BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسحاق خان سپرد خاک کردیے گئے

غلام اسحاق خان کو جمعہ کی شام سپردخاک کردیا گیا

اکانوے سالہ سابق صدر غلام اسحاق خان کو جمعے کی شام سرکاری اعزاز کے ساتھ پشاور کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا۔

انیس سو ترانوے میں صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد سے غلام اسحاق خان پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سیاست کے علاوہ انہوں نے اس دوران ذرائع ابلاغ سے بھی آخری دم تک ترکِ تعلق رکھا۔

ان کے اہل خانہ کے بقول وہ طویل عرصے سے بیمار تھے جس کی وجہ سے وہ آخری چند ایام میں قوت گویائی سے بھی محروم ہوگئے تھے۔ خرابی صحت اور بڑھاپے کی وجہ سے وہ ویل چیر تک محدود تھے۔ البتہ نمونیہ بالآخر ان کی موت کا سبب بنا۔

ان کے اہل خانہ کے بقول مرحوم کی خواہش تو اپنے نام سے ٹوپی کے مقام پر قائم انسٹییوٹ آف انجینرینگ اینڈ ٹیکنالوجی میں دفن کرنے کی تھی تاہم ان کی اہلیہ کی ہدایت پر انہیں پشاور میں ٹاؤن کے قبرستان میں ہی دفن کر دیا گیا۔

اس سے قبل ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں عزیز و اقارب، وفاقی و صوبائی وزراء، سیاستدانوں، موجودہ اور سابق اعلی سرکاری اہلکاروں، سفارت کاروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

ان میں سابق صدر فاروق لغاری، گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی، وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم، وفاقی وزرا آفتاب شیرپاؤ، اعجاز الحق، امیر مقام، سلیم سیف اللہ، سردار محمد رند، جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد، جے یو آئی کے مولانا سمیع الحق، مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین، گوہر ایوب، سابق فوجی سربراہ مرزا اسلم بیگ، وسیم سجاد، حامد ناصر چٹھا اور منظور وٹو شامل تھے۔

نماز خطیب جنازہ قاضی غلام محمد نے ادا کی۔

جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی ملک کے لئے خدمات کی تعریف کی ہے۔ صدر نے انہیں ایک ایماندار شخص قرار دیا۔

مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔

مرحوم بائیس فروری انیس سو پندرہ میں صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقہ اسماعیل خیل میں پیدا ہوئے۔ غلام اسحاق خان نے عمر کا بڑا حصہ بطور ایک بیوروکریٹ کے گزارا اور ان کے رفقاء کے بقول آخری دم تک ایک اصول پسند افسر ہی رہے۔

جنرل ضیاء الحقضیاء اور جمہوریت
پاکستان پر جنرل ضیاء کی پالیسیوں کا اثر
پہلا عدم اعتماد
سیاسی تاریخ کی پہلی تحریکِ عدم اعتماد
اسی بارے میں
برسی یا سیاسی اجتماع
17.08.2002 | صفحۂ اول
پچیس سال پہلے
05.07.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد