BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موہن جو دڑو کا دوسرا آدمی

انور پیرزادو
’زندگی دور بہت دور لے جاتی ہے، اشک شوئی تو کوئی بات نہیں ہے جانی‘
وہ ہمیشہ میری اس بات پر ہنسا کرتا کہ سندھی مرد اپنی آدھی عمر ماں کی گود میں اور باقی آدھی عمر بیوی کی گود میں گزار دیتا ہے اور میں اس کے اس گیت پر رو دیتا جس پر جی ایم سید بھی رودیے تھے ’اے چاند بھٹائی سے کہنا جس رات میں تو نے گیت کہے وہ رات ابھی بھی جاری ہے‘ اس گیت کا خالق، شاعر، آوارہ گرد ، کھوجنا کار، حسن و عشق اور دھرتی کا عاشق انور پیرزادو مرگیا۔ مجھے ایسے لگا پانچ ہزار سالہ پرانی سندھ میں موہن جو دڑو ایک دفعہ پھر مر گیا ہے۔

وہ بہت ہی خوبصورت آدمی اور سندھی زبان میں شاید اگر آخری نہیں تو دو چند ترقی پسند (ترقی پسندی سے میری مراد کوئی ’رٹیر یا حاضر سروس سرخا‘ نہیں) شاعروں میں سے ایک تھا۔

لطیفہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ بغل میں سرخ رنگ کا رجسٹر لیے قبرستان کے راستے پر بیٹھ جاتے اور وہاں سے گزرتے ہوئے جنازے میں شریک لوگوں سے مرنے والے کا نام پتہ پوچھتے اور اسے رجسٹر میں درج کرتے وہ اس کی قبر کو تاڑ جاتے اور اگلے روز اس مرنے والے کی قبر پر چاگنگ ہوئی ہوتی کہ ’کامریڈ عبدالسلام پر سرخ سلام‘ کامریڈ عبدالسلام صوم و صلواۃ کے بڑ ے پابند اور انقلاب کی کاز سے بڑے کمیٹیڈ تھے‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہی فیض احمد فیض، پئبلو نردوا، شیخ ایاز اور انور پیرزادو جیسے شاعروں سے بھی ہوا ہے۔ بدقسمتی یاخوش قسمتی سے شاہ لطیف اور بلھے شاہ یا نجم حسین سید ہیں اور کمیونسٹوں کے بجائے مریدوں نے ان کا گھیرا کیا ہوا ہے۔ اگر کمیونسٹ ہونا آدمی کے اچھے شاعر ہونے کی ضمانت ہوتی تو پھر پاکستان میں پروفیسر جمال نقوی اور کلکتہ میں کامریڈ کاشی رام عظیم شاعر ہوتے۔

خون کی لکیر
 ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی تحریک کے دنوں میں اس نے اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ’آج روہڑی شہر میں دکانوں سے برف اٹھا دی گئی اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی شاہراہ پر پگھلتی برف کے پانی کے ساتھ خون کی بنتی ایک لکیر دیکھی
شیخ ایاز تب بھی بڑے شاعر تھے جب دہریے تھے تب بھی جب بمائل مذہب ہوگئے تھے-
’شاہ بھٹائی!
شاعری کے دیوتا
میں نہ تیرے پاس کوئی بیٹا مانگنے آیا ہوں
نہ میں کوئی منت ماننے
میں تیرے پاس مری ہوئی سندھ کی لاش لے کر آیا ہوں
اسے پھر سے زندہ کردے‘ انور پیرزادو کا ایک شعر ہے۔

کل میں نے ’موہن جو دڑو کے آدمی‘ یعنی سوبھوگیانچندانی کو انور کی میت پر کسی ماں کی طرح بین کرتے دیکھا۔ اے کاش بھٹائی تو مری ہو‎ی سندھ کے اس شاعر کو پھر سے زندہ کرسکتا!

سوبھو گیانچندانی کو اس کی ’شانتی نکیتین‘ کے دنوں میں مہا کوی ٹیگور ’مین فرام موہن جو ڈارو‘ کہہ کر پکارتے تھے تب بھی جب کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں تحقیق کرنے والے ایک بنگالی ماہر آثار قدیمہ مسٹرموجمدار کو سندھی ڈاکوؤں نے قتل کیا تھا۔

میں انور کو دوسرا ’موہن جو دڑو کا آدمی‘ کہتا۔
انور نہ صرف موہن جو دڑو سے ایک کوس پر پیدا ہوا تھا بلکہ وہ موہن جو دڑو کی گلیوں میں کھیلتے کھیلتے بڑا ہوا تھا اور اس نے شاید اپنی نوخیز جوانی کی پہلی ’تاریخ‘ بھی اسی موہن جو دڑو کی کسی چاندنی میں بھگتائي تھی۔

اس نے اپنے بچپن میں گرمیوں کی ایک کڑکتی دوپہر سکول سے واپسی پر اپنے گاؤں کے قریب جس انگریز کو کھبڑوں(سندھ، جنوبی پنجاب کا ريگستانی درخت' کھبڑ' جس پر پر رنگ برنگے جنگلی میوہ پیلوں پکتے ہیں) کے جھُنڈ تلے اپنا پسینہ سکھاتے دیکھا تھا وہ ’انگریز‘ عظیم برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر مارٹیمر ویلر تھے۔

مجھے خاصی حیرت ہوتی ہے جب ایک غلط العام کے طور پر لوگ موہن جو دڑو اور سندھو دریا پر قائم اس کے گاؤں بلہڑیجی کو پتہ نہیں کیوں ’لٹل ماسکو‘ کہتے ہیں! جیسے کراچی کو ’منی پاکستان‘ اور وہاں ہر پختون بستی کو ’سہراب گوٹھ‘ کہا جاتا ہے! بلہڑیجی تو ایک حسین گاؤں ہے کنارۂ سندھو جہاں ہرآدمی شاہ لطیف کی شاعری کا حافظ ہے اور انور بھی تھا۔

کورٹ مارشل
 انور نے چٹگانگ سے سندھ یونیورسٹی میں ایک سابق ساتھی لیکچرر اشوک کمار (پاکستان کا پہلا ’لاپتہ‘ جو انیس سو تہتر سے اب تک ’لاپتہ‘ ہے) کو خط لکھا تھا کہ پاک فوج کس طرح بنگالیوں کا قتل عام کررہی ہے اور وہ خط پکڑا گيا تھا
ماسکو میں تو انسان کی روح خفیہ پولیس کےجی بی اور مافیا نے قبض کی ہوئی تھی۔ اس حساب سے تو آج کے پورے وطن عزیز پاکستان عرف انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان کو کل کا ’لٹل ماسکو‘ کہا جا سکتا ہے۔

وہ بڑا محبت باز اور میلے باز شخص تھا- میلہ منگھوپیر کا ہو کہ امریکہ کی وسکانسن ریاست میں ’رنائسنس فیئر‘ وہ نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ موہن جو ڈرو کی اینٹ اینٹ اور ہر اسٹوپا کو اپنی انگلیوں کے پوروں پر جانتا تھا جیسے وہ اپنی دل اور ہتھیلی کی پشت پر شاہ جو رسالو کی سطر سطر ازبر یاد رکھتا تھا-

انیس سو اکہتر میں انور کی ماں دریا پار دربیلو (نوشہرو فیروز ضلعے میں) مخدوموں کی ایک خاتون پیر کے پاس گئي کہ ان کا بیٹا (انور) جیل میں ہے دعا کریں کہ وہ آزاد ہوجائے تو پیر خاتون نے انور کی ماں کو بتایا کہ ان کی دعا کیا کام کرے گي جبکہ ان کا اپنا نواسہ زاہد مخدوم (اب کینیڈا میں پراونشل جج) بھی جیل میں ہے۔ انور تب پاکستان ایئر فورس کے پائلٹ افسر کے طور پر کورٹ مارشل ہوکر سات سال کی سزا کاٹ رہے تھے-

انور نے چٹگانگ سے سندھ یونیورسٹی میں ایک سابق ساتھی لیکچرر اشوک کمار (پاکستان کا پہلا ’لاپتہ‘ جو انیس سو تہتر سے اب تک ’لاپتہ‘ ہے) کو خط لکھا تھا کہ پاک فوج کس طرح بنگالیوں کا قتل عام کررہی ہے اور وہ خط پکڑا گيا تھا-

زاہد مخدوم جیکب آباد میں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے خلاف ایک پمفلٹ لکھنے اور چھاپنے پر گرفتار ہوئے تھے۔ بنگالیوں کے ساتھ سندھیوں (سوائے بھٹو کے) کا عشق بہت پرانا ہے۔

انور سے میری پہلی ملاقات غالباً انیس سوستر کی دہائی کے آخری سالوں میں ہوئی جب سندھی ادبی سنگت پنوعاقل میں انور کے ساتھ شام منا رہی تھی- وہاں سیف بنوی ، سبحان میمن، زاہد مخدوم اور گھنشیام پرکاش ہوتملانی بھی تھے- اب وہاں فوجی چھاؤنی ہے۔

پہلی ملاقات تک میرے لیے انور ایک دیو مالائي کردار تھا جسے نظریاتی کٹھ ملاؤں نے ایک راکشس کے طور پر بتایا ہوا تھا کہ وہ ’اردو کی فلاں مشہور شاعرہ کے ساتھ ننگا سو رہا تھا۔ چرس پیتا ہے وغیرہ وغیرہ‘۔ نظریاتی کٹھ ملاؤں نے اس کی محبوبہ پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا۔

انور میں ایک شاعرکا دل اور صحافی کی آنکھ تھی۔ ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی تحریک کے دنوں میں اس نے اپنے اخبار میں رپورٹ کیا ’آج روہڑی شہر میں دکانوں سے برف اٹھا دی گئی اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قومی شاہراہ پر پگھلتی برف کے پانی کے ساتھ خون کی بنتی ایک لکیر دیکھی‘-

انور نے لکھا ’یہ لکیر بڑی دور تک جائے گي‘۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں اسے سکھر سینٹرل جیل میں نظربند رکھا گیا۔ اگرچہ اس کے کچھ شعر اس کا منظوم سیاسی موقف لگتے تھے لیکن اس نے اپنے فن کو سیاسی نظریات پر کبھی کمپرومائيز نہیں کیا:
مثلاً:’کراچی کا بنگلہ
’جھرمر جھرمر لان
نیلا سوئمنگ پول
الیکٹرک گٹار کی تان
محنت کش بنائے
سرمایہ دار اور اس کا کتا اپنائے‘۔

یا
مجھ کو تیری ساڑہی کا پلو نہيں چاہییے
مجھ کو میرے اشک بہائے واپس دے
تو اپنے دل والوں سے
مل والوں سے خوش رہے
بس سدا خوش رہے۔

یا پھر:

بس صرف میرا گاؤں افریقہ میں ہے
باقی سارا ملک یورپ لگا پڑا ہے۔

مجھے تو اس کی یہ سطر مار گئی تھی:

’زندگی دور بہت دور لے جاتی ہے
اشک شوئی تو کوئی بات نہیں ہے جانی‘-

وہ بڑا مہم جو تھا- اپنے دو اور خفتی دوستوں بدر ابڑو اور منظور مارفانی کے ساتھ دادو کے پہاڑی سلسلوں کی چوٹیوں پر ’کتے کی قبر‘ نامی علاقے، رنی کوٹ، لاہوت لامکان اور کاچھو کے دور دراز مقامات اور اٹک سے ٹھٹہ تک دریائے سندھ کو پار کرتا تو کھبی نگر پارکر میں کارونجھر جبل کے بھیدی اور بھیچی نواز علی کھوسو سے مجالسیں کرتا تو کھبی سکرنڈ میں میرے دوست منیر شاہ کے ساتھ آوارہ گردیاں۔

وہ سندھ کے پتے پتے اور ہر ٹھوٹھے ٹھانگر اور بڑی بات کہ انسان کا عاشق تھا۔ اسے چرس شراب کی بہتات نے نہیں مارا پر اس کے جواں سال بیٹے اور بیوی کی موت نے اسے اکیلا کر کے مار دیا۔ میری اس سےآخری ملاقات دو ہزار ایک میں ہوئي تھی جب وہ امریکہ آیا تھا۔

اس نے مجھ سے کہا تھا ’سندھ تمہیں بہت یاد کرتی ہے‘۔ یہ دو جلاوطن لوگوں کی ملاقات تھی جن میں سے ایک اپنے ہی وطن میں جلاوطن تھا- دو ماہ قبل بیمار پڑنے پر اس نے خود کو ’ڈینگی وائرس‘ کے شبہ میں کراچی میں لیاقت نیشنل میموریل ہسپتال میں داخل کروایا اور اس کی بیماری پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص اور اس کی موت پر منتج ہوئی۔ ’ڈاکٹر تاریخ کی نابین روحیں جن کو نفرت سے بھٹائي نے کہا تھا ’اندھے اوندہے وید‘-

میں نے سوچا تھا جب وہ روبصحت ہوکر آئے گا میں اس سے مذاق کرونگا کہ اب تم کہو گے کہ لیاقت میموریل ہسپتال کا نام بدل کر ’بھٹائی میموریل ہسپتال‘ رکھا جائے! لیکن یہ دوسرا موہن جو دڑو کا آدمی مرگیا- وہ یقیناً سندھ اور پاکستان جیسے ملک میں ان لوگوں میں سے تھا جو وہاں سینکڑوں میں بھی نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں
’ایک پاپولر لطیفہ‘
18 December, 2006 | قلم اور کالم
’وہ آیا، چھایا اور قتل ہوگیا‘
20 September, 2006 | قلم اور کالم
گمنام سپاہیوں کا نوحہ
12 November, 2006 | قلم اور کالم
’سندھی اور پنجابی کا میل‘
10 December, 2006 | قلم اور کالم
’بس یہ ہے میرا عراق‘
31 December, 2006 | قلم اور کالم
’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو
04 January, 2007 | قلم اور کالم
’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘
23 November, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد