اسحاق خان سپرد خاک کردیے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکانوے سالہ سابق صدر غلام اسحاق خان کو جمعے کی شام سرکاری اعزاز کے ساتھ پشاور کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا۔ انیس سو ترانوے میں صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد سے غلام اسحاق خان پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سیاست کے علاوہ انہوں نے اس دوران ذرائع ابلاغ سے بھی آخری دم تک ترکِ تعلق رکھا۔ ان کے اہل خانہ کے بقول وہ طویل عرصے سے بیمار تھے جس کی وجہ سے وہ آخری چند ایام میں قوت گویائی سے بھی محروم ہوگئے تھے۔ خرابی صحت اور بڑھاپے کی وجہ سے وہ ویل چیر تک محدود تھے۔ البتہ نمونیہ بالآخر ان کی موت کا سبب بنا۔ ان کے اہل خانہ کے بقول مرحوم کی خواہش تو اپنے نام سے ٹوپی کے مقام پر قائم انسٹییوٹ آف انجینرینگ اینڈ ٹیکنالوجی میں دفن کرنے کی تھی تاہم ان کی اہلیہ کی ہدایت پر انہیں پشاور میں ٹاؤن کے قبرستان میں ہی دفن کر دیا گیا۔
ان میں سابق صدر فاروق لغاری، گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی، وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم، وفاقی وزرا آفتاب شیرپاؤ، اعجاز الحق، امیر مقام، سلیم سیف اللہ، سردار محمد رند، جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد، جے یو آئی کے مولانا سمیع الحق، مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین، گوہر ایوب، سابق فوجی سربراہ مرزا اسلم بیگ، وسیم سجاد، حامد ناصر چٹھا اور منظور وٹو شامل تھے۔ نماز خطیب جنازہ قاضی غلام محمد نے ادا کی۔ جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی ملک کے لئے خدمات کی تعریف کی ہے۔ صدر نے انہیں ایک ایماندار شخص قرار دیا۔ مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ مرحوم بائیس فروری انیس سو پندرہ میں صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقہ اسماعیل خیل میں پیدا ہوئے۔ غلام اسحاق خان نے عمر کا بڑا حصہ بطور ایک بیوروکریٹ کے گزارا اور ان کے رفقاء کے بقول آخری دم تک ایک اصول پسند افسر ہی رہے۔ |
اسی بارے میں برسی یا سیاسی اجتماع17.08.2002 | صفحۂ اول ضیاء الحق دور کے گیارہ سال17.08.2002 | صفحۂ اول وردی اتارنے کا جھوٹا وعدہ10 May, 2003 | صفحۂ اول پچیس سال پہلے05.07.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||