BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 September, 2006, 07:19 GMT 12:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہ آیا، چھایا اور قتل ہوگیا‘

ایک عام سا کھلنڈرہ نوجوان جو اپنے لوفرساتھیوں کے ساتھ کراچی کی دیواریں سرخ رنگتے تھے
کسی نے اسے ’دہشتگرد شہزادہ‘ کہا، کسی نے ’جلاوطن شہزادہ‘ تو کسی نے اسے’بھٹو کا پگدار بیٹا‘۔

میر مرتضٰی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا کردار تھا جس کے لیئے کہا جا سکتا ہے ’وہ آیا، چھایا اور قتل ہوگیا‘۔


ایک ایسا ملک جہاں کارکن لیڈروں پر جان دیتے ہوں لیکن یہ کیسا لیڈر تھا جس نے اپنے کارکنوں پر جان دی۔

اس کا نام پاکستان کے سیاسی مقتولوں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔

اسے مبینہ طور پر پاکستان کی فوج نے مروایا یا اس کی اپنی بہن کی حکومت میں آصف علی زرداری نے؟ ان سوالوں کے جوابات شاید ہی کبھی مل سکیں لیکن اس کے کارکن آج بھی نعرہ لگاتے ہیں: ’جو قتل ہوا وہ بھٹو ہے‘۔

پاکستان میں بھٹوز کینیڈیوں اور گاندھیوں کی طرح جیتے اور مرتے ہیں۔ بہت سے امریکی مرے ہوئے کینیڈیوں اور بہت سے پاکستانی مرے ہوئے بھٹوز سے محبت کرتے ہیں۔

رومانویت پسند اور سیاسی یاسیت پسندوں کے لیئے برصغیر میں ستمبر اور اپریل کے مہینے بڑے معنی لیئے ہوئے ہیں۔ اپریل، جس میں بھٹو کو پھانسی ہوئی، اور کہتے ہیں ستمبر میں اودھ میں واجد علیشاہ جیسے حمکران کا زوال ہوا۔

مرتضی بھٹو دارشکوہ جیسا کردار تو نہیں تھا لیکن بینظیر بھٹو اپنے انداز حکومت سے اورنگزیب ضرور لگتی تھیں۔ یہ بھٹو بہن بھائی اور ان کی طرفدار ماں اقتدار کی سیاست میں آپس میں ایسا لڑے تھے جیسے موروثی تخت پر لڑ رہے ہوں۔ ضیاء الحق کے ساتھ لڑتے لڑتے بہت سے لوگوں کے اندر ایک چھوٹا ضیاء آکر بیٹھ گیا۔

گولی سے نہیں بچائے گا
 ’تم سمجھو گے کہ یہ کوئی تعویذ ہے- ایسی کوئی بات نہیں کہ اسے پہننے کے بعد گولی اثر نہیں کرے گی
مرتضی بھٹو

اس کے بچپن کے سنگی ساتھی اسے ’سپیڈی‘ کہا کرتے۔ طویل قد قامت، حسین و وجیہہ جوان مرتضی بھٹو جو ’بڑے بھٹو‘ کی طرح بولتا اور چلتا تھا- ’ہی ٹاکس اینڈ واکس لائیک بھٹو‘، بہت سے لوگ اسےدیکھ کر کہا کرتے- وہ ظالم پولیس والوں، نوکر شاہی اور آصف علی زرداری اینڈ کمپنی کو جیل میں بند کرکے چابی دریا میں پھینک دینے کی بات کرتا تھا۔ بھرے جلسوں میں قمیض پھاڑ کر پھینک دیتا۔ یہ وہ ڈرامے تھے جو، کسی نے کہا: ’بینظیر ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتی تھی۔‘

وہ ضیاءالحق سے لے کر بینظیر بھٹو کی دوسری مرتبہ انیس سو ترانوے کی خزاں میں حکومت سنھبالنے تک پاکستان میں سب سے زیادہ مطلوب اور خطرناک ٹھہرایا جانے والا شخص تھا- بینظیر بھٹو کی بیس ماہ کی پہلی حکومت ختم کرنے کو جو خفیہ نام دیا گیا تھا وہ ’مرتضی بھٹو آپریشن‘ ہی تھا۔

بینظیر
بھٹو بہن بھائی اقتدار کی سیاست میں آپس میں ایسا لڑے جیسے موروثی تخت پر لڑ رہے ہوں

یہ ایک عام سا کھلنڈرہ نوجوان تھا جو اپنے بگڑے شہزادے ٹائپ لوفرساتھیوں کے ساتھ کراچی کی دیواریں سرخ رنگتے رہے تھے۔ یہ انیس سو ستر کی دہائی کا کراچی اور پاکستان تھا۔ کلب، چکلہ، شراب سب کچھ عوامی اور عام جام تھا۔

ان کی کمپنی میں سے ایک اکبر بگٹی کا بیٹا ریحان بگٹی بھی تھا جو مبینہ طور کئي سال قبل ’اوورڈوز‘ کی وجہ سے مرگیا۔ سبک مجید جیسا کردار بھی مرتضی کے بچپن کا دوست تھا-

اسے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو نے پہلا سیاسی سبق انیس سو ستر کے انتخابات میں پڑھایا تھا جب اسے اپنے ساتھ الیکشن ورک پر لاڑکانہ لے کر گئے تھے- ’پکے حر اور کچے حر‘ کی اصطلاح اسے بھٹو نے اپنے آبائی حلقے میں موجود پیر پگاڑو کے عقیدت مندوں کی بسنے والی ایک بڑی تعداد کے بارے میں بتائی تھی جب ان میں سے بہت سوں نے پیر پگاڑو کے عقیدت مند ہوتے ہوئے بھی ووٹ بھٹو کو دینے کا وعدہ کیا تھا جنہیں بھٹو ’کچے حر‘ کہا کرتے۔

دوسرا سیاسی سبق اسے بھٹو نے یہ دیا تھا کہ اسے انہوں نے ستر کے انتخابات کے بعد راولپنڈی میں جنرل حمید اور جنرل پیرزادہ کے پاس کوئی ’پیغام‘ دے کر بھیجا تھا-

عام سا نوجوان
 یہ ایک عام سا کھلنڈرہ نوجوان تھا جو اپنے بگڑے شہزادے ٹائپ لوفرساتھیوں کے ساتھ کراچی کی دیواریں سرخ رنگتے رہے تھے۔

مری کانونٹ، کراچی گرائمر سکول اور ہارورڈ جیسے اداروں میں پڑھنے گیا- جب ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے بھٹو اور اس کی کابینہ کے ساتھیوں کو ’حفاظتی حراست‘ میں لیا تو یہ ہارورڈ سے گرمیوں کی چھٹیوں پر پاکستان آیا ہوا تھا۔

لاڑکانہ کے لوگوں کو اب بھی یاد ہے کہ انہوں نے اس کی پہلی سیاسی جھلک بھٹو کے آبائی حلقے میں انیس سو ستتر کی کارنر میٹنگوں میں دیکھی تھی-

’ہم سب دوپہر کی نیند کر رہے تھے جب ایک برگیڈیئر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا اور اس نے بابا سے کہا کہ سر! ہم آپکو اپنی تحویل میں لینے آئے ہیں۔ بابا ہم سب سے گلے مل کر گئے اور پھر میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ اپنی گرفتاری کے بعد انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میر! تم ملک سے باہر چلے جاؤ‘ میر نے ذوالفقار علی بھٹو کی ستمبر انیس سو ستتر میں دوسری بار گرفتاری کے بارے میں مجھے ایک انٹرویو میں ’المرتضی‘ لاڑکانہ میں بتایا تھا-

زرداری
آصف زرداری نے اپنی مونچھیں بھی منڈوالیں تھیں

وہ انیس سو چورانوے میں محرم کی دس تاریخ تھی اور ڈھول تاشوں میں عاشوروں کا جلوس المرتضی سے گزر رہا تھا- ہم اس وقت جن کپوں میں چائے پی رہے تھے ان پر ’بی بی‘ (بینظیر بھٹو) کے الفاظ کنندہ تھے-

اپنی گرفتاری کے بہت دنوں بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کال کوٹھری سے لکھا: ’میرے بیٹے میرے بیٹے نہیں ہوں گے اگر وہ ان کا خون نہیں پیئیں گے جو میرا خون بہانے کی جسارت کررہے ہیں‘۔

اب مرتضی اور بھٹو خاندان کے باقی افراد کے لیئے حالات اور زندگی یکسر الٹا پلٹا کھا گئے تھے۔ سندھی کہتے ہیں ’ایک سورج دو ساۓ‘۔ جسے فیض نے ’کوۓ یار سے نکلے تو سو‌ئے‎ دار چلے‘ کہا تھا-

بھٹو کی جان بچانے کے لیئے بھٹو بردران اور ان کے دوستوں جام صادق علی، غلام مصطفی کھر، اور نیر ڈار نے لندن کو اپنا مرکز بنایا تھا۔ پاکستان سے سب کہتے تھے ضیاءالحق بھٹو کو پھانسی دلوا ہی نہیں سکتا- اور بھٹو کو بھی بہت دنوں تک ایسا ہی یقین تھا۔ اسی ضیاء الحق نے دنیا کے تمام رہنماؤں کو باور کرایا تھا جن میں متحدہ عرب امارات کے شیخ زید بن سلطان، تنظیم آزادیِ فلسطین کے یاسر عرفات اور لیبیا کے معمر قذافی بھی شامل تھے- بھٹو کے ان تینوں دوست عرب رہنماؤں نے بھٹو برادران کی مالی، سیاسی اور اخلاقی مدد بھی کی- بھٹو برادران کو آخر وقت تک یقین تھا کہ فلسطینی چھاتہ بردار آئيں گے اور راولپنڈی جیل سے بھٹو کو رہا کرواکر اڑا کر لے جائيں گے۔

لیکن مرتضی بھٹو اس ’فلسطینی پلان‘ کی اصل حقیقت کچھ یوں بتاتے تھے کہ لندن کے ایک ایئرپورٹ پر ایک شخص تب تہمینہ درانی کے لیئے ’ملتانی مٹی‘ لایا تھا جسے منشیات سمجھ کر روکا گیا اور لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیئے بھیج دیا گیا تھا-

کچھ عرصہ قبل مجھے نیر ڈار نے بتایا تھا کا شاہنواز بھٹو لندن میں اپنے شروع کے دنوں میں بم کی جھوٹی اطلاع دینے پر گرفتار بھی ہوئے تھے۔

بھٹو کو بالا آخر پھانسی ہوئی اور اس کے انتقام اور ضیاء الحق کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف بھٹو برادران نے بھی دہشتگردی کا ہی راستہ اپناتے ہوئے ’الذوالفقار‘ جیسی تنظیم قائم کی اور پھر باقی تمام تاریخ ہے-

بھٹو بردران کے ہاتھوں پر صرف ضیاء نواز لوگوں اور ایجنٹوں کا خون نہیں پر اپنے دوستوں اور لوگوں کا خون لگا ہوا بھی کہا جاتا تھا۔

میرے بیٹے نہیں۔۔۔
 اپنی گرفتاری کے بہت دنوں بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کال کوٹھری سے لکھا: ’میرے بیٹے میرے بیٹے نہیں ہوں گے اگر وہ ان کا خون نہیں پیئیں گے جو میرا خون بہانے کی جسارت کررہے ہیں‘

مجھے کسی زمانے میں میر کے ایک جیالے نے بتایا تھا کہ کوئی ڈیڑہ سو کے قریب نوجوان اس کے لیئے لڑنے گئے تھے جو پاکستان افغانستان سرحد پار کرتے پاکستانی ایجینسیوں کے ہتھے چڑے اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا- ان کے آخری دنوں تک ستر کلفٹن میں ان نوجوانوں میں سے کئی کے والدین اور گھر والے آکر مرتضی بھٹو سے اپنے گمشدہ بیٹوں اور پیاروں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے- ایسا بھی ہوا کہ مرتضی کی حکم عدولی پر الذوالفقار کے کئی کارکنوں کو زبردستی دھکیل کر پاکستانی سرحد پار کروائی گئی یا افغان جاسوس ایجنسی خاد یا پولیس کے ہاتھوں پل چرخی جیل بھجوایا گیا-

متشدد سیاست کی راہ چننے والے میر مرتضی بھٹو کی زندگي کا اختتام بھی تشدد پر ہی ہوا لیکن یہ شاید کوئی کبھی نہ جان سکے کہ وہ پولیس کی گولی سے ہلاک ہو‎ئے یا اپنے ہی کسی ’ساتھی‘ کی گولی سے۔

پیر پگاڑو نے ایک دفعہ کہا تھا ’اتنے لوگ الذوالفقار میں مرتضی بھٹو کے نہیں جتنے سرکاری ایجنسیوں کے ہوں گے‘۔

بھٹو
’مرتضی بھٹو جو ’بڑے بھٹو‘ کی طرح بولتا اور چلتا تھا‘

انہیں اپنی بہن کے دور حکومت میں اپنے گھر سے چند سوگز کے فاصلے پر بظاہر ایک ’پولیس مقابلے‘ میں مارا گیا- متعلقہ تھانے کلفٹن کے ایس ایچ او حق نواز سیال کی مبینہ ’خود کشی‘ کے مبینہ ڈرامے سے پاکستان کے اس ایک اور ہولناک ڈرامے کا پردہ گرادیا گیا۔

ایک پولیس افسر کے اردلی نے ان کی خون میں رنگي ہوئی وہ پینٹ بھی دھو ڈالی جس پر ڈرامائی طور پستول کی ایک گولی کا سوراخ تھا- دوسرا پولیس افسر واجد علی درانی اسی کراچي میں خفیہ ایجنسی ’سپیشل برانچ‘ کا سربراہ ہے۔

میر کی کراچي میں شام کے ایک نئے اردو اخبار کے مالک کے ساتھ بڑی گاڑہی چھنتی تھی- اس حد تک کہ لوگ سمجھنے لگے تھے کہ وہ اخبار شاید ہے ہی میر مرتضی کا- اسی اخبار کے فوٹو گرافر نے مڈ ایسٹ ہسپتال میں میر مرتضی کی آخری ہچکی کی جو تصویر بنائی تھی اس سے اخبار کا ضمیمہ اور دوسری شام کی اشاعت ہزاروں میں بکے تھے۔ اس دن اس اخبار کے مالک نے فوٹو گرافر سے کہا ’مٹھائی تم کھلا رہے ہو کہ میں کھلاؤں‘۔

’یہ آپ نے گلے میں کیا پہنا ہوا ہے‘ میں نے اس عرب یا پٹھان لگتے ہوئے اس کے کھلے بٹنوں کی قمیض سے جھانکتے ننگے سینے پر کسی جانور کی کھال اپنی گردن کےگرد کالے دھاگے میں پہنے ہوئے مرتضی بھٹو سے میں نے پوچھا تھا۔ ’تم سمجھو گے کہ یہ کوئی تعویذ ہے- ایسی کوئی بات نہیں کہ اسے پہننے کے بعد گولی اثر نہیں کرے گی‘-

جہازمکتوبِ امریکہ
ائرپورٹ نہ ہوئے، پير پگارو کی درگاہ ہوئی
ہیرو اور اینٹی ہیرو
بھٹو میں منصور اور میکاولی ساتھ رہتے تھے
عید میلا النبی’وہ دن اور تھے‘
نشتر پارک دھماکے پر حسن مجتبیٰ کا کالم
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
بینظیر بھٹو اور نواز شریف ’وعدوں کے جفادار‘
’چارٹر آف ڈیمو کریسی‘ کے جنم پر حسن مجتبیٰ
پاکستان میں صحافت
سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنا: حسن مجتبٰی کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد