BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 January, 2007, 00:48 GMT 05:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شلپا شیٹی اور دیسی بِگ برادر

شلپا شیٹی بِگ برادر کے ایک منظر میں
ویسے تو ہم میں سے ہزاروں دیسی ہر روز ولایت میں کھلی یا ڈھکی نسل پرستی کا سرکاری یا غیرسرکاری محسوس یا غیرمحسوس طریقے شکار ہوتے رہتے ہیں لیکن جب معاملہ شلپا شیٹی کے ساتھ چند انگریزوں کی چینل فور پر ’چہڑا مینٹلٹی‘ کا مظاہرہ کرنے کا آیا تو ہمیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا- (چہڑا کوئی بھی انسان نہیں، چہڑا پن ایک ذہینیت ہے-)

آپس کی بات ہے ویسے اپنے دیسوں میں یا ہم دیسیوں کیساتھ ہم بھی بڑے انگریز بنتے ہیں!

جس دن شلپا شیٹی کا معاملہ اٹھا اس دن میں فلم ’منگل پانڈے‘ کرائے پر لے آیا تھا- ’ہم تمہارے لیے فارین لینگوئج موویز کے سیکشن میں بہت سی فلمیں لائے ہیں‘، میری پبلک لائبریری کے لائبریرین نے مجھ سے کہا- ’میں اسے کیوں فارین لگتا ہوں!‘ میں نے لائبریرین کی بات پر کڑہتے ہوئے سوچا-

لیکن مجھے منگل پانڈے کی ڈی وی ڈی ’فارین فلموں‘ کے سیکشن سے نہیں امریکی یا انگریزی فلموں کے سیکشن سے ملی - ’فارین لینگیوئج‘ فلموں کے ریک پر مجھے ہالی ووڈ کے اداکار عمر شریف کی فرانسیسی فلم ’موسیو ابراہیم‘ ملی کیا کلاس کی فلم ہے!

’تم شراب کیوں پی رہے ہو، تم تو مسلمان ہو؟‘ فرانسیسسی لڑکا گروسری کے دکاندار عمر شریف سے کہتا ہے- ’ہاں مگر میں صوفی ہوں،‘ عمر شریف کہتا ہے-’پیرس کی شانزے لیزا کی طوائفوں سے لیکر استنبول ميں رومی کے فقیروں کے رقص درویشاں تک سب اس فلم میں ہے- جیسے 'منگل پانڈے' میں ستی۔ مجرے۔ طوائفیں، کبڈی کشتی، بال روم ڈانسز وغیرہ سب مصالحے موجود ہیں-

مجھے مسئلہ امریکی نژاد لائـبریرین سے نہیں دیسی لائـبریرین سے تھا- جب ایشیائی ویک منانے کو آیا تو میری لائبـریری میں ایشیا کی مشہور خواتین میں سے صرف اندرا گاندھی کا پورٹریٹ آویزاں تھا- میں دیسی لائـبریرین کو پتہ نہیں کیوں کہنا چاہتا تھا کہ حسینہ واجد اور بینظیر بھٹو بھی تو ایشین ہیں؟ لیکن نہیں کہ سکا- بالکل ایسے جیسے میں اس دفعہ جمیل دہلوی کی پرانی فلم ’بلڈ آف حسین‘ آرڈر کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کرسکا کہ کہیں یہ لوگ ’حسین‘ کو صدام حسین نہ سمجھ بیٹھیں!

شلپا سے سلمان رشدی تک
 ویسے بھارت اور پاکستان بھی نسل پرستی میں اپنے گھر سے کھاتے ہیں۔ دونوں ’نیوکلیائي زینوفوبیا‘ کے نشے میں اندھی مست قومیں- کوئی رام رتھ کی اندھی سواری پر چڑھا ہوا تو کوئي دین میں دشت ظلمات کے گھوڑے دوڑاتا ہوا- شپلا شیٹی کےساتھ تو بدیس میں جو ہوا سو کل ہوا لیکن ہم نے مصور ایم ایف حسین، تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی اور صوفی عرب حسین کیساتھ جو کچھ کیا ہے وہ کونسی عظیم الشان تہذیب کا تقاضہ ہے؟
میں لائبریری سے ایک اور فلم بھی لایا ’ٹرٹلز کین فلائي‘ (کچھوے اڑ سکتے ہیں) جو کرد بچوں کے بارے میں ہے- عراق جنگ کے دہانے پر کرد مہاجر خيمہ بستی میں یہ بچے اپنی روزی روٹی بارودی سرنگيں جمع کرکے انکو بیچنے سے کماتے ہوتے ہیں-

’منگل پانڈے‘ کی ڈی وی ڈی کے کور پر عامر خان کو بندوق ہاتھ میں پکڑے ہوئے دیکھ کر میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا: ’یہ بیڈ گائے ہے یا گڈ گائی؟‘۔ غیرمنقسم ہندستان میں سن اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی اور میرے پسندیدہ امریکی میگزین ’اٹلانٹک منتھلی‘ کی عمر ایک ہی جتنی ہے- اگر معاملہ صرف گائے اور سوور کی چربی والے کارتوس کے کونے کو دانت سے کاٹنے کا تھا تو اس میں کیا بڑی ڈیل تھی؟

میں نے اپنے دوست اسلم خواجہ سے ٹیلیفون پر پوچھا جو اٹھارہ سو ستاون کے ڈیڑھ سو سال پورے ہونے پر ’اٹھارہ سو ستاون میں سندھ اور پنجاب کا کردار‘ پر ایک کتاب لکھ رہا ہے- میں نے منگل پانڈے کا نام پہلی بار شیخ ایاز کی شاعری کی توسط سے سنا تھا- لیکن فلم والا منگل پانڈے تو کافی چھچھورا نکلا!

ہنستانی پٹیل کی گروسری اور ہندستانی ریستوران میں لائين میں پہلے ہوتے ہوئے بھی سرو ’انگریز‘ کو کیا جاتا ہے- بگ برادر میں شلپا شیٹی جیسا سلوک آپکے ساتھ اپنی باڈی لینگوئج میں وڈیو کی پنجابی خاتون بھی کرتی ہے تو راجو مصالحے والا بھی-

اگر آپ کو ولایتی یا دیسی نسل پرستی کا لگے ہاتھوں تجربہ حاصل کرنا ہے تو برطانیہ یا امریکہ میں کسی سروس اسٹیشن پر نوکری کرلیں یا ٹیکسی چلالیں- لاس اینجلس ٹائمز کے ایک قاری نے ایڈیٹر کے نام خط میں لکھا: ’یہ جو شیعہ سنی عراق میں ایک دوسرے کیساتھ آج کررہے ہیں یہی انیس سو بیانوے کے نسلی فسادات میں لاس اینجلس میں دیکھنے میں آيا تھا-‘

دیسی نسل پرستی؟
 بھارتی گجرات میں عیسائي اور مسلمانوں، کشمیر میں مسلمانوں، پنڈتوں اور سکھوں کے انسانی کیا صرف زندہ رہنے کے حقوق کے بھی باجے بجادیے گۓ- ہندوؤں، عورتوں، ہیجڑوں اور ہم جنس پرستوں کے لیے پاک سرزمین تپتا تانبہ بنی ہوئي ہے- بلوچوں کو ترقی یافتہ اور پکا پاکستانی بنانے کے لیے انکے معزز رہنماؤں کے لیے جیل میں عدالتیں اور عدالتوں میں آہنی پنجرے اور ان کی لاشوں کےلیے ’میڈ ان چائنا‘ تالہ بند بکسے بنوائے گئے ہیں، یعنی کہ ترقی کے میگا پروجیکٹوں سے لیکر مقتول لیڈروں کی لاشوں پر تالوں تک پاک-چین دوستی زندہ آباد-
ہندستانی اور پاکستانی تو امریکہ میں کئي برسوں سے آباد ہیں، کیا ان میں سے کسی نے بھی گاندھی کی طرز پر ستیہ گرہ کرنے والے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی نسل پرستی کے خلاف ’سول رائٹس‘ کی تاریخی تحریک میں حصہ لیا؟

ویسے بھارت اور پاکستان بھی نسل پرستی میں اپنے گھر سے کھاتے ہیں۔ دونوں ’نیوکلیائي زینوفوبیا‘ کے نشے میں اندھی مست قومیں- کوئی رام رتھ کی اندھی سواری پر چڑھا ہوا تو کوئي دین میں دشت ظلمات کے گھوڑے دوڑاتا ہوا- شپلا شیٹی کےساتھ تو بدیس میں جو ہوا سو کل ہوا لیکن ہم نے مصور ایم ایف حسین، تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی اور صوفی عرب حسین کیساتھ جو کچھ کیا ہے وہ کونسی عظیم الشان تہذیب کا تقاضہ ہے؟

بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور قوم پرست رہنما اخترمینگل کو کراچي سنٹرل جیل کے اندر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ان کی سماعت کے دوران ایک آہنی پنجرے میں بند کرنا لگتا ہے یہ پاکستان نہیں بلکہ کل کے جنوبی افریقہ میں پریٹوریا کی نسل پرست حکومت ہے-

ڈاکٹر ایمبیڈکر کے ہندستان میں دلتوں کے ساتھ وہی کچھ ہورہا ہے جو روما اور جپسی لوگوں کیساتھ نازیوں نے یورپ میں کیا تھا- گذشتہ سال برطانیہ سے ایک احمدی شہری مرزا ایوب کوئي تیس سال کے بعد پہلی باراپنے آبائی گھر پاکستان گئے او ر قتل کردیے گئے۔ طارق علی کے چیتے (بھٹو) اور لومڑی (ضیاء الحق) کی بھلائيوں سے سبز حلالی پاسپورٹ بنتا ہی دوسرے کے عقیدے کو گالی دینے سے ہے-

بھارتی گجرات میں عیسائي اور مسلمانوں، کشمیر میں مسلمانوں، پنڈتوں اور سکھوں کے انسانی کیا صرف زندہ رہنے کے حقوق کے بھی باجے بجادیے گۓ- ہندوؤں، عورتوں، ہیجڑوں اور ہم جنس پرستوں کے لیے پاک سرزمین تپتا تانبہ بنی ہوئي ہے- بلوچوں کو ترقی یافتہ اور پکا پاکستانی بنانے کے لیے انکے معزز رہنماؤں کے لیے جیل میں عدالتیں اور عدالتوں میں آہنی پنجرے اور ان کی لاشوں کےلیے ’میڈ ان چائنا‘ تالہ بند بکسے بنوائے گئے ہیں، یعنی کہ ترقی کے میگا پروجیکٹوں سے لیکر مقتول لیڈروں کی لاشوں پر تالوں تک پاک-چین دوستی زندہ آباد-

مانا کہ شلپا شیٹی کیساتھ جو ہوا برا ہوا لیکن کیا سوچ کر برطانیہ میں پنجابی شاعر مظہر ترمذی کو انڈیا ہاؤس والوں نے ویزہ دینے سے انکار کردیا؟ وہ کوئي آئي ایس آئی کے ایجنٹ تو نہیں ہیں، وہ پنجابی کے شاعر ہیں اور وہ وہاں ایک پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا چاہتے تھے- کیا ان کی غزل ’سرخ گلاباں دے موسم وچ پھلاں دے رنگ کالے‘ کسی شلپا شیٹی یا ان کی اداکاری سے کم خوبصورت ہے؟

زیبا کونسا اجمیر کو وہاں سے اکھاڑ کر لاہور لیجاتی! بحث کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ اپنے اپنے تعصبات میں ہم دیسی 'بگ برادر' کے برادروں اور سسٹروں کے بھی مائی باپ ہیں!

شلپا شیٹیبگ برادر میں شلپا
شلپی شیٹی بگ برادر میں رومانس کریں گی
شلپا شیٹیشلپا کی گلابی ساڑھی
بگ برادر ہاؤس میں گلابی ساڑھی میں شلپا کی آمد
شلپاشلپا کے خلاف محاذ
بگ برادر شو میں کچھ عورتیں شلپا سے خفا ہیں
شلپاشلپا کے خلاف محاذ
بگ برادر میں شلپا سے مبینہ نسلی امتیاز؟
بگ برادر اور تعصب
شلپا، نسلی امتیاز اور سیاستدانوں کا ردعمل
شلپابگ برادر اور تعصب
شلپا، نسلی امتیاز اور سیاستدانوں کا ردعمل
اسی بارے میں
ایڈز پر بالی وڈ کی پہلی فلم
24 August, 2004 | فن فنکار
شائقین کے لیےمیٹھا ’زہر‘
24 March, 2005 | فن فنکار
جیڈ گوڈی بِگ برادر سے آؤٹ
19 January, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد