شلپا، نسلی امتیاز اور سیاستدان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام ’بگ برادر‘ میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز کا معاملہ لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے اور اب تو برطانوی اور ہندوستانی سیاستدان بھی اس معاملےمیں کود پڑے ہیں اور اس بارے میں برطانوی پارلیمان میں بھی سوال و جواب ہورہے ہیں۔ یہ معاملہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے پارلیمان میں سوالات کے دوران بھی اٹھایا گیا۔ تاہم ٹونی بلیئر نے دارالعوام کو بتایا ہے کہ وہ چینل فور کے اس پروگرام پر رائے دینے سے قاصر ہیں کیونکہ انہوں نے یہ پروگرام نہیں دیکھا ہے۔ ہندوستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ آنند شرما نے برطانیہ میں چینل فور پر نشر ہونے والے ٹی وی شو ’بگ برادر‘ میں بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے خلاف ہونے والے مبینہ نسلی امتیاز کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب برطانوی چانسلر گورڈن براؤن بھی مبینہ نسلی امتیاز کے اس معاملے میں کود پڑے ہیں۔ وہ ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کے دوران اس معاملے کو بار بار اٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو منصفانہ اور تحمل مزاج ملک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آنند شرما کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان میں نسل پرستی کے خلاف ایک واضح پالیسی ہے اور اس طرح کے واقعات دنیا میں کہیں بھی رونما ہوں ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ملک کے باہر ہوا ہے اس لیے ہندوستانی حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ برطانیہ میں نشریاتی امور کا نگران ادارہ آفکوم ’بگ برادر‘ میں شلپا شیٹی کے ساتھ مبینہ نسلی امتیاز کی 14500 شکایات پر تحقیقات کر رہا ہے۔ کسی بھی پروگرام کے بارے میں اتنی تعداد میں شکایات اس سے پہلے کبھی نہیں موصول ہوئیں۔
رکن پارلیمان کیتھ واز نے ٹونی بلیئر سے پارلیمان میں سوال کیا تھا کہ ’نشریاتی اداروں کو لاکھوں عوام تک کوئی بھی ایسا پروگرام نشر کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے جس میں تعصب نظر آتا ہو‘۔ دارالعوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیا جائے اور بگ برادر کے ارکان کو یاد دلایا جائے کہ نسلی امتیاز ناقابل قبول ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر خزانہ ای ڈی بالز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے الزامات دنیا بھر میں ملک کے امیج کو بگاڑ رہے ہیں۔ ہندوستانی وزیر آنند شرما کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات سامنےآنے پر وہ اس کے بارے میں مناسب اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہذب معاشرے میں نسل پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ بگ برادر کو سپانسر کرنے والے ادارے ’کارفون ویئر ہاؤس‘ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے معاہدے پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نسلی امتیاز کے خلاف ہیں اور انہیں چینل فور پر پورا بھروسہ ہے۔ ہرٹ فورڈ شیئر پولیس نے بھی کہا ہے کہ انہیں اس پروگرام کے بارے میں دو شکایات ملی ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ بھی نسلی امتیاز سے متعلق ہیں۔
شو کے چند شرکاء نے گزشتہ کئی دنوں سے شلپا کے خلاف مل کر محاذ سا بنا یا ہوا ہے۔ جیڈ گوڈی، ڈینیئل لائڈ اور جو او میرا نے پروگرام کے دوران شلپا کے ہندوستانی لہجے کا بھی مذاق اڑایا۔ انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ شلپا نے ان کے کھانے کو ہاتھ سے چھوا تھا۔ سابق بیوٹی کوئین ڈینیئل لائڈ نے کہا کہ شلپا کے ہاتھ نجانے کتنے گندے ہوں گے۔ پیر کو نشر کی گئی قسط میں او میرا نے کہا کہ انڈین افراد پتلے ہوتے ہیں کیونکہ وہ کچی غذہ کھا کھا کر بیمار رہتےہیں۔ جیڈ بھی پروگرام کے دوران شلپا سے مسلسل بحث میں مصروف نظر آئیں۔ پروگرام کے ایک ترجمان اس سے قبل بگ برادر دکھائے جانے کا دفاع کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو حق ہے کہ تصویر کا اصل رخ دیکھ سکیں۔ جوڈی کی والدہ جیکی شو کے دوران شلپا کو ’انڈین‘ کہہ کر بلاتی رہیں اور وہ ان کے نام کو بھی درست طریقے سے ادا نہیں کرپا رہی تھیں۔ بگ برادر شو سے باہر ہونے والی کیرل میلون کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شلپا کے خلاف واقعات حسد کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ شلپا نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی وہ ایک اچھی خاتون ہیں اور اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ |
اسی بارے میں ’شلپا شیٹی بناوٹی ہے‘ 11 January, 2007 | فن فنکار ہندوستانی ناظرین کے لیئے’بگ برادر‘20 July, 2006 | فن فنکار بگ برادر میں شلپا شیٹی بھی 03 January, 2007 | فن فنکار گلابی ساڑھی، بگ برادر اور شلپا04 January, 2007 | فن فنکار پاکستان میں بہت پیار ملا، شلپا شیٹی 11 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||