| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرتضیٰ کےساتھی علی سنارا قتل
کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ شب فائرنگ کر کے دو افراد کو قتل اور دو کو زخمی کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی میر مرتضٰی بھٹو کے انتہائی قریبی ساتھی تھے اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ کراچی سے نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ کراچی میں جنوبی ضلع کے علاقے کھارا در میں پیش آیا جب نا معلوم افراد نے ایک دکان پر فائرنگ کر دی۔ مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور ان کی فائرنگ سے میر مرتضٰی بھٹو کے قریبی ساتھی علی سنارا ہلاک ہوگئے۔ ان کے علاوہ ایک اور شخص بھی مارا گیا جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ کراچی میں ڈی آئی جی آپریشنز طارق جمیل نے بتایا کہ یہ واردات سوچی سمجھی تھی اور مرنے والوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصل نشانہ میر مرتضٰی بھٹو کے ساتھی علی سنارا ہی تھے۔ علی سنارا ماضی میں سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے محافظوں میں شامل تھے لیکن بعد میں وہ میر مرتضٰی بھٹو کے ساتھ مل گئے اور ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ جب انیس سو چھیانوے میں علی سنارا کو پولیس نے گرفتار کیا تو مرتضٰی بھٹو نے اس تھانے پر ہلہ بول دیا تھا جہاں ان کے اس ساتھی کو رکھا گیا تھا۔ تاہم اس واقعہ کے چند ہی دن بعد خود میر مرتضٰی بھٹو اپنے گھر کے پاس مبینہ طور پر ایک پولیس مقابلے میں اپنے کچھ ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ مرتضٰی بھٹو کی ہلاکت کے بعد سے علی سنارا جیل میں تھے اور انہیں پچھلے سال رہا کیا گیاتھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||