BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 September, 2006, 01:16 GMT 06:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف، بوٹا ڈھول والا اور پتھر کا دور

بش، مشرف
صدر بش جیسے ’کتابوں کے عاشق‘ نے وہائٹ ہاؤس کی مشترکہ پریس کانفرنس کانعرہ ہی ’بائے دا بک‘ بنادیا
کسی زمانے میں سندھی اخبارات میں سنسنی خیز انکشافات پر مبنی آدھے سے بھی کم خبر چھپتی اور اس کے آخر میں لکھا جاتا تھا ’مزید پھاٹ پھٹنے کے امکانات ہیں‘ ( یعنی ’مزید انکشافات متوقع ہیں‘)۔ کچھ ایسا ہی رویہ پاکستان کے فوجی حکمران صدر مشرف نے اپنی جلد ہی نمائش کیلیئے پیش کی جانیوالی کتاب ’آن دی لائین آف فائر‘ اور بقول انکے، مبینہ ’امریکی دھمکی‘ کے بارے میں اختیار کیا ہوا ہے۔

اگر پاکستان میں فوجی جنرل کامیاب سیاستدان یا مصنف ہوتے تو آج خود ساختہ فیلڈ مارشل اور جنرل پرویز مشرف کے ’آئیڈیل‘ جنرل ایوب خان کی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ ایک یادگار اور شاہکار کتاب کے طور پر پڑھی جا رہی ہوتی۔

لیکن جنرل مشرف تو بنفس نفیس اپنی کتاب کی پبلسٹی کا چلتا پھرتا شعبہ بنے ہوئے ہیں کہ انہوں نے پاکستان سے باہر اس کے ’مہورت‘ سے بھی بہت دنوں پہلے پاکستان۔ امریکہ تعلقات کی قیمت پر ان کو مبینہ امریکی دھمکی جیسے ’پھاٹ‘ پھاڑ کر راتوں رات اپنی کتاب کو ’بیسٹ سیلر‘ بنا دیا ہے۔

گویا کہ صدر بش جیسے ’کتابوں کے عاشق‘ نے بھی جنرل مشرف کی امریکی دھمکی کے دعوے پر محو حیرت ہوتے ہوئے بھی وائٹ ہاؤس میں دونوں سربراہان کی مشترکہ پریس کانفرنس کا نعرہ ہی ’بائے دا بک‘ بنا دیا۔

جنرل کامیاب مصنف ہوتے تو؟
 پاکستانی جنرل کامیاب سیاستدان یا مصنف ہوتے تو آج خود ساختہ فیلڈ مارشل اور جنرل پرویز مشرف کے ’آئیڈیل‘ جنرل ایوب خان کی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ ایک یادگار اور شاہکار کتاب کے طور پر پڑھی جا رہی ہوتی

کل اگر صدر بش سے ان کی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے ’بائیبل اوران دی لائن آف فائر‘ ہو سکتا ہے ہالی ووڈ والے کل ’ان دی لائين آف فائر ٹو‘ بھی بنادیں۔

جنرل مشرف کے امریکی دھمکی والے اس انکشاف پر، اگر صدر بش علامہ اقبال ہوتے تو مشرف سے ضرور کہتے ’تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن‘۔ یہ ما بعدگیارہ سمتبر امریکہ ہے یہاں اگر اکیسویں صدی میں بھی پاکستان کا فوجی ڈکٹیٹر مشرف بک جاتا ہے تو پھر ان کی کتاب اور کوئی بھی ایسا سرمہ بک جائے گا۔ اگر یہ ما بعد گیارہ ستمبر والی دنیا نہ ہوتی تو شائد جنرل مشرف کا مبینہ امریکی دھمکی والا بیان 'سفارتی خود کشی' کی کوشش کے مترادف کہلاتا۔

ویسے وہ اس طرح کے بیانات دے کر اپنے خیر خواہوں کو بھی شرمسار کردیتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے سابقہ امریکی دورے کے دوران کہا تھا کہ ’پاکستان میں عورتیں امریکہ اور کینیڈا کا ویزہ لینے کیلیے خود کو ریپ کرواتی ہیں‘۔

امریکہ اور یورپ تو کیا خود پاکستان میں بھی ان کی یہ ’بقلم خود‘ خودنوشت سوانح عمری ’ان دی لائین آف فائر‘ بغیر اردو کسی بھی مقامی زبان میں تراجم کے انگریزی اور امریکی ایڈیشن کی صورت میں بھی راتوں رات ہر گاؤں، قریہ، شہر شہر ’سر آنکھوں پر‘ ر کھ کر پٹواریوں کی توسط سے بکے گی۔

پٹواریوں کی توسط سے بکے گی
 ’ان دی لائین آف فائر‘ بغیر اردو کسی بھی مقامی زبانوں میں تراجم کے انگریزی اور امریکی ایڈیشن کی صورت میں بھی راتوں رات ہر گاؤں، قریہ، شہر شہر ’سر آنکھوں پر‘ ر کھ کر پٹواریوں کی توسط سے بکے گی

خاص طور پر چودھریوں کے گجرات میں تو شاید یہ فلم مولا جٹ سے بھی بازی جیت جائے اور شاید بوٹے ڈھول والے کی تھاپ اور بھنگڑوں پر بکے۔ امید کی جائے اگر جنرل مشرف باوردی اور پاکستان کے صدر رہے تو پھرگجرات کے بوٹے
ڈھول والے کو ’ستارہ امتیاز‘ نہیں تو کم از کم ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ ضرور دیا جائے گا اور دیا بھی جانا چاہیئے کیونکہ صدر مشرف نے تو اپنے دورے کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن بوٹے ڈھول والے نے اسے کامیاب بنا دیا۔

انسانوں کے سمگلر، چودھری، سیاسی سوداگر، نیویارک کے پیلی ٹیکسی والے اور بوٹا ڈھول والا، یہ سب گجرات کے حوالے ہیں۔

اگلی بار ان کی آمد پر مشرف مخالف ریلیوں میں شاید سندھی ’دہل‘ (ڈھول) شہنائی والے منگنہار اور بلوچی سارندے نواز شریک ہوں لیکن اصل فنکار تو گجرات کے چودھری ہی کہلائیں گے۔

میں نے نیویارک میں صدر پرویز مشرف کو ستمبر سنہ دو ہزار والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنرل پرویز مشرف کو دنیا کے سربراہان مملکت کے گروپ فوٹو میں تیسری یا چوتھی قطار میں کیوبا کے صدر فیڈل کاسٹرو سے بھی پـیچھے دیکھا تھا۔ اور اب یہ اسی جنرل اسمبلی میں سربراہان مملکت کی صف اول میں تھے۔

تھائی لینڈ اور امریکہ کا فرق!
 کوفی عنان سمیت تمام رہنما تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کی تو مذمت کرتے تھے لیکن پاکستان کے جنرل مشرف سے فخریہ بغل گير ہو رہے تھے

کوفی عنان سمیت تمام رہنما تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کی تو مذمت کرتے تھے لیکن پاکستان کے جنرل مشرف سے فخریہ بغل گير ہو رہے تھے۔ امریکہ کو پاکستان سے اپنی خارجہ پالیسیوں کی تاریخ میں شاید ہی ایسا ’کون آرٹسٹ‘ ملا ہو۔

جس کے ملک میں سیاسی مخالف لاپتہ اور قتل ہوتے ہوں، جو مُلاؤں کا فطری اتحادی بھی ہو اور ملک سے باہر اعتدال پسند روشن خیال بھی۔

انہوں نے اگر دراندازوں اور جہادیوں کے کاندھوں پر چڑہ کر کارگل کی لڑائی نہ لڑی ہوتی تو خود کو امن کے نوبیل پرائز کے لیئے بھی نامزد کرواتے۔ کوئی کہہ رہا تھا پاکستانی فوج کارگل میں جو اپنی فوج کی لاشیں اپنے پیچھے چھوڑ آئی تھی وہ بھی ہندوستان نے انہیں عزت اور احترام سے دفن کرنے کے لیئے واپس کردی تھیں (ہندستان کی فوجی نوکرشاہی جس نے کارگل میں مارے گئے اپنے فوجیوں کے تو تابوتوں پر بھی رشوت کھائي تھی!) لیکن پاکستانی فوج نے بگٹی کی لاش ان کے ورثا کو نہیں دی۔

صدر مشرف نے اپنی کتاب میں خود کو کارگل کا فاتح اور نواز شریف کو سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے آگے گھٹنے ٹیک دینے والا کہا ہے۔

یہ تب کی بات ہے جب صدر کلنٹن پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو ان سے براہ راست ملنے سے بھی گریز کیا تھا اور اب ان کو اپنے کلنٹن سینٹر میں بڑی پذیرائی سے بلاتے ہیں۔ ان کا کسی ریستوران میں سن کر ان سے خود ملنے کو آتے ہیں۔ یہ امریکہ کی اس دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سنجیدگي ہے جس کے تین ہزار نہتے شہری ان لوگوں نے اللہ اور اسلام کے نام پر مار ڈالے جن کے ڈانڈے پاکستانی غاروں میں ملتے ہیں، وہ وہاں چُھپے ہوئے بتائے جاتے ہیں اور انہیں کے بل پر پاکستانی جنرلوں کی دکان خوب سجی ہوئی ہے۔

کل نیشنل پبلک ریڈیو ( این پی آر) پر افغانستان اور دہشت گردی پر مشہور صحافی اور کتاب 'گھوسٹ وارز' کے مصنف سٹیو کول کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور صدر مشرف کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ ان کے حالیہ دورے کے دوران امریکہ نے طالبان کی قیادت کو پکڑنے کے لیئے ان پر شدید زور دیا ہے۔ سٹیو کول کے مطابق، طالبان کی قیادت کوئٹہ میں چھپی ہوئی ہے اور وہاں سے ان کی مرکزی شوریٰ کام کررہی ہے۔

اصل دھمکی یا مشورہ
 امریکی تھنک ٹینکس نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر صدر مشرف دو ہزار سات کے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں تو فوج کے سربراہ کے عہدے سے استعفی دے کر بغیر وردی کے لڑیں

ایک اور سابق صحافی اور ایشیائی امور کے ماہر سیلگ ہیریسن کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ صدر مشرف پر پاکستان میں دو ہزار سات کے انتخابات میں دو جلاوطن سابق وزرائے ا‏عظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو وطن واپسی اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کیلیے دباؤ ڈالا جائے۔ جب کہ امریکی انتظامیہ کو کچھ امریکی تھنک ٹینکس نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر صدر مشرف دو ہزار سات کے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں تو فوج کے سربراہ کے عہدے سے استعفی دے کر بغیر وردی کے لڑیں۔ شاید یہی اصل ’دھمکی‘ ہے جس کی وجہ سے فوجی صدر مشرف کو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں کہنا پڑا کہ اگر وہ وردی میں نہ ہوتے تو حددو آرڈیننس کو کبھی چھیڑ نہیں سکتے تھے۔' شاید وہ اپنی وردی اتارنےاور مذہبی جماعتوں اور طالبان کو واقعی ’تین پتھر طلاق کے‘ دینے کو ہی پاکستان کی پتھر کے دور میں واپسی سمجھتے ہیں!
جون سٹیورٹ فائرنگ کی زد میں
جون سٹیورٹ کے شو پر جنرل مشرف
بلوچستان تنازع
’صدر پرویز مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘
’نیٹ پریکٹس‘
مشرف کا دورہِ کابل: کیا کھویا کیا پایا؟
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
جنرل مشرف اقتدار چھوڑ دیں؟ایک اور خط
جنرل مشرف اقتدار چھوڑ دیں؟ رائے دیں
صدر جنرل پرویز مشرفصدر کے لیئے خطوط
کیا یہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی سعی ہے؟
مشرف ’بدعنوانی کی کہانی‘
حکومتی’بدعنوانیاں‘ اور اپوزیشن کا سیمینار
اسی بارے میں
صدر مشرف کیا کہتے ہیں
22 September, 2006 | آس پاس
مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل
22 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد