گیدڑان نیم شب اور مگن لال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پتہ نہیں آپ نے نوٹ کیا ہو یا نہیں؟ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ پاگل کا ریل کا سے بڑا رشتہ ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کو کافی پاگل آپ کے شہر کے سٹیشنوں کے اردگرد بھی دیکھنے میں آئیں گے۔ آدمی کتنا بھی پاگل ہو لیکن اسے پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں فلاں سٹیشن سے فلاں ریل پر بیٹھ گیا تو وہ مجھے فلاں شہر جاکر اتارے گی۔ وہ شہر ’سجن کا گاؤں‘ (غالباً تھر ایکسپریس کی لائين پر) یا وہ ’راجہ کی ریل‘ بھی ہو سکتی ہے۔ جب ہندوستان پاکستان بنا تو فقط ملک ہی نہیں ٹوٹا، بڑے دل بھی ٹوٹے تھے اور دماغ کسی بھونچال تلے آئی ہوئی دھرتی کی طرح پھر کبھی سیدھے نہ رہے۔ منٹو نے تو ایسے پھرے ہوئے دماغوں کی فقط ایک کہانی 'ٹوبہ ٹیک سنگھ' لکھی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ میں آج شوکت عزیز کے خلاف، جنہیں بہت سے لوگ پیار میں ’شارٹ کٹ عزيز‘ بھی کہتے ہیں، قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جانب سے لائي گئی تحریک عدم اعتماد پر لکھوں گا لیکن پھر میں منٹو کے ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے ہی کردار مگن لال کے بارے میں لکھنے لگا جس نےپاکستانی ریل کی پٹریوں پر مبینہ طور ریل کا انجن ’دماغ کا میٹر گھوما ہوا‘ ہونے کے باوجود کوئي ایسا ویسا چلالیا! جیسے شاید ہی کوئی ہمارے حکمران ملک چلاتے ہوں۔ پھر سوچا شوکت عزیز تو بینظیر بھٹو بھی نہیں جس کے خلاف ’مڈنائيٹ جیکالز‘ عرف ’گیدڑان نیم شب‘ کوئی دن دہاڑے سازش کریں۔ ایم کیو ایم کا ہاتھ پکڑ کر آرمی کا چیف نواز صدر مملکت کی فرزندگی میں دے دے۔ اسامہ بن لادن نواز شریف کو عورت کی ’نجس‘ حکومت گرانے کیلیئے مالی مدد کی پیشکش کرے! گھوڑوں کے کاروبار میں سب اپنے ہاتھ کالے کریں۔ حزب مخالف کے اراکین مری کی سیر کریں تو عدم اعتماد کے یرغمالی بن کر حکومت کے اراکین جھل مگسی کی ایک حکومتی ایم این اے تب کی حزب مخالف کے پیسے کھا جائيں اور ’محترمہ‘ کہیں اچھا کیا۔ مخدوم خلیق الزمان اور سید قربان علیشاہ ایم این ایز بغاوت کردیں جسے میرے دوست حیسن شاہ بخاری نے ’پارلیمانی کو دتا‘ کہا تھا اور جیالے نعرے لگائیں ’جتوئی کھر در بدر‘۔ فاٹا کے اراکین اخروٹ کے درختوں کی طرح بکیں، عرب شیخ سردار غلام محمد مہر سے بنظیر بھٹو کی حمایت کرنے کی سفارش لائیں اور لندن میں سالہا سال سے جلاوطن دانشور اور سیاسی نظریات دان قادر بخش نظامانی اکبر بگتی کو منانے چلے آئیں۔
تحریک عدم اعتماد کیا تھی؟ بس جیسے کہتے ہیں نا کہ رنڈیاں ناچیں تھیں اور بکریاں ذبح ہوئی تھیں۔ ’گیدڑان نیم شب‘ یا مڈنائٹ جیکالز‘ کی تمام سازشوں اور مسٹر ٹین پر سینٹ کرپشن کے باوجود بینظیر بھٹو جنیوئنلی جیت گئی تھیں اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہار گئی تھی۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ لیکن اس موسیقی کے شوقین اور کسی اچھے براڈ کاسٹر کا گلہ لیئے ہوئے برے بینک منیجر شوکت عزیز کے خلاف، جنہیں وزارت عظمٰی فوجی سلامتی کے عوض عطا ہوئی ہے، تحریک عدم اعتماد پر کیا لکھا جائے۔ کیا ان کے موجودہ دور حکومت کو اس روسی ناول کا عنوان ہی دیا جائے ’ہایو دی سٹیل مل واز ٹیمپرڈ؟‘ یہ تو ایک ٹھیکے میں ملا ہوا ملک ہے۔ اگر پاکستان میں موجودہ دور حکومت کی کارگردگی کو ایک عام اور سادہ لوح عوام کے نفع نقصان میں دیکھا جائے تو اس کی سب سے کریہہ مثال حالی روڈ حیدرآباد کے مگن لال کا گھر ہے۔ جا بجا در و دیوار سے جھانکتی ہانکتی ہوئی بھوک اور مفلسی جس میں مگن لال نے اپنا روزگار اور دماغ کھویا اور اس کے گھر والوں نے اسے ذہنی امراض کے ہسپتال گدو بندر میں داخل کروایا۔ مگن لال گدو بندر سے بھاگ گیا۔ مگن لال اور اس کا خاندان اتنا غریب اور بے پھونچ تھا کہ دوسری بار اسے گدو بندر میں داخلہ بھی نہ مل سکا تھا۔
گدو بندر بھی ریل کی پٹری کے ساتھ ہی ہے۔ دو تین مہینوں بعد مگن لال کو اس کے محلے اور گھر والوں نے پولیس تحویل میں اس الزام میں دیکھا کہ وہ کراچی کے قریب لوکو شیڈ میں پٹری پر چالو حالت میں کھڑا ریل کا انجن اغوا کرکے بھاگ نکلا۔ مبینہ طور پر مگن لال نے چالو حالت میں کھڑا ہوا ریل کا انجن اس وقت اغوا کیا جب اسے ڈرائیور اور فائر مین پٹری پر کھڑا کر کے چائے پینے گئے تھے۔ پاکستانی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں پولیس نے کہا ہے کہ گدھا گاڑی چلانے والے مگن لال نے ’دوران تفتیش‘ بتایا کہ اس نے ریل گاڑی کا انجن چلانا ’خدا کے حکم سے سیکھا‘۔ مگن لال کی پاکستان جیسے ملک میں بدقستی یہ ہے کہ وہ ہندو ہے اور پولیس برسہا برس سے حیدرآباد سندہ کے حالی روڈ پر رہنے والے اس مخبوط الحواس مگن لال کو ’ہندوستانی حیدرآباد کا شہری‘ بتا رہی ہے اور ممکنہ ’بھارتی ایجنٹ‘ بھی! پاکستان ریلوے کا چالو حالت میں پٹری پر سے کھڑا ہوا انجن لے کر اڑنے کا الزام لگائے جانے والے اس مخبوط الحواس شخص سے کوئی بڑا حادثہ بھی ہوسکتا تھا یا یہ صرف حالات سے ’کھسکے ہوئے‘ ایک شحض کی جوائے رائڈ بھی ہو سکتی تھی! مگن لال سب کچھ ہو سکتا تھا لیکن ’دہشتگرد‘ بھارتی ایجنٹ، یا مذہبی جنونی نہیں (جو پاگل پن سے بھی زیادہ خطرناک ذہنی حالت ہے)۔ میں سوچ رہا ہوں ہمارے جیسے ملکوں میں ریل کے وزیر لالو پرساد اور شیخ رشید، وزیر اعظم شوکت عزیز، اور غیر ذمہ دارانہ حالت میں کھڑے ہوئے انجن لے کر اڑنے والے گدو بندر سے بھاگے ہوئے مگن لال ہوتے ہیں! | اسی بارے میں گیارہ ستمبر: پہلی وڈیو دیکھیں16 May, 2006 | آس پاس گیارہ ستمبر: پہلی وڈیو ٹیپ ریلیز16 May, 2006 | آس پاس مسلمان ’فاشِسٹوں` کے خلاف جنگ:بش10 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس القاعدہ: کب، کیا اور کیسے22.12.2001 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||