BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 October, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غلام اسحاق خان کی زندگی

غلام اسحٰق خان
غلام اسحٰق خان اپنی تمام خوشیاں، اداسیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں اپنے ساتھ لے کر چپ چاپ چلے گئے
غلام اسحاق خان بیس جنوری انیس سو پندرہ کو بنوں کے علاقے اسماعیل خیل میں پیدا ہوئے۔انہوں نے پشاور سے کیمسٹری اور باٹنی کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

انیس سو پچپن میں جب ون یونٹ کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔

انیس سو اکسٹھ میں پانی و بجلی کے وسائل کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور انیس سو پینسٹھ تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔

بطور سکریٹری خزانہ بھی وہ اتنے بااثر تھے کہ بیس دسمبر انیس سو اکہتر کی جس تصویر میں شکست خوردہ یحیٰ خان ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کررہے ہیں اس تصویر میں تیسرے آدمی غلام اسحاق خان ہیں جو اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط کروا رہے ہیں۔

بھٹو حکومت کی تشکیل کے بعد غلام اسحاق خان انیس سو پچہتر تک گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔

اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع کا قلمدان دے دیا گیا۔اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہےاور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔

انیس سو ستتر میں جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا کے ایجنڈے میں معاونت کی۔

ساتویں صدر
 پیپلز پارٹی کی طاقت کو بیلنس کرنے کے لیے غلام اسحاق خان کی آنکھوں کے سامنے آئی ایس آئی کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک قوت بھی کھڑی کردی گئی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا۔اور ڈیل کے تحت غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے دسمبر اٹھاسی میں نواب زادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتویں صدر منتخب ہو گئے
ان کا شمار اہم پالیسی امور پر ضیا الحق کی کچن کیبنٹ میں ہوتا تھا۔جب انیس سو چوراسی کے اواخر میں غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بحالی جمہوریت کا محدود اور محتاط عمل شروع ہوا تو غلام اسحاق خان کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا گیا جو آئینی اعتبار سے صدر کا جانشین عہدہ ہے۔چنانچہ جب سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو غلام اسحاق خان نے بحیثیت قائم مقام صدر مملکت باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ صدر ضیا الحق کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا ہے تو اس وقت پورے ملک میں یہ انتظار ہو رہا تھا کہ فوج کب اقتدار سنبھالتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ جنرل ضیا کے غیر جماعتی فارمولے کو طاق پر رکھ دیا گیا اور تین ماہ بعد جماعتی بنیاد پر عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری۔

لیکن اس عرصے میں پیپلز پارٹی کی طاقت کو بیلنس کرنے کے لیے غلام اسحاق خان کی آنکھوں کے سامنے آئی ایس آئی کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک قوت بھی کھڑی کردی گئی۔ بہرحال پیپلز پارٹی کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا۔اور ڈیل کے تحت غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے دسمبر اٹھاسی میں نواب زادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے ساتویں صدر منتخب ہو گئے۔

صدر غلام اسحاق خان کو آٹھویں آئینی ترمیم کی شق اٹھاون ٹو بی کے تحت منتخب پارلیمان اور حکومت کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے جج اور مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری کا اختیار بھی حاصل تھا۔ لیکن ان کی نہ تو بے نظیر بھٹو سے اور نہ ہی بعد میں نواز شریف حکومت سے نبھ سکی۔اور اگست انیس سو نوّے میں بے نظیر حکومت اور اپریل انیس سو ترانوے میں نواز شریف حکومت اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئیں۔

سپریم کورٹ نے انیس سو اٹھاسی میں اس صدارتی اختیار کے تحت صدر ضیا الحق کے ہاتھوں جونیجو حکومت اور پھر انیس سو نوے میں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی پہلی برطرفی کو تو غیر آئینی قرار نہیں دیا البتہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مئی ترانوے میں اس کی بحالی کا حکم جاری کردیا۔اس کے نتیجے میں وفاقی ڈھانچہ ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا۔چنانچہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دباؤ پر نو بحال وزیرِ اعظم نواز شریف اور جہاندیدہ صدر غلام اسحاق خان کو گھر جانا پڑا۔

غلام اسحاق خان جبری ریٹائرمنٹ کے بعد پشاور میں ایسے گوشہ نشین ہوئے کہ نہ تو انہوں نے اپنی سوانح حیات لکھی اور نہ ہی کبھی کوئی انٹرویو دیا۔حالانکہ اگر وہ چاہتے تو سن انیس سو پچپن سے لے کر تا مرگ پاکستان کی تمام اہم محلاتی جوڑ توڑ کو تاریخ کی عدالت میں سلطانی گواہ کے طور پر بہت اچھے طریقے سے بے نقاب کرسکتے تھے۔

بطور بیورو کریٹ غلام اسحاق خان ایک اصول پرست، قدامت پسند اور ایماندار شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔پاکستان کے جوہری پروگرام کی ایک نازک وقت میں خاموش نگرانی اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف سائینس اینڈ ٹیکنولوجی جیسے ادارے کی تشکیل ان کی درد مندی اور حب الوطنی کا سمبل ہیں۔لیکن آخری وقت میں جب انہوں نے سیاست کے تالاب میں کودنے کی کوشش کی تو اس کے چھینٹے نہ صرف خود ان کی ذات پر بلکہ ان کے کچھ اہلِ خانہ پر بھی پڑے۔اور اپنی تمام خوشیاں، اداسیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں اپنے ساتھ لے کر چپ چاپ چلے گئے۔

اسی بارے میں
نصراللہ کی چھتری
27 September, 2003 | پاکستان
حنیف رامے انتقال کر گئے
01 January, 2006 | پاکستان
بگٹی فوجی آپریشن میں ہلاک
26 August, 2006 | پاکستان
حق مغفرت کرے۔۔
11 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد