یکم نومبر 1989 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکم نومبر 1989 پاکستان کی پارلیمانی اور سیاسی دور کی ایک اہم تاریخ تھی۔ پندرہ برس پہلے اس روز پارلیمان میں بے نظیر بھٹو کی دس ماہ کی حکومت کے خلاف ایک عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد اس پر ووٹنگ ہوئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک منتخب وزیر اعظم کے خلاف پہلا ایسا ووٹ تھا۔ حکومت کے خلاف یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی اور صرف بارہ ووٹ سے بے نظیر بھٹو کی حکومت بچ گئی۔ لیکن یہ صرف ایک پارلیمانی کارروائی نہیں تھی۔ انیس سو اناسی کے اس ڈرامے میں متعدد کردار اور قوتیں شامل تھیں۔ یہ تحریک چھبیس اکتوبر کو مخلوط اپوزیشن یعنی کمبائنڈ آپوزیشن پارٹی(سی او پی) کی طرف سے پیش کی گئی اور ووٹ کے مرحلے تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک عجیب مقابلہ شروع ہوا۔ ممبران پارلیمان کی ’حفاظت‘
پیپلز پارٹی نے اپنے ایم این ایز کو سوات کے مقام منگورہ منتقل کر دیا۔ اس وقت سرحد میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور وزیر اعلی آفتاب احمد خان شیرپاؤ تھے۔ اس پورے معاملے کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے دوران پیپلز پارٹی اور فوج یا سول ’اسٹیبلِشمنٹ‘ کے درمیان تضاد صاف ظاہر ہو گیا۔ کچھ دن بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا ایک خفیہ ادارہ آئی ایس آئی اس تحریک کے پیچھے تھا ۔ فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے اس کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا لیکن اس میں ملوث آئی ایس آئی کے دو افسران بریگیڈیر امتیاز اور میجر عامر کو فوج سے نکال دیا۔ اس وقت کے اخبارات اور سیاسی مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کی اس تحریک کے بارے میں صدر غلام اسحاق خان کو علم تھا۔ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات پائے جاتے تھے ۔ سی او پی کے کئی رہنماؤں نے یہ عندیہ دیا کہ ان کو صدر کی پوری حمایت ہے۔ بقول صحافی زاہد حسین کے ’یہ تحریک اس لیے اس وقت پیش کی گئی تھی کہ مارچ 1990 میں آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کے وزیر اعظم کو نامزد کرنے کا اختیار ختم ہونا تھا۔‘ 1988 کے انتخابات جنرل ضیا کے گیارہ سال کی حکمرانی کے بعد ہوئے تھے اور اس نئے جمہوری دور کے ابتداء کے کچھ ہی ماہ کے بعد اس تحریک نے حکومت کو چونکا دیا۔ ہارس ٹریڈنگ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ پاکستان میں جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی افسوسناک مرحلہ تھا کیونکہ اس سے پہلے سیاستدانوں کا بیوپار اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہوا تھا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ آئی ایس آئی کی اس کارروائی کی تفصیل بعد میں منظر عام پر آگئی لیکن اب شاید سب اس کو بھول چکے ہیں۔ اس خفیہ ادارے کے افسران اپنے ہی ملک کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث تھے اور اس پر انہوں نے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے لگائے۔ نہ صرف یہ بلکہ بعد میں نواز شریف نے بریگیڈیر امتیاز کو خفیہ ادارے آیی بی کا سربراہ بنا دیا۔ آپریشن مِڈ نائٹ جیکلز بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے رکن اور سابق وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ خان بابر نے بتایا کہ اس موقع پر آّڈیو اور ویڈیو ٹیپ دونوں بنائی گئی اور انہوں نے پھر فوج سے جا کر اس پر بات کی اور انہیں کہا کہ وہ ان فوجی افسروں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ فوج نے ان دونوں کو جبری ریٹائر کر دیا۔ یہ انکشافات نواز شریف کے دور میں سامنے آئے اور ان کی سنسنی خیز اور حیران کن ہونے کے باوجود ان کو زیادہ توجہ نہ مل سکی۔ روزنامہ ’دی نیوز‘ اور ماہ نامہ ’نیوزلائن‘ میں انیس سو اکیانوے میں چھپنے والی یہ رپورٹیں ہماری سیاسی یاد داشت کا حصہ نہ بن سکیں۔ اسی دور میں تحریک استقلال کے سربراہ ائیر مارشل اصغر خان کے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو لکھے ہوئے ایک خط کے نتیجے میں چلنے والے ایک کیس میں آئی ایس آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بہت معلومات حاصل ہوئیں جس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس خفیہ ایجنسی نے 1990 کے انتخابات میں نہ صرف ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ (آئی جے آئی) قائم کی بلکہ اس کو رقم بھی فراہم کرتی رہی اور انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے خلاف آئی جے آئی کی منصوبہ بندی میں بھی سر گرم رہی۔ آج پندرہ برس بعد پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کا عمل ایک پتلی تماشہ لگنے لگا ہے۔ ایک فوجی صدر نے ’کِنگز پارٹی‘ قائم کر کے جمہویت کے روپ میں پارلیمان سے اپنا ہر کام ’جمہوری طریقے ‘ سے کروا لیے ہیں۔ ملک کی اسٹیبلِشمنٹ اب بھی سیاستدانوں کو بدنام اور چھوٹے انسان ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یکم نومبر 1989 کے واقعات ہمیں کہاں سے کہاں لے آئے ہیں۔ صحافی عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ اس سارے مرحلے میں بے نظیر بھٹو کی کارکردگی اس لیے بہت مایوس کن رہی کہ بجائے اس کے کہ وہ جمہوری اور سیاسی طریقے سے ملک کی غیر جمہوری قوتوں سے نمٹتیں انہوں نے انہیں قوتوں کے طریقے اپنا لیے۔ اسامہ کی حمایت؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||