BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 October, 2006, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسماعیل خیل کا گونگا پانی

غلام اسحاق خان
غلام اسحاق خان محکمہ آبپاشی میں چھوٹی موٹی ملازمتوں سے ہوتے ہوئے وفاقی سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے
’بینک دولت پاکستان غلام اسحاق خان‘ یہ الفاظ میں نے بچپن میں پاکستانی روپے کے نوٹ پر دیکھے جب وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر تھے۔

’بس یار! غلام اسحاق خان غلام اسحاق خان ہے‘ میرے سوال پر ایک پختون نے کہا تھا۔

ایک ایسے طاقتور اور بڑے عہدے والے شخص نے اپنے ملک کےلیئے کیا کیا ہوگا، اگر یہ جاننا چاہیں تو صوبہ سرحد میں بنوں کے قریب انکے گاؤں اسماعیل خیل جاکر دیکھیں جہاں انکے دور اقتدار تک وہ ایک ایسا پسماندہ سا گاؤں تھا جیسے پاکستان کے اکثر گاؤں ہوتے ہیں۔

اسلامیہ کالج پشاور میں برسر اور محکمہ آبپاشی میں چھوٹی موٹی ملازمتوں سے زینہ بہ زینہ وہ وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر پہنچے۔ خاموش طبع، پتھرایا چہرہ اور آپ نے شاذ ونادر ہی انہیں مسکراتے یا ہنستے ہوئے دیکھا ہوگا۔ بلکل ساکت لیکن خاموش پانی کیطرح۔ جیسے سندھی میں کہتے ہیں ’گونگا پانی ڈبو دیتا ہے‘۔ اپنے سیویلین وزیر اعظموں کےلیئے غلام اسحاق خان ایسے ہی ’گونگے پانی‘ ثابت ہوئے۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں سیکرٹری دفاع تھے۔ جب انکی حکومت کا تختہ جنرل ضیاء الحق نے الٹاتو سازشی نظریہ دان کہتے ہیں کہ بھٹو حکومت کے یہ دواہم عہدیداروں -- آئی ایس آئی کے جنرل جیلانی اور غلام اسحاق خان -- نے جاکر ضیاء الحق کو بتایا تھا کہ چار جولائی سے قبل بھٹو انکو (ضیاء لحق ) اور کچھ دیگر سینئرجنرلوں کی گرفتاری کا حکم جاری کرنے والے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ضیاء حکومت میں جنرل جیلانی پنجاب کے گورنر اور غلام اسحاق خان وزیر خزانہ اور بعد میں سینٹر منتخب ہوکر سینیٹ کے چیئرمین بنے۔

’صدر مملکت کا جہاز پزا میں پٹ گیا‘ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے ہوائی حادثے میں موت کا اعلان غلام اسحاق خان نے ان لفظوں میں کیا تھا۔

انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں قدرے اکثریت سے جیت کر آنیوالی بینظیر بھٹومرکز اور صوبوں میں اپنی حکومت بنانے کی اہلیت ثابت کرنے کےلیئے غلام اسحاق خان سے ملاقاتیں کرتی رہیں اور پاکستانی اسٹیبلشمینٹ نے کچھ پس وپیش کے بعد انہیں حکومت بنانے کی اجازت دی۔ بینظیر بھٹو نے غلام اسحاق خان کو بطور صدر مملکت اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بطور وزیر خارجہ جہیز میں لینے کی حامی بھرلی تھی۔

اس سیویلین وزیر اعظم کے پاس نہ صرف نیوکلئير بم اور افغان پالیسی کی ایریاز میں اختیارات نہیں تھے بلکہ تب سندہ کے معاملات پر بھی ان سے زیادہ طاقتور آئی ایس آئی یا ایم آئی کے کرنل تھے۔

یہ شیر اور بکری کے ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے کی بات نہیں تھی بلکہ سیاسی طوا‎ئف الملوکی اور فوجی تانہ شاہی گلے مل رہی تھی۔ جنرل اسلم بیگ کی سینے پر تمغہء جمہوریت سجانےکےلیئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو بیتاب تھیں۔

جب وہ ایوان صدر کے پانچویں منزل پر صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں حلف اٹھانے آئی تو جیالوں نے ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے لگائے تھے تو پہلی اور دوسری صفوں میں بیٹھے ہوئے جرنیلوں کی استری خراب ہوئی یا نہیں لیکن ان میں بہت سوں کے ماتھوں پر سلوٹیں ضرور دیکھنے میں آئی تھیں۔

بعد میں ایوان صدر میں جیالوں کے ایسے ’چھچھورے پن‘ کو صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے اعلان والی اپنی تقریر میں ’جرائم پیشہ افراد ایوان صدر میں دندناتے پھرتے تھے‘ سے تعبیر کیا۔

’مردے کو نہلایا گیا ہے اب اسے صرف دفن کرنا باقی ہے‘ یہ پاکستان کے صدر کی تقریر تھی یا جمہوریت کے گورکن کی۔

لیکن بینظیر بھٹو حکومت نے نوبزادہ نصراللہ جیسے جمہوریت پسند رہنما کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو پارلیمان سے منتخب کروانے کو ترجیح دی۔

پیپلزپارٹی اقتدار کے مزے لوٹنے چاہتی تھی۔ غور کریں کہ اگر لوگوں کو گیارہ سال بند رکھا جائے، کوڑے مارے جائيں اور گیارہ سال بعد چھوڑ کر سیدھا اسلام آباد لایا جائے پھروہ تو وہی کریں گے جو انہوں نے اپنی بیس ماہ کی حکومت میں کیا۔

