’عوامی آدمی نہیں تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غلام اسحاق خان ایسٹیبلِشمنٹ کے آدمی تھے، فوج سے انہوں نے ہمیشہ بنا کر رکھی، وہ کئی حکومتوں میں رہے اور وہ فوج اور سوِل بیوروکریسی کے درمیان رابطہ رہے۔ ان کی جمہوری حکومتوں کی برطرفی پر کچھ لوگوں نے تنقید کی لیکن ان کے لوگ ہمیشے یہ کہتے آئے ہیں کہ غلام اسحاق خان ایک محبِ وطن تھے اور پاکستان کے ہمیشہ وفادار رہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک بیوروکریٹ تھے اور ہر فیصلہ ’بائی دی بُک‘ یعنی قواعد کے تحت کرنا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے کیرئیر میں کوئی قابلِ اعتراض یا متنازع کام کرنا نہیں پسند کیا۔ لیکن 1990 اور 1993 میں انہوں نے جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجا جس سے وہ بہت متنازع بن گئے۔ ان کے بارے میں کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا لیکن ان کے دو داماد انور سیف اللہ اور عرفان اللہ مروت سیاست میں تھے اور ان کے معاملے میں وہ کچھ سیاسی بن گئے۔ سیف اللہ خاندان کی سیاست کو انہوں نے آگے بڑھایا اور عرفان اللہ مروت جو سندھ کی سیاست میں تھے اور جن پر سنگین الزامات لگے، انہوں نے ان کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن غلام اسحاق خان اپنے صوبہ میں زیادہ مقبول نہیں تھے۔ فرنٹیئر کے لوگوں کو ہمیشہ یہ گِلہ رہا کہ وہ پاکستان میں ہر اہم عہدے پر رہے لیکن انہوں نے صوبے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا یا یہاں وہ کبھی کوئی بڑا پراجیکٹ لے کر نہیں آئے۔ مجھے اس بات کا اندازہ صحیح اس وقت ہوا جب میں ایک بار ان کے گاؤں اسماعیل خیل گیا۔ یہ بنوں شہر کے قریب ہے۔ وہاں لوگوں کی حالت بہت ہی خراب تھی۔ سڑک خراب ، فون کا نظام نہیں ہ، بجلی کا نظام خراب اور گاؤں میں کوئی ہسپتال نہیں۔ میں نے گاؤں والوں کے علاوہ غلام اسحاق خان کے بھائی اور بھتیجوں سے بھی بات کی۔ سب نے ان کی برائی کی اور یہاں تک کہ کہا کہ وہ ہمارے گاؤں کے نہیں ہیں، انہوں نے ہمارا کوئی بھی جائز مسئلہ حل نہیں کیا۔ ان لوگوں کی شکایت تھی کہ کوئی جہاں پیدا ہوتا ہے یا جہاں تعلیم حاصل کرتا ہے یا جہاں اس کے عزیز یا دوست ہوں وہ کم از کم وہاں کے مسئلہ حل کرتا ہے لیکن انہوں نے ہمارے لیے کچھ نہ کیا۔ تاہم غلام اسحاق خان کا موقف ہمیشہ یہ تھا کہ وہ قواعد کے تحت کام کرتے تھے اور قواعد کے تحت کبھی کسی علاقے یا کسی آدمی کی طرف داری نہیں ہونی چاہیے۔ گاؤں والوں کو تو بہرحال ان سے گلہ ہی رہا اور ریٹائرمنٹ کے بعد غلام اسحاق خان پشاور میں یونیورسٹی ٹاؤن میں واقع اپنی ذاتی رہائش گاہ میں رہے اور گاؤں سے ان کا رشتہ بہت ہی کمزور تھا۔ غلام اسحاق خان کا لوگوں سے رشتہ مضبوط نہیں تھا کیونکہ وہ ایک عوامی آدمی تھے ہی نہیں۔ وہ ایک بیورکریٹ تھے، اپنی ہی دنیا میں مگن۔ پاکستان کی سیاسی تاریح اور منتخب حکومتوں کی برطرفی میں اپنے کردار کے بارے میں غلام اسحاق کبھی نہیں بولے۔ میں نے کئی مرتبہ ملاقات میں انہیں اس سلسلے میں کریدنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے’ آن دی ریکارڈ‘ بات کرنے سے ہمیشہ انکار کیا۔ وہ صرف اتنا کہتے تھے کہ ’میں نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کام کیا اور میں نے ذاتی مفاد سے کام نہیں کیا اور کوئی حکومت کو برطرف کیا تو وہ بھی پاکستان کے مفاد میں کیا ہے اور جو فیصلہ کیا ہے پاکستان کے مفاد میں کیا ہے۔‘ انہوں نے اپنے ہر اقدام کا دفاع کیا اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ ان کو پاکستان کے بارے اپنے فیصلے اور اپنے کردار پر کچھ لکھنا چاہیے، اپنی یاد داشتیں تحریر کرنے چاہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ غیر مناسب بات ہوتی اور اگر وہ کچھ لکھتے تو ایسی باتیں سامنے آتیں کہ ان کا جواب آتا اور الزام لگتے اور پاکستان کو نقصان پہنچتا۔ آج تو موجودہ صدر نے کتاب لکھ دی ہے اور وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی کتاب سے پاکستان کو کوئی نقصان ہوگا۔ لیکن اس وقت غلام اسحاق خان کی سوچ تھی کہ کئی ایسی باتیں ہیں جن کے ذکر سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔ |
اسی بارے میں غلام اسحاق خان انتقال کرگئے27 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||