شلپا برطانوی پارلیمان میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام ’بگ برادر‘ میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز کا معاملہ سیاسی ایوانوں میں پہنچ گیا ہے اور لندن میں بدھ کو ہاؤس آف کامنز میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر سے اس مسئلے پر سوالوں کا جواب دینے کا مطالبہ ہوا۔ انڈیا میں وزراء نے اس معاملے پر بیانات دیئے ہیں اور انڈیا کے دورے پر گئے ہوئے برطانوی وزیرِ خزانہ گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ کئی مرتبہ ان کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’برطانیہ کو ایک انصاف پسند اور متحمل ملک نظر آنا چاہیے۔‘ ادھر شلپا شیٹی کی ماں سونندا شیٹی نے شو کے دوران اپنی بیٹی کے ساتھ ہوئے مبینہ نسلی امتیازی سلوک کو دل دکھانے والا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’مجھے یقین ہے کہ میری بیٹی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتی ہے‘۔ برطانیہ ہی میں نشریاتی امور کا نگران ادارہ ’آفکوم‘ شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسل پرستی پر مبنی سلوک کے خلاف موصول ہونے والی چودہ ہزار پانچ سو شکایتوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ کسی ٹیلی ویژن چینل پر نشر ہونے والے پروگرام سے متعلق اتنی زیادہ شکایات موصول ہونا ایک ریکارڈ ہے۔ خود چینل فور کی انتظامیہ کو جو پروگرام ’بگ برادار‘ نشر کر رہی ہے، براہِ راست دو ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں شلپا کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس تنازع کے بعد پروگرام دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
لندن میں جہاں بالی وڈ ادکارہ شلپا چینل فور کے پروگرام ’بگ برادر‘ میں شریک ہیں، ٹونی بلیئر نے دارالعوام کو بتایا کہ وہ چینل فور کے اس پروگرام پر رائے دینے سے قاصر ہیں کیونکہ انہوں نے یہ پروگرام نہیں دیکھا ہے۔ ہندوستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ آنند شرما نے برطانیہ میں چینل فور پر نشر ہونے والے ٹی وی شو ’بگ برادر‘ میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے خلاف ہونے والے مبینہ نسلی امتیاز کی مذمت کی ہے۔ آنند شرما کا کہنا ہے ’ہندوستان میں نسل پرستی کے خلاف ایک واضح پالیسی ہے اور اس طرح کے واقعات دنیا میں کہیں بھی رونما ہوں ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ملک کے باہر ہوا ہے اس لیے ہندوستانی حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔
بدھ کو برطانیہ میں رکن پارلیمان کیتھ واز نے ٹونی بلیئر سے پارلیمان میں سوال کیا تھا کہ ’نشریاتی اداروں کو لاکھوں عوام تک کوئی بھی ایسا پروگرام نشر کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے جس میں تعصب نظر آتا ہو‘۔ دارالعوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے اور بگ برادر کے ارکان کو یاد دلایا جائے کہ نسلی امتیاز ناقابل قبول ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خزانہ ای ڈی بالز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے الزامات دنیا بھر میں ملک کے امیج کو بگاڑ رہے ہیں۔ ہندوستانی وزیر آنند شرما کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنےآنے پر وہ اس کے بارے میں مناسب اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہذب معاشرے میں نسل پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ بگ برادر کو سپانسر کرنے والے ادارے ’کارفون ویئر ہاؤس‘ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے معاہدے پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نسلی امتیاز کے خلاف ہیں اور انہیں چینل فور پر پورا بھروسہ ہے۔ ہرٹ فورڈ شیئر پولیس نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس پروگرام کے بارے میں دو شکایات ملی ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ بھی نسلی امتیاز سے متعلق ہیں۔
شو کے چند شرکاء نے گزشتہ کئی دنوں سے شلپا کے خلاف مل کر محاذ سا بنا یا ہوا ہے۔ جیڈ گوڈی، ڈینیئل لائڈ اور جو او میرا نے پروگرام کے دوران شلپا کے ہندوستانی لہجے کا بھی مذاق اڑایا۔ انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ شلپا نے ان کے کھانے کو ہاتھ سے چھوا تھا۔ سابق بیوٹی کوئین ڈینیئل لائڈ نے کہا کہ شلپا کے ہاتھ نجانے کتنے گندے ہوں گے۔ پیر کو نشر کی گئی قسط میں او میرا نے کہا کہ انڈین افراد پتلے ہوتے ہیں کیونکہ وہ کچی غذا کھا کھا کر بیمار رہتے ہیں۔ جیڈ بھی پروگرام کے دوران شلپا سے مسلسل بحث میں مصروف نظر آئیں۔ شلپا کی والدہ کا کہنا تھا کہ شوکے دوران شلپا کے رونے کی تصویروں کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر دکھاگیا اور یہ کہ پروگرام کے دوران اس طرح کے سلوک کو روکنا شو کے پروڈیوسر چینل فور کی ذمہ داری تھی۔ ساتھ ہی ان کا خیال ہے کہ شو کے دوران بعض افراد کی طرف سے کیے گئے نسلی امتیاز پر مبنی تبصرے پورے برطانیہ کے عوام کی ترجمانی نہیں کرتے۔ پروگرام کے ایک ترجمان اس سے قبل بگ برادر دکھائے جانے کا دفاع کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو حق ہے کہ تصویر کا اصل رخ دیکھ سکیں۔ جوڈی کی والدہ جیکی شو کے دوران شلپا کو ’انڈین‘ کہہ کر بلاتی رہیں اور وہ ان کے نام کو بھی درست طریقے سے ادا نہیں کرپا رہی تھیں۔ بگ برادر شو سے باہر ہونے والی کیرل میلون کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شلپا کے خلاف واقعات حسد کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ شلپا نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی وہ ایک اچھی خاتون ہیں اور اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ |
اسی بارے میں ’شلپا شیٹی بناوٹی ہے‘ 11 January, 2007 | فن فنکار ہندوستانی ناظرین کے لیئے’بگ برادر‘20 July, 2006 | فن فنکار بگ برادر میں شلپا شیٹی بھی 03 January, 2007 | فن فنکار گلابی ساڑھی، بگ برادر اور شلپا04 January, 2007 | فن فنکار پاکستان میں بہت پیار ملا، شلپا شیٹی 11 February, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||