BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کا ملامتی سیاستدان

’میں ہزاروں سال سے پختون، چودہ سو سال سے ملسمان اور پچاس سال سے پاکستانی ہوں‘
تصوف میں ملامتی صوفی ہوتے ہیں جو خود پر تنقید اور ملامت کی پرواہ کیے بغیر اپنے طریقہ پر چلتے رہتے ہیں۔ ولی خان پاکستان کے ملامتی سیاستدان تھے۔

خان عبدالولی خان کی وفات سے سیاستدانوں کی اس نسل کا آخری نمائندہ سیاستدان بھی سیاسی منظر سے رخصت ہوگیا جو چالیس کی دہائی کے آخر میں سامنے آئی تھی اور جس نے پاکستان کے قیام کے بعد آئین اور جمہوریت پر مبنی سیاسی نظام کے لیے جدوجہد کی۔

ولی خان کے والد اور سرخ پوش تنظیم کے بانی خان عبدالغفار خان کانگریس کے اتحادی تھے، متحدہ ہندوستان کے حامی اور قیام پاکستان کے مخالف۔ اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر سیاست میں قدم رکھنے والے ولی خان نے کبھی اس ماضی سے انکار نہیں کیا۔ وہ برملا اس موقف کو دہراتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل مسلمانوں کی تقسیم تھی۔

ولی خان کو مسلم لیگ اور بانی پاکستان کی سیاست سے اختلاف تھا۔ اس کا اظہار انھوں نے انیس سو اسی کی دہائی میں ’حقائق حقائق ہوتے ہیں‘ کے عنوان سے قیام پاکستان میں انگریزوں کے مبینہ کردار پر ایک کتاب لکھ کر بھی کیا اور اپنا نقطہ نظر تاریخی حوالوں سے بیان کیا۔

اس موقف پر انہیں مسلم لیگی، پاکستان اسٹیبلیشمینٹ سے وابستہ حلقوں اور پنجاب کے باثر صحافی حلقوں سے تنقید اور لعن طعن کا سامنا رہا جو اکثر اوقات تہذیب کے دائرے سے باہر ہوتا تھا۔ لاہور اور کراچی کے اخبارات ولی خان کو غدار، بھارتی ایجنٹ اور بھارت حکومت سے تھیلیوں میں پیسے لینے کے الزامات سےنوازتے رہے۔

ولی خان نے پختونوں کے تشخص اور ان کے مفادات کے تحفظ کی سیاست کی لیکن پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے۔ وہ کہتے تھے کہ میں ہزاروں سال سے پختون ہوں، چودہ سو سال سے مسلمان اور پچاس سال سے پاکستانی۔ تاہم ان کے مخالفین پختونوں کے لیے ان کی وابستگی کو ان کے پاکستان کےمخالف ہونے کے مترادف قرار دیتے رہے۔ جس شخص نے ملک کو آئین جیسی اہم دستاویز دینے میں اہم کردار ادا کیا اس کی طرف سے صوبہ کا نام بدلنے کے مطالبہ اور ایک ڈیم بنانے کی مخالفت کو ملک دشمنی قرار دیاگیا۔

ولی خان نے جنرل ایوب خان کے دور میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میں جمہوری جدوجہد میں شرکت کی۔ جب ایوب خان نے انھیں براہ راست معاملہ کے لیے بلایا تو صاف کہہ دیا کہ وہ حقہ ٹوپی (نوابزادہ نصراللہ) خان سے بات کریں۔

انیس سو تہتر کے پہلے متفقہ آئین کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ولی خان نے پختونوں کے حقوق پاکستان کے وفاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے جمہوری پارلیمانی نظام میں دیکھے۔ ایک علاقائی پختون سیاستدان کہلائے جانے والے شخص نے ایسا آئین بنانے میں مدد کی جس میں وفاق ایک مضبوط مرکز پر مبنی تھا جو وسیع اختیارات کے ساتھ وحدانی طرز نظام کے قریب تھا۔

آئین بننے کے چند سال بعد ہی انہیں غداری کے الزام میں حیدرآباد ٹربیونل میں غداری کے الزام میں قید کردیاگیا جس کے سامنے ان کا بیان اسی تاریخی اہمیت کا حامل ہے جیسا کہ ان کی پارلمینٹ میں کی گئی متعدد تقریریں جن پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان مل کر ڈیسک بجایا کرتے تھے۔

وہ ایسے غدار تھے جن کے ساتھ ہر محب الوطن پارٹی مخلوط حکومت بنانا چاہتی تھی اور حزب اختلاف میں ان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنا چاہتی تھی۔

پیپلزپارٹی نے بھی ولی خان کو غدار کہا اور ان کے ساتھ مل کر سرحد حکومت بنائی۔ ذوالفقار علی بھٹو انہیں حزب مخالف کے بجائے نائب وزیراعظم کا عہدہ پیش کرتے رہے۔ مسلم لیگ نے ہمیشہ انہیں غدار اور پاکستان مخالف کہا اور نواز شریف کے دور میں ان کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ جماعت اسلامی نے ان پر کیچڑ اچھالا لیکن ان کے ساتھ مل کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اتحاد میں شریک رہی۔

ولی خان سے انتہا پسند پختون قوم پرست ناخوش تھے کہ وہ پاکستان کے آئین کے دائرہ میں سیاست کرتے تھے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے محب الوطن ان کی جانب سے پختون حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر نالاں تھے۔ اسی لیے مرکز گریز رویہ پر انتہا پسند موقف کے حامی بلوچ قوم پرستوں سے بھی ان کی راہیں جدا ہوگئیں۔

ولی خان کو کیا کیا کہا گیا
انہیں مسلم لیگی، پاکستان اسٹیبلیشمینٹ سے وابستہ حلقوں اور پنجاب کے باثر صحافی حلقوں سے تنقید اور لعن طعن کا سامنا رہا جو اکثر اوقات تہذیب کے دائرے سے باہر ہوتا تھا۔ لاہور اور کراچی کے اخبارات ولی خان کو غدار، بھارتی ایجنٹ اور بھارت حکومت سے تھیلیوں میں پیسے لینے کے الزامات سےنوازتے رہے

حقیقت یہ ہے کہ ولی خان نے پختونوں کے تشخص اور سیاسی حقوق کی سیاست کی لیکن پاکستان کے وفاق کو نقصان پہنچائے بغیر۔ صوبائی حقوق اور قومی سیاست میں اسلام کے کردار پر ان کا موقف معتدل اور رویہ لچکدار تھا۔

انہوں نے جیل کاٹی، ریاستی جبر دیکھا،گالیاں کھائیں لیکن اشتعال اور تلخی میں آکر اپنا اسلوب اور طریقہ کار نہیں بدلا۔ ایک سیاسی پارٹی کے ذریعے رچی ہوئی سیاست کرنا ان کی پچاس برس کی سیاسی زندگی کا وصف تھا جیسا حسین شہید شہروردی اور نوابزادہ نصراللہ خان کے قبیل کے سیاستدانوں کا تھا۔

اس قبیل کے سیاستدانوں کا امتیاز یہ تھا کہ انہوں نےاپنی سیاسی زندگی کسی فوجی حکومت کے وزیر کی حیثیت سے شروع نہیں کی تھی نہ کسی انٹیلی جنس ایجنسی نے ان سے سیاسی جماعت بنوائی تھی جیسا کہ پاکستان میں بہت سے سیاستدان ایوب خان اور جنرل ضیاالحق کی گود میں پلے اور اب جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں ہیں۔

ولی خان کی سیاست میں اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کرنا تھی۔ ستر کی دہائی میں جمعیت علمائےاسلام جیسی مذہبی جماعت سے مل کر اپنے سیکولر خیالات کے باوجود صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی وزارت اعلی بنوائی۔ اسی کی دہائی میں انہوں کمیونسٹوں کے ساتھ مل کر عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ نوے کی دہائی میں نوازشریف سے ہاتھ ملایا جو ایک پنجابی سیاستدان کے طور پر ابھرے تھے۔

ولی خان کی سیاست سے ظاہر تھا کہ وہ پختونوں کو پاکستان کے قومی دھارے میں شریک رکھنا چاہتے تھے جس کا فائدہ پختونوں کے سول اور فوجی بیوروکریسی میں کاروبار اور صنعت میں ان کے بڑھتے ہوئے حصہ سے ہوا۔

ولی خان نے سیاسی عمل کے ذریعے جس طرح پختون آبادی کو نوزائیدہ پاکستانی ریاست سے یکجا کرنے کا کام کیا ریاست اور پنجاب کا پریس اس کا اعتراف اور تحسین نہیں کرسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد