'دار کی خشک ٹہنی پہ۔۔۔۔' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برصغیر پاکستان اور ہندوستان کی حکومتیں، جو اپنے بدیسی پیشروؤں کی طرف سے ورثے میں ملی ہوئی پھانسی کی سزا کو اب تک کسی نوآبایادتی جہیز کی طرح گلے سے لگائے ہوئی ہیں، آئندہ چند ہفتوں میں دو اشخاص کو تختہ ء دار پر چڑہانے والی ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے یہ دو اشخاص ہیں پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر اور مبینہ انتہا پسند کشمیری قوم پرست محمد افضل۔ اگرچہ دونوں پھانسی کی سزا سناۓ جانیوالے ان دونوں مبینہ ملزمان کے کیسوں کے حالات و حقائق مختلف ہیں لیکن ان کے ہمدرد و لواحقین ان سزا یافتہ حضرات کے مبینہ جرائم کے محرکات کسی نہ کسی طرح جنسی زیادتی بتاتے ہیں۔ وہ جنسی زیادتی جو مرزا طاہر کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والا تب اٹھارہ سالہ نوجوان سے کرنا چاہتا تھا اور وہ جنسی زیادتیاں جو ہندوستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر سینکڑوں خواتین کے ساتھ کی گئیں- اور اسی طرح جہادی گروپوں نے بھی کی۔ ہندوستان اور پاکستان ایسے ممالک جن کی ’ آزادی‘ کی خونی تواریخ کی ابتدا بھی ہزاروں زنا بالجبر سے ہوتی ہے۔ لیکن مجھے حیرت ہے کہ غالب کی شاعری سے ازحد متاثر ہونیوالا شخص محمد افضل گرو مذہبی انتہاپسند گروپوں کی طرف کیسے راغب ہوجاتا ہے؟ یہ تو غالب کی شاعری سے نسیم حجازی کے ناولوں کی طرف سفر ہے! تو بات کررہے تھے پھانسی کی سزا کی جو برصغیر میں انگریزوں نے متعارف کروائی (یہ اور بات ہے کہ اب زمانے بیتے کہ وہ اپنے ملکوں میں اس سے دستبردار ہو بھی چکے) -- اس سزا کا مقصد فقط خونی کو سزا دینے سے بھی زیادہ انگریز حکومت مخالف اورباغیوں کو’نشانہ عبرت‘ بنانے اور دیسی عوام کے دلوں میں برطانوی راج کی دہشت پیدا کرنا تھا۔
چور اچکوں، خونی، ڈاکوئوں اور جیب کتروں کے ساتھ کرانتیکاروں اور وزیر اعظموں اور باغی روحانی و سیاسی پشیوائوں کو بھی پھانیسوں پر چڑہایا جاتا رہا ہے- اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں سینکڑوں دیسی سپاہیوں اور باغیوں کو سولیوں پر چڑہایا گیا تھا۔ میں سوچ رہا ہوں کیا شہ کے مصاحب غالب نے کبھی اسپر قلم اٹھایا تھا یا نہیں! ’غالب کا گناہ اس کی شراب نوشی نہیں بادشاہوں کی قصیدہ گوئی تھی‘ کبھی شیخ ایاز نے کہا تھا۔ لیکن انقلابیوں کے پھانسیوں کے تختوں پر جھولتے جسم اور ان کے یخ ٹھنڈے پیروں پر پڑتے گرم بوسے اور آنسو شاعروں اور اور ان کے چاہنے والوں کیلیے ماتم اور رومانویت کا ذریعہ رہے ہیں- یا پھر، ذولفقعار علی بھٹو کی موت پر میرے شاعر دوست حسن درس نے لکھا تھا: ’پھانسی کے جھولے پر اسکو نیند آگئی۔‘ اٹھارہ سو ستاون کا غدر اور تانتیا ٹوپی سمیت کئی باغیوں اور دیسی سپاہی سولیوں پر چڑہاۓ گئے۔ اور انگریزی راج کے آئندہ عشروں میں کاکوری کے اشفاق اللہ خان اور اس کے ساتھی، بھگت سنگھ کے ساتھی اور خودی رام باسو سمیت بنگالی قوم پرست اور ہیموں کالانی جیسے سندھی نوجوان سمیت ان گنت نام شامل تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب ہند و پاکستان کے کرمنل پروسیجر کوڈ سے سزاۓ موت ختم کردینی چاہیے تھی لیکن وہ پھانسی کی رسی دونوں ممالک میں قومی پرچموں کی طرح جھولتی رہی۔ اتنے لوگ کبھی پھانسی پر نہیں چڑھے ہونگے جتنے بےگناہ یا قانونی ابہام کی وجہ سے چڑھائے گئے ہونگے ۔ اس کی ایک نظیر پاکستان ميں خود محرم علی کیس ہے جس میں قتل کے ایک مبینہ ملزم کو غلط طور پر پھانسی کی سزا دی گئی تھی- نہ پھانسی کی سزا سے مقتول کے ورثا کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑتی ہوگی اور نہ ہی مستقبل کے قاتلوں کیلیے اس سے کوئی دیدہ عبرت نگاہ۔ یہ تو آنکھ کے بدلے آنکھ والی بات ہوئی جیسے گاندھی جی نے کہا تھا اس اصول سے تو تمام دنیا اندھی بن جاۓ گي- 'دشمن مرے تے خوشی نہ کیے سجنان وی ٹر جانا اے،' یہ پنجابی صوفی شاعر میاں محمد بخش کیپیٹل پنشمینٹ کیخلاف تھے- آلبر کامیو کی کہانی ہے کہ پیرس میں کسی جیب کترے کو دوسروں کےلیے دیدہء عبرت بنانے کے لیے سرعام پھانسی کی سزا دی گئی جسے دیکھنے کےلیے لوگوں کا بڑا مجمع ا کھٹا ہوا۔ جب مجمع چھٹا تو کئی لوگوں کی جیبیں کٹ چکی تھیں! پاکستان میں کم از کم دو وزیر اعظم ایسے آئے جن کے والدین کو پھانسی کی سزائيں دی گئی تھیں لیکن ان وزرائے اعظم نے بھی ملک میں سزا موت ختم کرنے کے سلسلے میں کچھ اقدام نہیں کیا۔ یہ وزراۓ اعظم ،ایک تو تھی بینظیر بھٹو اور دوسرے تھے معین قریشی جنکے والد موالانا عبدالقادر قصوری کو انگریزوں کے دور میں پھانسی دی گئی تھی- جبکہ انگریزوں کے دور حکومت میں ہی پیر پگاڑو صبغت اللہ شاہ راشدی سمیت ان کے سینکڑوں معتدقدین حروں کو پھانسیاں دی گئیں۔گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں کچھ دانشور اور سیاسی حلقوں کی طرف سےباقاعدہ طور برطانوی حکومت سے حر بغاوت کے دوران حرآبادی کے ساتھ ہونیوالی ریاستی زیادتیوں پر معافی کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔ بلوچ جنگجؤں کوبھی ایوب حکومت نے پھانسی کی سزائيں دی۔ اور ضیاءالحق کے دور کو پھانسیوں کے حوالے سےہی 'تارا مسیح کا دور‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں سندھ کے وزیر اعلی عبداللہ شاہ نے ، جن کے والد کو کئی برس قبل قتل کیا گیا تھا، جیلوں میں پھانیسوں کو پبلک کیا۔ سنٹرل جیل کراچی میں قیدی جمع ہوتے اور انہیں پھانسی کا منظر دکھایا جاتا! فوجی حمکران جنرل پرویز مشرف تو اپنے پر قاتلانہ حملوں کے کیس میں خود مدعی اور منصف اور خود ہی اپنے حملہ آوروں کی رحم کی اپیلیں مسترد کرنے کے مجاز ٹھرے- مبجھے حیرت اسوقت ہوتی ہے جب خود کو اچھے خاصے انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے لوگ بھی کسی مبینہ ملزم کو ’پھانسی یا سرعام پھانسی‘ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مثال کی طور پر ’ٹنڈو بہاول کے ذمہ داران کو سر عام پھانسی دی جاۓ‘ ایک دفعہ سیاسی لوگوں کے جلسے میں ایسی ’متفقہ قرارداد‘ پر اس وقت وہاں موجود صرف جسٹس دراب پٹیل واحدشخص تھے جنہوں نے اس قرارداد سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ انتہائی پڑھا لکھا اور حساس نوجوان گوہر خان جتوئی تحصیلدار تھا جسکی بطور میجسٹریٹ ڈیوٹی ٹنڈو بہاول ہلاکتوں کے اہم ملزم میجر ارشد جمیل کی پھانسی کی نگہداری کرنے پر لگي تھی اور کچھ دنوں کے بعد گوہر خان جتوئی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر خودکشی کرلی تھی۔ کہتے ہیں جلاد تارا مسیح کو سرکاری طور بھٹو کی پھانسی دینے کے فرائض سرانجام دینے پر محکمہ جیل خانہ جات کی طرف سے سے مبلغ ستائیس روپے الاؤنس ادا کیا گیا تھا- | اسی بارے میں خط، جنرل اور’تار‘27 July, 2006 | قلم اور کالم ’پاکستان: سیاسی قتلوں کی تاریخ‘31 August, 2006 | قلم اور کالم دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں02 June, 2006 | قلم اور کالم نیا قبیلہ اور سردار02 September, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||