرتے تھے جیسے ہندوستان پر وائسرائے حکومت کرتے تھے۔ اب یہ سارے عقاب ’میٹامورفیسس‘ کے عمل سے گزر کر پاکستان میں آمریت کی طویل رات میں جمہوریت کی فاختائيں بن گئي ہیں تو اچھی بات ہے۔

مجھےحیرت، ناقابل یقینی صرف بابائے جہاد و جاسوسیت جنرل حمید گل کے راتوں رات جمہوریت نواز بن جانے پر ہے۔ اس خط میں ایک نام کی کمی ضرور نظر آ رہی ہے اور وہ ہے ریٹائرڈ جنرل جہانگیر کرامت کا۔ یا تو انہوں نے ایسے خط پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہوگا یا پھر انہیں مستقبل میں، بقول واشنگٹن کے پاکستانی صحافیوں کے،’ کوئي اعلٰی ذمہ داری سونپی جانے والی ہے‘۔

صدر مشرف کو لکھے گئے خط کا عکس

اب یہ تو نہیں معلوم کہ اس خط سے باوردی صدر جنرل پرویز مشرف کی کرسی کتنی ہل گئی ہے لیکن ایسی خبروں پرگجرات کے چودھریوں اور سندھ کے وزیرِاعلی ارباب رحیم کو اپنی کرسیاں ہلتی نظر آتی ہیں۔

جنرل مشرف تو پاکستان میں ایک مختلف اور دور دراز سیارے پر رہتے ہیں اور سکاچ سے بھی زیادہ طاقت کے نشے میں انہیں اپنے ان پیٹی بھائيوں کے خط کا ایسا نفسِ مضمون برا لگے گا اور محمد علی درانی جیسے ملا دو پیازے کی باتیں ان کے کانوں کو شہنائي لیکن وقت کے چور قدموں کے آوازیں کہہ رہی ہیں کہ انہیں ایسے خط کو تار (ٹیلیگرام) سمجھ کر پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کوئی جاوید ہاشمی کا خط تو ہے نہیں کہ وہ برا منائیں اور اسے’ بغاوت‘ سمجھ لیں!

ذرا اپنی قوت تخیل کو آزمائيے! بلوچستان پر پاک فضائيہ کے بمبار طیارے بمباری کر رہے ہیں، حکومت کے ہر غلط کام کو صحیح ثابت کرنےکی سرتوڑ کوشش میں بے پر کی اڑانے والے وزیر محمد علی درانی ہوں اور ملک میں از غیبی لیکن منفی قوتیں اپنے ہی عوام کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں تو حالات یقیناً انیس سو اکہتر سے ستر گنا بڑھ کر ہی لگ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
’مشرف وردی اتار دیں‘
23 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد