BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک پاپولر لطیفہ‘

مشرف
’صدر مشرف انیس سو نوے کی دہائی والے ماڈل ڈکٹیٹر ہی ہیں‘
پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے دنوں میں ان پر بہت سارے لطیفے بنے تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اکثر ایسے لطیفے پاکستان میں سیاسی قیدیوں نے جیلوں میں ہی بنائے تھے۔

ضیاء الحق کے دنوں میں ان پر ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ ایسے لطیفے جب خود جنرل ضیاء کے کانوں تک پہنچے تو انہوں نے ملٹری انٹیلیجنس اور آئي ایس آئی کو حکم دیا کہ تحقیقات کرکے ان پر لطیفے بنانے والے شخص کا کھوج لگاکر اسے انکے سامنے حاضر کیا جائے۔

آخر کار آئی ایس آئی نے لطیفے بنانے والے ایسے سیاسی قیدی کو انکے آگے پیش کیا ’سرلطیفے بنانے والا ملزم حاضر ہے۔‘

جنرل ضیاء نے اپنے ’ملزم‘ سے پوچھا: ’تمہیں مجھ پر لطیفے بنانے کی جرات کیسے ہوئی۔ تمہیں معلوم نہیں کہ میں پاکستان کا پاپولر لیڈر ہوں؟‘

لطیفے بنانے والے نے کہا ’بہرحال یہ لطیفہ میں نے نہیں بنایا۔‘

لگتا ہے پاکستان کے موجودہ باوردی صدر جنرل پرویز مشرف کے پاکستان کے ’مقبول ترین لیڈر‘ ہونے والا لطیفہ جس نے بھی بنایا ہے کیا خوب بنایا ہے۔

بینظیر اور نواز شریف
جائزے کے مطابق صدر مشرف اپنی مقبولیت میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں
بہت دنوں بعد جبر کے ایسے موسم میں پاکستان کے لوگوں کو بقول شخصے بغیر فل سٹاپ کے ہنسنے کا موقع ملا ہے۔ وہ دن گئے جب پاکستانی لوگوں کیلیے بقول شخصے ’آنیوالے کو تالی جانے والے کو گالی۔‘

پاکستان میں ابتک ہر حکمران جو بھی آیا وہ ’رانا بولا‘ عرف عام مقبول بلکہ مقبول ترین ہی بنکر آیا ہے۔ بلکہ پہلے وہ مقبول ہوتا ہے حکمران بعد میں بنتا ہے۔ آپ نے انڈین فلم مقبول تو دیکھی ہی ہوگي۔

اسکندر مرزا، ایوب خان، یحیٰی خان، بھٹو، ضیاءالحق، بینظیر بھٹو، نواز شریف یہ جو بھی گزرے ہیں اپنے اقتدار کے آخری دن تک مقبول ہی بنے ہوئے تھے۔ نواز شریف تو اپنی کرسی کے روز آخر تک اتنے مقبول تھے کہ انہوں نے سندھ پر پولیس کا سربراہ بھی ’مقبول‘ نام کا ہی مقرر کیا ہوا تھا۔ لاہور میں پلاٹوں سے لیکر کراچی میں چیف آف آرمی سٹاف کی گرفتاری کے ’پلاٹ‘ تک سب میں آئی جی مقبول کا نام لیا جاتا ہے۔

اور نواز شریف حکومت پر ایک الزام ’رانا بولا‘ کی سربراہی میں پولیس تشدد کے ذریعے آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے کی کوشش کا بھی تھا۔ اب معلوم نہیں کہ آخر آصف زرداری کی زبان جیسے عضو سے ایسے کونسے گناہ سرزد ہوئے تھے۔ یا یہ مقبول حکمرانوں کی اپنی تخیل کی پرواز تھی۔ شکارپور کے تو ایک لیڈر کا نام ہی مقبول شیخ ہے۔

امریکی غیر سرکاری ادارے آئي آر آئی کی طرف سے پاکستانیوں میں ایسے جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف اپنی مقبولیت میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔

پنوشے
بہت عرصہ پہلے کئي سالوں تک جنرل پنوشے کو بھی ’چلی کا پاپولر رہنما‘ لکھا جاتا رہا تھا
اب شاید وہ پاکستانی محکمہء ڈاک سے اپنی تصویر والا ٹکٹ بھی جاری کروائيں جو بھی انکے جتنا ہے مقبول جائے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان میں محکمہء ڈاک کے صارفین اب ٹکٹوں سمیت ڈاکخانے میں اپنے تمام امور بغیراپنی ’لعاب مبارک‘ کے ہی کے پورے کرتے ہوں گے۔ خاص طور نسوار اور ڈاک کے صارفین کرام ایک ساتھ۔

جنرل ضیاءالحق تو اپنے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیلی ویژن پر اپنی ’قوم سے خطاب‘ کے دوران لکھی ہوئي تقریر کے اوراق الٹتے ہی انگلیوں کو اپنے منہ سے تھوک لگا کرتھے۔

حقیقت تو یہ ہے ایک طرح بینظیر بھٹو ہو یا نواز شریف انہی مقبول بنانے کا کریڈٹ جانا ہی جنرل ضیاء اور مشرف کو چاہیے۔ ’ہم کو دعائيں دو تمہیں قاتل بنادیا۔‘ کیونکہ نہ یہ پاکستان کے عوام سے پولو کھیلتے اور نہ ہی بینظیر بھٹو اور نواز شریف اپنی دو دو تین تین بار اپنی ’پاپولر حکومتیں‘ پاکستانی عوام کو بھگتوانے کے بعد بھی ابتک ’پاپولر لیڈر‘ بنے ہوتے۔ خير یہ لطیفہ تو کسی نے بھی نہیں بنایا یہ ایک المیہ ہے۔

طربیہ تو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف انیس سو نوے کی دہائی والے ماڈل ڈکٹیٹر ہی ہیں۔

مشرف کیطرح کئي حکمران اپنے اقتدار کے آخری دنوں تک بہت پاپولر بتائے گئے تھے۔ شہنشاہ ایران اور چلی کے ڈکٹیٹر جنرل آگسٹو پنوشے بھی۔ کیا جنرل مشرف ان سے بھی زیادہ ’پاپولر‘ ہیں۔ آخری دن تک صدام حسین بھی عراق میں پاپولر بتائے جاتے تھے۔ شہنشاہ ایران تو اتنے پاپولر تھے کہ ملک چھوڑنے پر انکا ایک جنرل انکے بوٹ کو بوسہ دینے لگا تھا۔

پاکستان کے پاپولر فیلڈ مارشل ایوب خان کی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرس‘ تو اب ردی میں بھی نہیں بکتی۔

تاریخ عوام اور انکی گردن پر سوار ڈکٹیٹروں سے بڑے پاپولر لطیفے کیا کرتی ہے۔
دیوار برلن کے ٹوٹنے کے بعد کمیونسٹ مشرقی جرمنی کے حکمران ہونیکر کو پنوشے کی چلی میں پناہ لینا پڑی تھی۔ پنوشے کی موت پراخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں بس دو کالمی خبر تھی جسکی سرخی تھی: ’چلی کے عوام پر دہشت سے راج کرنیوالا ڈکٹیٹر چل بسا‘ اور پھر اس خبر کی پہلی تھی: ’بدعنوانی اور انسانی حقوق کے پائمالی کے حوالے سے چلی کا بدنام ڈکٹیٹر جنرل آگسٹو پنوشے نہیں رہا۔‘

میں سوچنے لگا بہت عرصہ پہلے کئي سالوں تک اسی جنرل پنوشے کو بھی ’چلی کا پاپولر رہنما‘ لکھا جاتا رہا تھا۔

گمنام سپاہیگمنام سپاہی
درگئی خود کش حملے پر حسن مجتبیٰ کا کالم
حسن مجتبیٰ’غائبستان ریپبلک‘
دلاور خان وزیر کے اغوا پر حسن مجتبیٰ کا کالم
’سندھی، پنجابی میل‘
زبانیں قومی حیثیت منوا چکی ہوتیں اگر۔۔
غلام اسحاق خان’گونگا پانی‘
اسحاق خان کی شخصیت پر حسن مجتبیٰ کی تحریر
کانگریس’کرپٹ کانگریس‘
امریکی انتخابات پرحسن مجتبی کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد