غلام اسحاق خان انتقال کرگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان طویل علالت کے بعد صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 91 سال تھی۔ غلام اسحاق خان 1988 سے 1993 تک ملک کے صدر رہے۔ انہوں نے تقسیم سے قبل ایک سِول اہلکار کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور متعدد اہم عہدوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ سابق صدر غلام اسحاق خان نے زندگی کی اکانوے بہاروں میں شاید ہی کوئی اہم سرکاری عہدہ ہوگا جس پر فرائض انجام نہ دیے ہوں۔ صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقہ اسماعیل خیل سے تعلق رکھنے والے غلام اسحاق خان نے تمام عمر بطور ایک بیوروکریٹ کے گزاری اور ان کے رفقاء کے بقول آخری دم تک کے افسر کے طور پر رہے۔ ان سے بیوروکریسی کے طور طریقے شاید ہی کوئی اور بہتر انداز میں جانتا ہو۔ بائیس فروری انیس سو پندرہ میں پیدا ہونے والے غلام اسحاق خان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ انتہائی محنتی اور سیلف میڈ انسان تھے۔ انیس سو چالیس میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب ہوئے۔ صوبہ سرحد میں وزیر اعلی کے سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری جیسے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔ انییس سو اکسٹھ میں چیئرمین واپڈا اور بعد میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، گورنر سٹیٹ بنک اور سیکرٹری دفاع بھی رہے۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جنہیں انیس سو اٹھہتر میں سیکرٹری جنرل ان چیف کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ وہ وزیر خزانہ بھی رہے اور ملک کے لیئے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ وہ سینیٹ کے رکن بھی رہے اور ایوان بالا کے چیئرمین بھی۔ انیس سو اٹھاسی میں وہ صدر جنرل ضیاالحق کی موت پر وہ قائم مقام صدر بنے۔ پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت وہ صدر منتخب ہوئے لیکن جلد ہی متنازعہ آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت انہوں نے پہلے بےنظیر اور بعد میں نواز شریف حکومتوں کا بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات کے تحت خاتمہ کر دیا۔
بعد میں ان کی اپنی صدارت بھی جاتی رہی تاہم وہ پہلے صدر بنے جنہوں نے دو منتخب حکومتوں کو متنازعہ آٹھویں ترمیم کے تحت ختم کیا۔ ان کے ان اقدامات کی وجہ سے ان پر ایک غیر جمہوری روایت کی داغ بیل ڈالنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ تاہم صدارت سے علیحدگی کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی کی زندگی گزاری اور ذرائع ابلاغ سے آخری دم تک دور رہے۔ اس وجہ سے بعض لوگوں کے خیال میں ان کے کردار کے بارے میں بہت سے سوالات بلاجواب ہی رہ گئے۔ صوبہ سرحد میں ان کا نام غلام اسحاق خان انسٹییوٹ آف انجنیئرئنگ اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اعلی تعلیمی ادارے کے ٹوپی کے مقام پر قیام کی وجہ سے زندہ رہے گا۔ |
اسی بارے میں برسی یا سیاسی اجتماع17.08.2002 | صفحۂ اول ضیاء الحق دور کے گیارہ سال17.08.2002 | صفحۂ اول وردی اتارنے کا جھوٹا وعدہ10 May, 2003 | صفحۂ اول پچیس سال پہلے05.07.2002 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||