’سندھی اور پنجابی کا میل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ سندھی تے پنجابی دا میل روے گا‘ بہت سال ہوئے کہ میں نے ایسے بولوں والا گانا ایک سندھی فلم (شاید ’غیرت جو سوال‘ یعنی ’غیرت کا سوال‘) میں دیکھا تھا جسکے بہت سے مکالمے دو لسانی، یعنی سندھی اور پنجابی میں تھے۔ مجھے یہ تب یاد آیا جب میں نے ان دنوں صحافی اور پنجابی دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز کی طرف سے شروع کی ہوئی پنجابی زبان کی ویب سائيٹ’وچار دھارا‘ پر پنجابی زبان کے مضامین و کالم سندھی زبان میں اور سندھی زبان کے مضامین، کالم اور کہانیاں پنجابی زبان میں ترجمہ ہوکر چھپنے لگتی دیکھی ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو سندھی اور پنجابی سیاستدان اور سیانے پاکستان میں بیٹھ کر انسٹھ سال سے نہیں کر سکے مگر ڈاکٹر منظور اعجاز نے واشنگٹن سے کردکھایا ہے اور انہیں پنجابی اور سندھی میں ترجمہ کرنے والے خواتین اور حضرات بھی مل گئے ہیں۔ مطلب کہ ڈاکٹر کو ایک اچھی خاصی خفت مل گئي ہے۔ سندھی میں ایسے لوگوں کو خفتی کہا کرتے ہیں۔ سندھی لفظ خفتی کا مجھے کسی اور زبان میں نعم البدل نظر نہیں آتا۔ مجھے وہ دن یاد آئے جب نواز شریف کی پنجاب میں صوبائي اور بینظیر بھٹو کی اسلام آباد میں (زیرو پوائنٹ تک) مرکزی حکومت کے دنوں میں حسین نقی کے ساتھ پنجابی سوجھوانوں ( یہ لفظ پتہ نہیں کیوں بہت چالو ہو چلا ہے) نے پنجابی زبان میں پہلا روزنامہ ’سجن‘ شروع کیا تھا۔ پنجابیوں سے زیادہ خوشی بہت سے سندھی پڑھے لکھے لوگوں کو ہوئی تھی، خاص طور، بہت سے نوجوانوں کو۔ وہ جب بھی لاہور جاتے ’سجن‘ کے دفتر ضرور جاتے جسطرح کبھی لوگ لاہور شوق سے فلمی سٹوڈیوز گھومنے جاتے تھے۔ حسین نقی، شفقت تنویر مرزا اور ظفریاب سے بہت سے سندھی نوجوان وہاں جاکر ملے تھے۔ حیرت ہے کہ وہی تب کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نواز شریف جنہوں نے ’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ انکی حکومت میں مشرقی پنجاب کی وزارت اطلاعات کے اشتہارات لاہور کے اخبارات میں تو چھپ سکتے تھے لیکن ’سجن‘ کے اجراء اور ترسیل میں اسی حکومت نے بڑے روڑے اٹکائے۔ شاید بینظیر بھٹو کی حکومت کا کارنامہ تھا یا فہیمدہ ریاض کی اپنی کوششیں کہ ’سجن‘ کو بہرحال وفاقی وزارت تعلیم سے کچھ مالی مدد مل سکی تھی۔- لیکن پنجابی اشرافیہ اور مڈل کلاسیوں کی اپنی ماں بولی کی طرف ’شرمندگي‘ یا بے اعتنائی اور صوبائي حکومت کی کٹھورتا کہ پنجابی زبان کے پہلے روزنامے ’سجن‘ کو بند ہونا پڑا۔
مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ’سجن‘ کے دنوں اور پھر اسکے بند ہونے کے حالات پر کسی نے ’راتیاں لمیاں ہوئیاں‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ سندھیوں سمیت دوسرے صوبے کے ’گرم دماغ‘ قوم پرستوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ کیسی ’ظالم قوم‘ ہے جس نے سب سے زیادہ ظلم اپنی ماں بولی پر کیا ہوا ہے! پنجاب اسمبلی میں شاید فضل حسین راہی یا کسی اور ایم پی اے کے پنجابی زبان میں حلف اٹھانے کی خواہش پر اسقدر ہنگامہ ہوا تھا کہ گویا پنجابی میں حلف سے نکاح یا ملک ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ یہی واویلا اکبر بگٹی کے قومی اسمبلی میں بلوچی زبان میں حلف اٹھانے پر ہوا تھا۔ اگر کراچی اور لاہور کے دو بڑے اردو اخبارات نے ’نسیم حجازی‘ کٹ یا ’جنگوازم‘ پالیساں نہ اپنائی ہوتیں تو پاکستان میں زبانیں اپنی قومی حیثیت اور حقوق کب کا منوا چکی ہوتیں۔ کھبی سندھی زبان کا بل سندہ اسمبلی میں پاس ہونے سے ’اردو کا جنازہ‘ نکلتا بتایا گیا تو کبھی ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں جنرل اروڑا کے سامنے جنرل نیازی کے ہتھیار پھینکنے کی پی ٹی وی پر فلم دکھانے پر ہاہا کار مچائي گئي، لیکن لاکھوں بنگالیوں کے قتل اوربنگالی عورتوں کی عصمت دری پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور چھاپا گیا۔ اسی طرح بہت سے سندھی دانشور سندھی بچوں کے سکولوں اور کالجوں میں اردو پڑھنے کو ’سندھی کیخلاف سازش‘ سمجھتے ہیں۔
سندھ میں پنجابی زبان اور ادب ترتیب وار پنجابی آباد کاروں، پنجابی فلموں، ماہنامہ ’سوہنی‘ اور اسکے ایڈیٹر طارق اشرف اور ڈاکٹر آثار آرائيں کے توسط سے سندھیوں میں متعارف ہوا، ورنہ تو سندھی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تو ماہنامہ ’سوہنی‘ سمیت سندھی زبان کے چالیس سے زائد جریدوں اور کتابوں پر بندش لگا کر طارق اشرف اور ابراہیم منشی جیسے شاعروں اور ادییوں کو کئي ماہ جیل میں رکھا۔ ایک ایسی زبان اور صوبہ جس میں اچھے خاصے ادیب اور قومپرست ’پنجابی سامراج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوں ( ابھی کچھ دن قبل میرے ایک بہت ہی پیارے صحافی دوست اور شاعر ادیب نے ایک سندھی اخبار میں لکھا کہ سندہ کی سرحد عبور کرتے ہی صادق آباد اور رحیم یارخان میں عورتیں آپکو موٹر سائیکل چلاتی نظر آئيں گي!) وہاں سندھی اور پنجابی زبانوں کا ایک دوسرے کے روپ میں تبادلے اور ترجمے سے ’شریکوں‘ پر کم از کم یہ ثابت ہوسکے گا سندھ کہ طرح پنجاب میں بھی دودھ اور شہد کی کوئی نہریں نہیں بہہ رہیں بلکہ خون اور آنسوؤں کی وہی سندھو بہہ رہی ہے۔ وہاں اگر مختار مائی ہے تو یہاں دکھوں کی شاہزادی ناگور ہے۔ پھر وہی بات کہ سؤر جیسا سندھ میں ہے ویسا ہی مدینے میں ہوتا ہے! وہ ملک جہاں زبانوں کے تعصب میں ایک رات میں ساڑھے چار سو لوگ قتل کیے جاتے ہوں، حیدرآباد کراچی 1988، ہر زبان کے اپنے’ شہداء‘ ہوں اور جہاں دوسری زبان والوں کے قاتل اپنی اپنی زبان کے ’شہداء‘ کے دن مناتے ہوں وہاں زبانوں کے درمیاں فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش معمولی بات نہیں ہوتی! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||