 | | | برطانوی معاشرے میں جیڈ گوڈی کے خلاف ایک ماحول سا پیدا ہوگیا تھا |
برطانوی ٹی وی ناظرین نے جمعہ کی شب چینل فور کے متنازعہ پروگرام بِگ برادر سے جیڈ گوڈی کو ووٹ آؤٹ کردیا ہے۔ جیڈ گوڈی پر پروگرام میں شلپا شیٹی کے خلاف نسلی تعصب کے الزامات لگائے جارہے تھے۔ اس ٹی وی شو میں جیڈ گوڈی اور ان کی دیگر ساتھیوں پر شلپا شیٹی کے خلاف نسلی امتیاز برتنے، متعصبانہ فقرے کسنے، انڈین لہجے کا مذاق اڑانے، جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔ بِگ برادر میں بالی وُڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے خلاف جیڈ گوڈی کا رویہ برطانوی اور بھارتی ایوانوں تک پہنچا تھا۔ برطانوی چانسلر گورڈن براؤن نے، جو کہ بھارت کے دورے پر ہیں، جمعہ کے روز اپیل کی تھی کہ ٹی وی کے ناظرین نسل پرستی کے خلاف برطانوی رواداری کے حق میں ووٹ دیں۔ جمعہ کی شب ووٹنگ کے بعد چینل فور ٹیلی ویژن کی میزبان نے بِگ برادر میں حصہ لینے والوں کو بتایا کہ ناظرین نے جیڈ گوڈی کو اس پروگرام سے آؤٹ کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔  | | | شلپا شیٹی کے رویے کی ناظرین نےبڑے پیمانے پر سراہنا کی ہے | برطانیہ میں جیڈ گوڈی کے خلاف عوامی رائے اتنی حساس ہوگئی تھی بِگ برادر کے ناشر چینل فور نے فیصلہ کیا کہ معمول کے برعکس بِگ برادر ہاؤس کے سامنے جمعہ کی شب لوگوں کے مجمعے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس بات کا خدشہ پیش کیا جارہا تھا کہ کہیں نسلی تشدد نہ بھڑک اٹھے۔ساتھ ہی بِگ برادر سے ووٹ آؤٹ ہونے والے فرد کا روایتی طور پر کیا جانے والا پریس کانفرنس بھی کینسل کردیا گیا تھا۔ اس ٹی وی شو میں نسلی امتیاز کا معاملہ اتنا متنازعہ ہوگیا تھا کہ دنیا کہ تمام بڑے اخبار اور ٹی وی نیٹ ورک اس بارے میں بحث کررہے تھے، اگرچہ اس پروگرام کے شرکاء کو بِگ برادر کے ضوابط کے تحت کچھ بھی نہیں معلوم تھا کہ ان کا رویہ بین الاقوامی مباحثے کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جمعہ کے روز برطانیہ کے سب سے بڑے اخبار دی سن نے اپنے قارئین سے کہا تھا کہ وہ جیڈ گوڈی کو ووٹ آؤٹ کریں کیوں کہ ان کی وجہ سے برطانیہ کی بدنامی ہورہی ہے۔ اس پورے پروگرام میں شلپا شیٹی کے رویے کو کافی سراہا گیا ہے۔ شو کے چند شرکاء نے کئی دنوں سے شلپا کے خلاف مل کر محاذ سا بنا یا ہوا تھا۔ جیڈ گوڈی، ڈینیئل لائڈ اور جو او میرا نے پروگرام کے دوران شلپا کے ہندوستانی لہجے کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ شلپا نے ان کے کھانے کو ہاتھ سے چھوا تھا۔ سابق بیوٹی کوئین ڈینیئل لائڈ نے کہا کہ شلپا کے ہاتھ نجانے کتنے گندے ہوں گے۔ |