دیسی نیویارک: کریکٹروں کا شہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب بھی گیا ہوں، مجھے وہ شہر، نیا نیا، اپنا، پرایا، انگشت بدنداں کردینے والا اور تھوڑا تھوڑا ڈراؤنا لگا ہے۔ بالکل ایک ایسے شخص کی طرح جو کبھی آپ کو یار تو کبھی غیر لگتا ہو۔ نیویارک واقعی کریکٹروں کا شہر ہے۔ بیوی بچے کی ویکیشن اور مجھے ہر دم مارتی ہوئي ناستلجیا نے کام کر دکھایا اور ہم نے شہر نیویارک کا رخ کیا۔ ہم سب سے پہلے کوئنز کے علاقے میں جاکر اترے، جہاں جیکسن ہائٹس کو دیکھ کر میرے بیٹے نے کہا: ’او مائی گاڈ۔ یہاں تو سارے، ’اپنے ہی لوگ‘ نظر آ رہے ہیں۔‘۔ میرا بیٹا ہندستانی پاکستانی یا جنوبی ایشیائي اور مشرقی وسط ایشیائي تمام لوگوں کیلیے ’ہمارےاون پیپل‘ کی اصطلاح استعمال کرنے لگا ہے! ہماری پرواز میں اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے بزرگ سکھ نے فلائٹ اٹنڈنٹ یا فضائي میزبان خاتون سے سیدھے سادے اور واضح انداز میں ’واٹر ود نو آئيس‘ کہا، تو وہ اسے کبھی ’واڈکا ود آئس، تو کبھی وائین، تو کبھی وہسکی ودہ آئس‘ سمجھتی رہی ۔ مجھے لگا وہ بابے کی بات سننے پر مائل ہی نہیں تھی۔ آج کی دنیا میں انٹرنیشنل ٹیررازم اور انٹرنیشنل ٹورازم نے انسان سے انسان کے بنیادی رویے ہی بدل ڈالے ہیں۔ بس صرف بکسوں اور سوٹ کیسوں کی شکلیں ایک جیسی رہ گئي ہیں جنہیں ’بیگیج کلیم‘ پر یاد رکھنے کیلیے مسافروں نے نیلی پیلی لیریں اور دھاگے باندھے ہوئے ہیں۔
’رنگ، نسل اور مذہب جو بھی ہے آدمی سے کمتر ہے تم بھی میری طرح یہ مان جاؤ تو کوئی بات بنے‘ کیا آپ نے کبھی ساحر کا یہ گیت (غالباً) رفیع کی آواز میں سنا تھا۔ بندہ بندے کو کھا رہا ہے اور بندہ بندے سے ڈر رہا ہے۔ میرا ایک دوست اس پوری دھینگا مشتی کے بارے میں کہتا ہے ’لڑ کون رہا ہے اور مر کون رہا ہے‘۔ مجھے یقین ہے کہ لیپ ٹاپ اٹھائے ہوئے سوٹ اور پگڑی والے اس سکھ بابے نے، جس کے ادا کیے ہوئے لفظ ’واٹر‘ کو یہ مشرقی شمالی امریکی فضائي میزبان سمجھنے پر تیار نہیں، ایک پوری زندگي امریکہ اور انگریزی زبان میں بتائي ہوگی۔ ان کا لہجہ تو میرے جیسا بھی نہیں تھا۔ اپنے بارے میں تو مجھے یاد ہے کہ سٹار بکس کی لڑکی میرے ’واٹر‘ مانگنے پر مجھے کوارٹر (پچیس سینٹ کا سکہ) دینے لگي تھی۔ آج سے تینتیس برس قبل ربوہ کی گلی میں مٹھائي کی دکان چلانے والے عبدالحمید کو کیا پتہ تھا کہ ذوالفقعار علی بھٹو کی حکومت ان کے فرقہ احمدیہ کو پاکستان کے آئين (ستم یہ ہے کہ اسی دستور کو ہم سب مانتے ہیں۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب جب بینظیر بھٹو اقتدار میں آئيں گی تو اپنے ابا کی اس غلطی کی درستگی فرماکر اپنی ’اصلی روشن خیالی‘ کا ثبوت دیں گی) میں ’خارج از اسلام‘ قرار دلوا دیں گے اور انہیں اور ان کی بیوی کو امریکہ کے شہر نیویارک میں بنگلہ دیشیوں، ہندستانیوں اور پاکستانیوں کے علاقے جیکسن ہائیٹس میں کھانے کا ایک چھوٹا سا ڈھابہ لگانا پڑے گا جو اب شمالی امریکہ میں دیسی کھانے اور مٹھائیوں کی بڑی چین کہلاتا ہے۔ نیویارک میں جیکسن ہائٹیس اور اس میں شاہین ریسٹوراں دلچسپ جگہیں ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کچھ ’حاسد لوگ‘ کہتے ہیں کہ کئي دیسی بزنس والے پاکستانی ہندوستانی لڑکوں لڑکیوں کو امریکہ سپانسرشپ کی ترغیب دے کر لانے اور بیگار کی مشقت کروانے میں شامل ہیں۔ مجھے نیویارک کا تو اتنا پتہ نہیں لیکن سان ڈیاگو میں کپور تھلہ (انڈیا) کی اجیت کور اور اس کے میاں گیان چند کوایک پاکستانی ریستوران میں بیگاری مشقت کرتے دیکھ کر خود سے کہنا پڑتا ہے: کون کہتا ہے کہ امریکہ میں غلامی ختم ہوگئي ہے۔ کم از کم دیسیوں کے پاس تو نہیں۔ ہیلری کلنٹن سمیت کسی بھی امریکی سینیٹر یا رکن کانگریس کو پتہ ہونا تو چاہیے کہ جس ریستوران میں ان کی فنڈ ریزنگ کے لیے دس ہزار ڈالر میں ڈنر پلیٹ فروخت کی جا رہی ہے اس کا ڈش واشر کوئی اور نہیں ایک تارک الوطن جبری محنت کش ہے۔ ’ورکروں کی ضرورت ہے: رہائش فری، معقول تنخواہ، زیادہ گھنٹے اور سپانسر بھی کیا جا سکتا ہے‘ یا ڈاکٹر جوڑے کو بچوں کی دیکھ بھال کیلیے لِیو اِن ہاؤس کیپر نینی کی ضرورت ہے‘ اور ’قران حفظ و ناظرہ، ماسٹر امر، بابا بودلہ سائیں المعروف بابا جناں والا، رجسٹرڈ نکاح خواں اور مساج: تین نوجوان روسی لڑکیاں بارہ بجے دن سے رات بارہ بجے تک نئی لوکیشن پر‘ وغیرہ وغیرہ جیسے مضامین کے اشتہارات نیویارک کے دیسی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
بغیر امیگریشن دستاویزات والے ورکر تو اپنی بیگاری اور لٹی ہوئی محنت پر حکومت کو شکایت بھی نہیں کرتے کہ انہیں ڈیپورٹ ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ حالانکہ امریکی لیبر اور دیگر قوانین کے تحت ورکروں سے انصاف کا ان کی امیگریشن حیثیت سے کوئی تعلق نہیں۔ دیسی ریستوراں ہوں کہ گیس سٹیشنز، دکانیں ہوں کہ پرائیویٹ سکیورٹی ایجینسیاں، ٹیکسی یا لمیوزین کمپنیاں حتیٰ کہ ذاتی گھروں میں بھی، امریکہ میں تارک وطن محنت کش مرد و عورت کی دیسی غلامی کسی روک ٹوک اور جھجک کے بغیر جاری و ساری ہے اور ایسے کئي خاندان گروی پڑے ہوئے ہیں۔ کئي سال ہوئے کہ میں نے سنا تھا کولمبیا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ایمریٹس نے بھی اپنے بچے کے دیکھ بھال کے لیے جو نینی سپانسر کی تھی اسکی ’تنخواہ‘ اس کی بیٹی کو ہندوستان میں ہندوستانی روپوں میں ہی ادا کی جاتی تھی۔ اسی لیے تو ہسپانوی میں میکسیکن لوگ کہتے ہیں ’مچو ترواہو پکیتو دنیرو‘ (کام زیادہ ہے اور پیسے کم) ٹیکساس میں تو پاکستانی بھی ہسپانوی بولتے ہیں لیکن نیویارک کی ’سبزی منڈی‘ میں ہسپانوی بولنے والے بھی پنجابی بولتے ہیں۔
’بھینسوں کو چـارہ دینا ہو، دہائی کرنی ہو کہ ساگ کاٹنا۔ سب چیزوں کا خیال رکھنا‘ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ٹیکسی ڈارئیور اُس سرد رات ہمیں کوئنز میں اپنی ہوٹل لے جاتے ہوئے سیل فون پر اپنے گاؤں بات کر رہا تھا۔ ’پان حاضر ہے‘ یہ سگرٹ پان کے کھوکھے اس چھوٹے سے لیکن خوبصورت (کیبن) کا نام ہے جو ’کنگ کباب‘ نامی ریستوران میں ہے۔ کئي سال پہلے اس سے بھی سرد رات ’چٹھی آئی ہے آئی ہے۔۔۔۔‘ والا گانا سنا تھا۔ وہی رش اور وہی رنگ تھا لیکن جوگانا اب اس رات بج رہا تھا وہ تھا: ’میرا نام ہے البیلی چلی آئی میں اکیلی بیکانیر سے‘۔ اس کے ساتھ والے مشہور تھیٹر میں فلم ’نمستے لندن‘ بھی دیکھی۔ مینہٹن میں ’کیفے کشمیر‘ نامی ریستوران میں لوگوں کو مشرف پر بہت غصے میں دیکھا۔ ’آج مشرف کے خلاف اقوام متحدہ کے سامنے مظاہرہ ہے ضرور چلیں گے‘ ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے اپنے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے کیفے کے ملازم سے کہا۔ میں اس بار نیویارک میں یاد نہیں کہ کہاں پر پیرو کے عظم ناول نگار ماریو ورگاس لوسا کا ناول ’فیسٹ آف دی گوٹ‘ بھول آیا۔ ’چلو مجھے کسی بارڈرس بک شاپ پر لے چلو‘ مجھے میرے بیٹے نے کہا۔ میں نے سوچا ’اب اسے میں کیا بتاؤں کہ جو بارڈر میں نیویارک میں جانتا تھا وہ صرف ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں تھا۔ جہاں میں کئي دوپہریں بیٹھا کرتا تھا‘۔
چار اپریل کی اس صبح سے بڑی بارش ہو رہی تھی۔ ’گراؤنڈ زیرو کیسے جایا جائے گا؟‘ میں نے جیکسن ہائیٹس سٹیشن کے بوتھ پر بنگالی کنڈکٹر سے پوچھا۔ ای ٹرین کی جو آخری سٹیشن ہے وہیں گراؤنڈ زیرو ہے؟ اس نے کہا۔ نہ جانے امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری والے سندھی کاشی کے کام والا ’مرحوم و مغفور حاجی ولی محمد ولد محمد صالح خاصخیلی‘ کے قبر کا کتبہ ’ایشین پیپل‘ والے سیکشن میں کہاں سے لائے ہیں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||