| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضیاء الحق اور جمہوریت
سترہ جولائی انیس سو اٹھاسی میں پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کا طیارہ کے حادثے میں انتقال ہوا تھا۔ اس وقت سے کئی حکومتیں بنی ہیں اور سب بر طرف کر دی گئیں۔ جنرل ضیاء کے جانےکے پندرہ سال بعد پھر ایک جنرل ملک کے صدر ہیں، سیاسی احتجاج عروج پر ہے اور فوج سیاستدانوں کو غیر ذمہ دار کہہ رہے ہیں۔ جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ دور حکومت سے پاکستان کے سیاسی ماحول اور جمہوری عمل پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ کیا انیس سو اٹھاسی سے اب تک ملک میں جمہوری عمل آگے بڑھ سکا ہے؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------ جنرل ضیاء آمر تھے اور جمہوریت کے دشمن۔ جنرل مشرف انہی کی چھاپ ہیں۔ سید اشفاق شاہ، ٹھٹھہ جنرل ضیاء ایک عظیم انسان تھے۔ پاکسیان کو ایک اور ضیاءالحق کی ضرورت ہے۔ عجاز، کویت وہ ایک جھوٹا انسان تھا۔ وہ یہ وعدہ کر کے آیا تھا کہ وہ صرف تین ماہ رہے گا لیکن وہ گیارہ برس تک بیٹھا رہا۔ آصف علی، نیو یارک جنرل ضیاء ایک سچے انسان تھے۔ انہوں نے سیاستدانوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بالکل مناصب تھا۔ ہمارے سیاستدان بہت خراب ہیں۔ ّاکٹر طاہر، مانٹرئیل، کینیڈا پاکستان میں کبھی جمہوریت آئی ہی نہیں۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی ملک کو لوٹا ہے۔ لیکن ہم جنرل ضیاء کو بہت کچھ معاف کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان کو خطے میں ایک مثبوت قوت تو بنادیا۔ عمر، آسٹریلیا |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||