غلام اسحاق خان نے بنظیر بھٹو اور زرداریوں سے ناراض جام صادق علی کو سندہ کا وزیر اعلیٰ اور اپنے داماد عرفان اللہ مروت کو وزیر داخلہ بنوایا۔ جام اور مروت نے گسٹاپو طرز سی آئی اے کراچی کے ذریعے سندہ میں ایک طرح کا غنڈہ راج قائم کیے رکھا۔

جام جب بھی غلام اسحاق خان سے مخاطب ہوتے تو انکو ’بابا‘ اور خود کو اکثر ’سندہ کا ایس ایچ او‘ بتاتے۔ تصور کریں کہ کراچي سے لوٹی ہوئی کاریں سی پی ایل سی (سٹیزن پولیس لائزان کمیٹی) نے ایوان صدر میں اور بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی دوست وینا حیات اور پیپلز پارٹی کے کارکن کے بیوی خورشید بی بی سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام مروتوں اور انکی سی آئی اے پولیس کراچی پرآیا تھا۔ وہی سی آئی اے کا بدنام زمانہ ڈی آئی جی سمیع اللہ مروت کلو بعد میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اہم عہدیداربنایا گیا۔ صدر غلام اسحاق خان اپنے دامادوں کے معاملے اورانکے اور اپنے سیاسی مخالفوں سے برتاؤ میں قطعاً دیانتدار نہیں تھے۔ وگرنہ سردار شوکت حیات کا اپنی بیٹی سے زیادتی پر انکو لکھا ہوا خط انکی شرمساری کیلیےکافی تھا۔

جام صادق علی نے حبیب جالب کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لنچ پر بلایا تھا اور کھانے کی میز پر ان سے کہنے لگے کہ ’جالب صاحب آپ یہاں سب کو گالی دے سکتے ہیں سوائے صدر غلام اسحاق خان کے کیونکہ یہاں انکا داماد بیٹھا ہے۔‘
شاید انکا واحد اچھا کام جنرل حمید گل کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر ترقی دینے سے انکار کرکے جنرل آصف نواز کی تقرری تھا۔

بینظیر بھٹو کی قیادت میں حزب مخالف کے اراکین نے صدر غلام اسحاق خان کے مشترکہ پارلیمان سے خطاب کے دوران ’گو با با گو‘ کے نعرے لگا کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا لیکن اسی غلام اسحاق خان، فوج اور اسکی ایجینسیوں کی ایما پر نواز شریف حکومت کیخلاف اسلام آباد لانگ مارچ کیا تھا۔ اس موقع پر پولیس کی لاٹھیاں کھانے والوں میں فاروق لغاری بھی شامل تھے جنہوں نے بعد میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت برطرف کی۔

نواز شریف کے حمایتی ارکانِ قومی اسمبلی سے ایوان صدر کے ذریعے پس پردہ استعفے دلوائے تھے۔ نواز شریف کیمپ کے جن ارکان اسمبلی نے سب سے پہلے جاکر صدر غلام اسحاق خان سے ملاقاتیں کی تھیں ان میں فاٹا کے حاجی قدیر گل اور سندہ کے موجودہ وزیر اعلیٰ ارباب رحیم شامل تھے۔

غلام اسحاق خان نے تقریباً من وعن اسی چارج شیٹ پر نواز شریف حکومت برطرف کی جن الزمات کے تحت انہوں نے بینظیر بھٹو حکومت ختم کی تھی۔

وہی آصف علی زدرادی جن پر انہوں نے پی پی پی حکومت کے خاتمے پر کرپشن کے الزمات لگائے تھے انہیں جیل سے رہا ئی دلواکر بلخ شیر حکومت میں نگران وزیر کا حلف اٹھوایا تھا۔

نواز شریف حکومت کی برطرفی کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا جس سے اختلاف رکھنے والے جسٹس سجاد علی شاہ نے ’لاڑکانہ اور لاہور کے وزیر اعظم میں فرق‘ سے تعبیر کیا تھا۔

بہرحال سپریم کورٹ سے بحالی حکومت پر نواز شریف اور انکے درمیاں اختلافات شدید تر ہوجانے کے بہانے فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ کی مداخلت پر نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کو جبراً استعفے دینے پڑے تھے۔

تب سے صدر غلام اسحاق خان پبلک سے پرے رہتے آئے تھے۔ وہ کچھ عرصہ تک اخبار فرنٹئیر پوسٹ سے وعدے پر اپنی یادداشتیں بھی قلمبند کرتے رہے تھے جن پر مبنی کتاب کی اشاعت فرنٹیئر پوسٹ کیطرف سے ہونی تھی۔ لیکن اخبار فرنٹئیر پوسٹ کے مالک رحمت شاہ آفریدی، جنہوں نے غلام اسحاق خان کے صدارتی انتخابات میں انکی کافی مدد بھی کی تھی، کے جیل جانے اور سزا ہونے کے بعد انکی کتاب کھٹائی میں پڑ گئی۔

غلام اسحٰق خانغلام اسحٰق خان
غلام اسحاق خان خاموشی سے چلے گئے
غلام اسحاق خان ’عوامی آدمی نہیں‘
غلام اسحاق خان کی غیر مقبولیت
ایک ملامتی بزرگ
ولی خان کو بھارتی ایجنٹ اور غدار کہا جاتا رہا
جمالی اور شجاعت حسینجمالی کا آنا اور جانا
جمالی کیوں جانے پر مجبور ہوئے؟ ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد