BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قدیم ترین مذہب‘ کے آخری لوگ؟

ہم مندائین لوگ عیسائیت اور یہودیت سے بھی بہت پہلے کے ہیں: لامیا عمارہ
اس قدیم ترین لیکن اب مرتے ہوئے مذہب کی آخری شاعرہ لامیا عباس عمارہ کا تعلق عراق کے اس قدیم ترین مذہب کے ماننے والے مندائي یا مندائین لوگوں سے ہے جنکی دنیا میں آبادی بمشکل ایک لاکھ ہوگی جو اب عراق میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں ناپید اور خطرے میں گھری ہوئی انسانی مخلوق بنے ہوئے ہیں۔

مندائینز سوسائٹی آف امریکہ نے رواں ماہ شائع ہونیوالی اپنی ایک رپورٹ میں کہا گیا: ’انہیں قتل کیا جارہا ہے، ان کی عورتوں کو ریپ کیا جارہا ہے، حاملہ عورتوں پر بھی حملے ہورہے ہیں، معذور بچوں کو بھی مارا جارہا ہے اور باقی جو مدائين بچ گئے ہیں انہیں زبردستی مسلمان کیا جا رہا ہے۔‘

آگ کا گولہ اور کشتۂ خون بنے ہوئے عراق سے ہزاروں میل پرے یہاں کیلیفورنیا کے چھوٹے سے شہر لامیسا میں، میں نے اس عراقی جلاوطن شاعرہ کو ڈھونڈ نکالا۔ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں خاموشی اور اسے توڑتی ہوئی پرندوں کی چہچہاہٹ بھی ایسی کہ اچھا خاصا آدمی بھی شاعر بن جائے۔ لیکن اب میڈیا والوں نے اسکا گھر دیکھ لیا ہے!

’اہلاً وسہلاً یا حبیبی!‘ اس نے اپنے اپارٹمنٹ میں بڑی پرتپاکی سے میری آؤ بھگت عربی میں کی اور پھر عراقی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ سے چائے، پانی یا کافی کا پوچھا۔

’میرے ریفریجریٹر میں گذشتہ پانچ دنوں سے اورنج جوس کا ڈبہ پڑا ہے جسکا ڈھکنا میں نہیں جانتی کہ کیسے کھولا جائے۔‘ پھر اس نے کہا ’ہم شاعر لوگ ہیں ہمیں ٹیکنالوجی سے کیا!‘

ہمارے اپنے مذہب کی کتابیں اور فرمودات مندائین زبان میں لکھے ہوئے ہیں

ایک قدیمی لیکن لکڑی کے خوبصورت صندوق، تصاویر، کتابوں اور کئي سونئيرز اور اعزازت سے سجے اپنے لِونگ روم (ڈرائنگ روم) سے وہ کہیں ہزاروں میل اور ہزاروں سال دور جا پہنچی۔

’میرا تعلق عراق کی اقلیت سے ہے۔ ہم مندائین لوگ عیسائیت اور یہودیت سے بھی بہت پہلے کے ہیں۔‘

عراق، اہواز (آجکے ایران) یا خوزستان میں بسنے والے مندائین لوگوں کی تاریخ عراقی شاعرہ سال سنہ ستر عیسوی سے بتاتی ہیں۔ پھرکہتی ہیں ’ہمارا عقیدہ آدم کی تعلیمات سے شروع ہوا۔ ہم جان دی بیپٹسٹ کے ماننے والے ہیں۔‘

لامیا عمارہ کہتی ہیں ’جان دی بیپٹسٹ نے عیسیٰ کو بپتسمہ دی تھی۔ ہم عیسائی بھی نہیں اور نہ یہودی ہیں۔ لیکن ہم خود کو عیسائيوں اور یہودیوں کے کزنز کہتے ہیں۔ ہم عراق میں سمیریوں سے بھی بہت پہلے کے ہیں لیکن ہم سمیریوں کے دنوں میں قدیم عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ مل کر رہ رہے تھے۔‘

بہتے پانیوں پر بپتسمہ لیے ہوئے ان لوگوں کو صبغتی یعنی غسال بھی کہا گیا ہے کہ پانی فرات اور دجلہ ندیوں کے زیریں بستیوں میں بسنے والے ان لوگوں کے عقیدے کا لازمی جز ٹھہرا۔ ان کے لیے کئی ایک کا خیال ہے کہ یہ طوفان نوح سے بچ جانے والے لوگ ہیں۔ منداینز ’ایک خدا کو ماننے والے‘ یا ’مونولتھک‘ لوگوں میں سب سے قدیم ترین مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہودی اور زرتشتی مذاہب سے بھی قدیم مندائین مذہب قبل مسیح کا سب سے پرانا مذہب ہے۔ کبھی یہ لوگ کروڑوں میں تھے اب ہزاروں میں بھی مشکل سے ملیں گے۔

’مانڈہ‘ لفظ کا مطلب ہے ’علم‘، عربی بولنے والی اس عراقی شاعرہ نے کہا جس نے قدیم مندائین زبان اپنی قدیمی کتاب پڑھنے کے لیے سیکھی۔

مجھے نہ جانے بے مہل وموقعہ سندھی کا لفظ ’مانڈہ‘ کیوں یاد آیا جو جادوگروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ’کہیں یہ سندھی والا 'مانڈہ' بھی مانڈیئن سے تو نہیں آیا؟ مییسیپوٹمیا، دجلہ فرات وادیوں سے سندھ کی وادی میں تو نہیں پہنچا؟‘ میں نے سوچا۔ یہی ’مانڈے ونـجھلیاں مندرا‘ کرتے تھے۔

’میں جب آج سے پچیس سال قبل یہاں امریکہ آئی تو سان ڈیاگو یونیورسٹی کی لائبریری میں مندائینز کے بارے میں چھپے یا غیر مطبوعہ مواد کا معلوم کیا۔ ہمارے اپنے مذہب کی کتابیں اور فرمودات مندائین زبان میں لکھے ہوئے ہیں۔ لیکن قرآن میں بھی منداین کا ذکر صبعین کے طور پر کیا گیا ہے۔‘

مندائين سوسائٹی آف امریکہ کے مطابق، دنیا میں مندائین مبلغوں یا روحانی پیشواؤں کی تعداد صرف پندرہ سولہ تک ہے اور ان میں بھی چار سے پانچ عراق میں ہیں۔

بغداد جو کبھی عروس البلاد یا شہروں کی دلہن کہلاتا تھا آج دنیا میں شہروں کی بیوہ بنی ہوئي ہے

انیس سو نوے تک مندائینز کی تعداد عراق میں ساٹھ ہزار تھی جو اب وہاں سے نقل مکانی کرکے شام، اردن، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، امریکہ اور کینیڈا چلے گئے ہیں۔ منڈاینز سوسائٹی آف امریکہ کے مطابق، گذشتہ سالوں میں عراق سے بارہ ہزار مینڈائین لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔ کوئی پانچ ہزار کے قریب منڈین لوگ ایران میں اور چھ سات ہزار کے قریب اردن اور شام میں آباد ہیں۔

لامیا عباس عمارہ کہتی ہیں ’اگر تمام دنیا کے منڈاین لوگ اکٹھے ہوکر بھی امریکہ آجائيں تو انکی آبادی ایک گاؤں سے بھی کم کہلائے گی۔‘

عمارہ نےبتایا کہ ’منڈاین جنوبی عراق اور اکثر بغداد سمیت بڑے شہروں میں آباد تھے اور ان میں زیادہ تر لوہار، سونار، ڈاکٹر، انجنئیر، شاعر اور دانشور تھے۔ انہیں قتل کیا جاتا ہے کہ وہ ذہین، محنتی اور اس وجہ سے پیسے والے ہیں۔ ہر مذہب نے عراق پر قبضے کے بعد منڈائینز کو قتل کیا ہے۔ یہودیوں، عسیائیوں اور مسلمانوں نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا۔

مسلمان خلافتی عہد میں تو مندائین کیلے دو ہی راستے تھے، قتل ہونا یا پھر قبول اسلام۔ مندائین سوسائٹی آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، اسلام کے تقریباً ہر امام نے بھی مندائیوں کے قتل کے فتوے دیے۔

عمارہ کے والد بھی ایک سیکیولر دانشور تھے جبکہ ان کی ماں قدامت پسند خاتون تھیں۔

’میں گزرے ہوئے وقت میں لمحہ بہ لمحہ تاریخ میں رہ رہی ہوں‘، لامیا عمارہ نے کہا اور پھر وہ اپنے عراق کے دنوں کی یادوں میں کھو گئيں۔

'میں بادشاہوں کی زمانے کی ہوں۔ بادشاہ فیصل با العروف فیصل اول۔ فیصل ثانی تو مجھے یاد ہے۔ عبدالکریم ابوقاسم کے زمانے میں عراق چھوڑ چکی تھی، صدام حسین کی حکومت سے بھی پہلے۔‘

اس نے اپنا ملک چھوڑنے کی وجہ ’سیاست‘ بتائي۔ اس نے کہا کہ سیاست نے کردار بنائے اور متعین کیے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا ’سیاسی جبر میرے ملک چھوڑنے کی کئی وجوہات میں سے صرف ایک تھا۔‘

’صدام حسین نے تین ہزار عراقی نو جوانوں کو ایران عراق جنگ کے ایندھن میں دھکیلا‘، اس نے کہا۔

اپنے بچپن اور نوجوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے اس نے کہا سکول میں لڑکیاں ’مجھے تم سے محبت ہے‘ یا ’آئی لو یو‘ جیسے الفاظ نہیں لکھ سکتی تھیں۔ ’میں سر پر ابائي یا دوپٹہ لے کر سکول جاتی تھی۔ جب میری شاعری کا پہلا مجموعہ چھپا تو ایک ہنگامہ مچ گیا۔ میری شاعری محبت اور سیکسچیولٹی کے بارے میں تھی۔‘

الواعد اخیر، ارمغاں اشتر، ’ہنسی‘، ’اگر نجومی بتائے‘ تو ان کے اب تک آنے والے شعری مجموعے ہیں جنہوں نے لامیا عباس عمارہ کو عرب دنیا سمیت بین الاقوامی شہرت بخشی ہے۔

ان کی شاعری عربی میں ہے جسکے انگریزی سمیت کئي زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مجھے انگریزی ترجمے میں اپنی نظم بھی سنائی جو انہوں نے اپنے کالج کے دنوں کی ہم جماعت اور ایرانی شاعرہ فروزندہ مہراد کی نام کی تھی۔

ایران عراق جنگ کے دنوں میں ہوئی عمارہ کی تیس سال قبل یہ لکھی ہوئی نظم آج بھی عراق سمیت کسی بھی محاذ جنگ اور اس پر جاتے ہوئے بچوں اور دنیا کی کسی بھی ماں پر صادق اترتی ہے۔

اس کا بغداد جو کبھی، اس نے کہا، عروس البلاد یا شہروں کی دلہن کہلاتا تھا آج دنیا میں شہروں کی بیوہ بنی ہوئي ہے۔

’میرا دل خون کے آنسو روتا ہے عراق کیلیے، بغداد کیلیے، اور میرے مندائین لوگوں کیلیے۔ ایک منداین مرتا ہے مجھے لگتا ہے دس لاکھ منڈائین مرے ہیں کیونکہ ہم لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ آگے آئے اور مندائین لوگوں کو بچائے جواب ’انڈینجرڈ سپیشیز‘ بنے ہوئے ہیں۔ مندائین لوگوں کا خاتمہ دنیا کا خاتمہ ہوگا۔‘

پھر اس نے کہا ’ ہم لوگ بچ جائیں گے کیونکہ ہم جنگجو نہیں، امن پسند ہیں۔ ہماری معاف کرنے، بھول جانے کی طاقت اور قدیم کتابوں نے اب تک ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔‘

’محتسب کی خیر ہو‘
ظلِ ہما کا قتل اور جنون کی عملداری:وجاہت
ٹرینپھر وہی ٹرین
جواب دہ کون ہو سکتے ہیں؟ حسن مجتبیٰ
گریش کمارمٹی کی قیمتی محبت
پاکستان کے ہندؤں کا درد۔ حسن مجتبی کا کالم
 ہرسی علیہرسی کی آب بیتی
’بے دین‘ ایک منفرد کتاب کیوں ہے؟
دیسی نسل پرستی
شلپا شیٹی، تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد