’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وطن عزیز جہاں اغوا برائے تاوان ایک صنعت کا درجہ حاصل کرچکی تھی وہاں اب ’اغوا براۓ گمشدگی‘ کی وارداتیں ریاستی ہنر و حرفت کا اعلیٰ نشان بن چکی ہیں۔ ’باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم۔۔۔۔‘ اس ریاستی ہنر و حرفت کی تازہ واردات صحافی دلاور خان وزیر کا پراسرار غازیوں اور بندوں کے ہاتھوں پراسرار اغوا اور پھر ایک جنگل میں سے ان کی بازیابی ہے جسے دیکھ کر بندہ ’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘ کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر دم بخود دہشت زدہ ہی رہ جا سکتا ہے! دلاور خان وزیر کی کلائی مروڑ کر پر اسرار غازیوں اور بندوں کا پیغام کوئی فارسی میں نہیں بلکہ عملی طور بی بی سی والوں کو ہی ہے کہ لاپتہ پاکستانیوں پر پروگرام کرنیوالے بھی لاپتہ افراد کی طویل فہرست میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ یقین کریں کہ پیارے پاکستان کو وہ حکومت نہیں چلارہی جو موجود اور ظاہر ہے بلکہ اسے ایسے جن پریت اور بھوت چلارہے ہیں جو دیکھنے میں نہیں
اگر صورتحال اس طرح نہ ہوتی تو حکومت اور اسکے وزیر داخلہ، جو کہ خود بھی ’مشرف بہ مشرف‘ ہونے سے پہلے پراسرار طور کئی دنوں غائب بتائے گئے تھے، دلاورخان وزیر کی گمشدگی پر اپنی لاعلمی کا اظہار نہ کرتے- اور اس قاتل ادا کا کیا کہیئے کہ حکومت دلاور خان وزیر کے اغوا یا گمشدگی کی مذمت بھی کررہی ہے۔ ’وہ قتل کرے ہے کہ کرامات کرے ہے‘۔ کتنے سادہ معصوم اور بیچارے اور بے خبر ہیں یہ بظاہر دکھائی دینے والی حکومت کے وزیر، مشیر و سفیر! اس سے اتنے بےخبر کہ جیسے دلاور خان کے ’آرٹ آف دی سٹیٹ‘ اغوا کنندگان مریخ کی مخلوق اور اس واردات میں استعمال ہونیوالی گاڑی اڑن طشتری ہوئی! شیروں کی حکومت ہے اور جنگل کا قانون ہے، جبھی تو دلاور خان وزیر کو اٹھانے والے انہیں جنگل میں ہی چھوڑ گئے۔ یہ شیر چیرنے پھاڑنے والے وحشی درندے نہیں۔ خاکی رنگت یا اس رنگ میں رنگے ضرور ہیں لیکن ہیں "اعتدال پسند،
مشرف، مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت سب کے سب اب صوفی ہیں اور ان کی نظر اب بری امام کے تکیے پر ہے۔ رکھوالوں کی نیت بدلی گھر کے مالک بن بیٹھے احمد فراز کی آواز ہر دور کی حکومتوں کے لیے درویش کا اپنی جوتی میں بھیجا ہوا رقعہ ہے۔ دلاور خان وزیر خوش قسمت ہیں کہ ریاستی اغوا کندگان کے ہاتھوں ایک ڈیڑھ دن کی ’تفتیش و تحویل‘ ( اسلام آباد کے ایسے ’سیف ہاؤسز‘ کو مستقبل کا مؤرخ کنسنٹریشن کیمپ لکھے گا کہ نہیں!) سے زندہ و سلامت واپس آئے ہیں، لیکن لاپتہ پاکستانیوں کا تاہنوز کوئی پتہ نہیں جو مہینوں اور سالوں سے اغوا کر کے گم کردیئے گئے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد دلاور خان وزیر کی طرح اپنے گھر کے راستے جاتے ہوئے یا گھروں پر سے اغوا یا گرفتار کیے اور پھر گم کردیئے گئے۔ منیر مینگل، صفدر سرکی،آصف بالادی اور کئی دوسرے لوگ۔ ان سب کے اٹھائے جانے اور پھر یرغمال رکھے جانے کے طریقہ ہائے واردات وہی ہیں جو قانونی طور اغوا جیسے فوجداری جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ بشکریہ مرحوم صدر اسحاق خان اس جرم کے ارتکاب کو آصف زرداری کی وجہ سے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے قابل سزائے موت بنایا گیا تھا- آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور دیگر خفیہ ایجینسیوں کے اہلکار صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کو ایسے اٹھاتے ہیں جیسے اغوا برائے تاوان کے
ڈاکو اپنے مغویوں کے زندہ و سلامت ہونیکی کسی نہ کسی طرح اطلاع ان کے ورثاء کو تو دے ہی دیتے ہیں، لیکن ایجینسیوں والے یہ بھی نہیں کرتے۔ اغوا برائے تاوان کے کی وارداتوں سے حاصل کردہ کمائي پر تو پاکستان کے بہت سے سینیٹروں اور ممبران اسمبلی نے گذشتہ تیس سال سے انتخابات لڑے اور اپنے گھر چلائے ہیں، لیکن اغوا برائے گمشدگی والے گروہوں کی کارروائیوں کے باوجود جنرل مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان ’بنانا اسٹیٹ‘ نہیں، تو کیا پھر یہ گاجر مولی ریاست ہے، وائلڈ ویسٹ ہے یا دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ، لاطینی امریکہ کا ایل سیلواڈور ہے کہ کولمبیا؟ اغوا برائے گمشدگی میں ملوث ایجینسیوں کی ایسی کارروائیوں کا دفاع یا جرم کے بارے میں معلومات ہوتے بھی اس سے لاعلمی اعانت جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن پھر کیا کوئی آئین کے اغوا سے بھی ’ہائی پروفائيل‘ جرم ہو سکتا ہے؟ | اسی بارے میں کسی کے پاس جواب نہیں 21 November, 2006 | پاکستان مختار مائی کی کتاب کی پذیرائی16 November, 2006 | قلم اور کالم ’خفیہ اداروں سے ٹکر نہ لینا‘25 October, 2006 | پاکستان گیدڑان نیم شب اور مگن لال26 August, 2006 | قلم اور کالم خط، جنرل اور’تار‘27 July, 2006 | قلم اور کالم لاپتہ پاکستانی: بی بی سی ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان ’ہاتھ میں ہتھکڑی، سر کےپیچھےگولی‘18 June, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||