’محتسب کی خیر ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ میں سماجی بہبود کی صوبائی وزیر ظلِ ہُما کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مبینہ قاتل مولوی سرور قبل ازیں گوجرانوالہ اور لاہور میں چار خواتین کو قتل کر چکا ہے۔ اسے موقع ہی پر گرفتار کر لیا گیا۔ مبینہ قاتل کے شخصی پس منظر، وقوعہ کی حساس نوعیت اور گوجرانوالہ کے مخصوص سیاسی اور سماجی خد و خال سے قطع نظر اس واردات سے پاکستان میں مذہب کے نام پر ریاست کی عملداری پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے متعدد قابل غور سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ملزم مولوی سرور کا کہنا ہے کہ اس نے ظلِ ہُما کو اس لیے قتل کیا کہ وہ عورت کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ اس نے مقتولہ کے لباس کو بھی قابلِ اعتراض قرار دیا ہے۔ 37 سالہ خاتون سیاست دان درجنوں شہریوں کی موجودگی میں عوامی خدمت کی سرگرمی میں مصروف تھیں۔ ان کے لباس پر اعتراض کو لغو ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ عورت کی حکمرانی پر اعتراض سے اشارہ ملتا ہے کہ سنہ 65 میں فاطمہ جناح اور سنہ 88 میں بے نظیر بھٹو کے حوالے سے عورت کی حکمرانی پر ہونے والی غیرجمہوری بحث سربراہِ مملکت اور سربراہِ حکومت میں فرق جیسی نکتہ آفرینیوں سے آگے بڑھ کر صوبائی وزارت کے درجے تک اُتر آئی ہے۔
پاکستان میں مساجد کے لاؤڈ سپیکر اور امن وامان کی صورتِ حال میں گہرا تعلق ہے۔ سانگلہ ہِل میں اقلیتوں کے خلاف فساد کو ہوا دینا ہو، ننکانہ صاحب میں عوام کو کسی مبینہ ملزم کے گھر پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دینا ہو یا گوجرانوالہ میں میراتھن ریس کے بارے میں گمراہ کُن اطلاعات پہنچانا ہو، مجرمانہ اشتعال انگیزی کے لیے مساجد کے لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے پر شاذ ہی گرفت ہوتی ہے۔ گوجرانوالہ میں مذکورہ میراتھن دوڑ کے انعقاد میں مقتولہ سیاستدان ظلِ ہُما نے سرگرم کردار ادا کیا تھا جب کہ گوجرانوالہ سے مجلسِ عمل کے رُکنِ قومی اسمبلی مولوی حمید اللہ اس موقع پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی رہنمائی کر رہے تھے۔ گوجرانوالہ شہر کی دیواروں پر حالیہ ضمنی انتخاب کے پوسٹر اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں جن پر مولوی حمید اللہ کو ’فاتح میراتھن ریس‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ ظلِ ہُما ان دنوں گوجرانوالہ میں ایک اور میراتھن ریس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں اور اس کا باقاعدہ اعلان کر چکی تھیں۔ مولوی سرور نے 2002ء اور 2003ء میں چار خواتین کو قتل کیا جنہیں وہ اپنی دانست میں غیراخلاقی حرکتوں کی مرتکب سمجھتا تھا۔ اُس نے پولیس کے سامنے دفعہ 116 کے تحت بیان دیتے ہوئے قتل کا اعتراف کیا۔ حتیٰ کہ ایک نجی ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں قتل کی وارداتوں کی باقاعدہ تفصیل بیان کی۔ اخباری اطلاعات اور عدالتی ذرائع کے مطابق اس کے بری ہونے کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ان مقدمات میں جو گواہ پیش ہوئے تھے، انہیں مولوی سرور کے پُشتی بان عناصر نے ڈرا دھمکا کر یا مالی لالچ دے کر اپنے بیانات سے منحرف ہونے پر مجبور کر دیا۔ قتل کی حالیہ واردات میں ظلِ ہُما کی سیاسی شخصیت کے باعث اب یہ ممکن نہیں ہوگا کہ مولوی سرور کی گزشتہ کُشتگانِ ستم کی طرح اخلاق باختگی کا فتوی لگا کر معاملہ ختم کر دیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ معلوم کرنا مُشکل نہیں ہونا چاہیے کہ 2002ء اور 2003ء میں مولوی سرور کی قانونی پیروی اور مالی سرپرستی کرنے والے عناصر کون تھے۔
پاکستان میں انصاف اور قانونی اقدار کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی بھی واردات کا نشانہ بننے والی خواتین کی کردار کُشی ایک ایسا غیرشائستہ رویہ ہے جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے لے کر تھانیدار تک پہنچتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مولوی سرور جیسے نیم خواندہ اور کندہ نا تراش افراد کا متاثر ہونا قدرتی بات ہے۔ ظلِ ہُما کے قتل سے اگلے روز جمہور دشمنی کی طویل روایت رکھنے والے ایک روزنامے نے دلآزار حاشیہ آرائی کرتے ہوئے لکھا: ’گوجرانوالہ میں ایک روشن خیالی ماری گئی۔‘ چھ برس سے دہشت گردی کی تعریف پر متفق نہ ہونے والوں نے روشن خیالی کی کیسی سادہ تعریف (یعنی عورت) دریافت کی ہے۔ قانون ساز اداروں میں قانونی اور سیاسی عمل کی تفہیم کا یہ عالم ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگی سینیٹر کلثوم پروین نے پارلیمنٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ ’مولوی سرور کی کسی عزیز خاتون کو ظِّلِ ہما کے قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے۔‘ یہ وہی سینیٹر ہیں جنہوں نے جون 2005ء میں مختار مائی کو تجویز کیا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ میں شوروغل کی بجائے اللہ سے انصاف کی طلبگار ہو۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں درجنوں خواتین مخصوص نشستوں پر مذہبی جماعتوں کی نمائندگی کر رہی ہیں لیکن دریائے کابل سے لے کر دجلہ کے کناروں تک عصمتوں کی دُہائی دینے والوں نے خاتون سیاستدان ظلِ ہُما کے قتل کی مذمت مناسب نہیں سمجھی۔ ستم ظریفی یہ کہ پارلیمنٹ میں ان حلقوں سے سنائی دینے والی واحد آواز یہ تھی کہ ملزم سرور کو مولوی نہ کہا جائے۔ ابراہیم جلیس زندہ ہوتے تو انہوں نے لکھا ہوتا، ’گُل سے کوئی کہے کہ شگفتن سے باز آ۔‘ ظلِ ہُما کی موت تو سیاسی قتل بھی نہیں، محض پاکستان کے سماجی انحطاط کا ایک اشارہ ہے اور اس کی جائے وقوعہ گوجرانوالہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ پنجاب کے کاروباری شہروں میں سب سے کم ٹیکس ادا کرنے والے اس شہر نے گزشتہ پندرہ سالہ جہاد میں سب سے زیادہ جنازے وصول کیے ہیں۔ پاکستان کے پانچ بڑے شہروں میں عام تعلیمی اداروں اور مذہبی مدرسوں کی تعداد میں قریب ترین تناسب گوجرانوالہ میں پایا جاتا ہے۔ توہین رسالت کے معروف ترین واقعات، خواہ سلامت مسیح کیس میں ناخواندہ بچے پر توہین آمیز عبارت لکھنے کا الزام ہو یا حافظ فاروق سجاد کو زندہ جلانے کا واقعہ ہو، گوجرانوالہ ہی میں پیش آئے تھے۔ گزشتہ عام انتخابات میں گوجرانوالہ پنجاب کا واحد ضلع تھا جہاں ایم ایم اے کے دو امیدوار کامیاب ہوئے ۔ عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر طارق خان کا کہنا ہے کہ 2007ء میں عام انتخابات کے پیش نظر ایک خاتون سیاسی رہنما کا یہ قتل آئندہ انتخابی مہم میں غیرمذہبی اور معروف جمہوری قوتوں کو خوفزدہ کرنے کی سوچی سمجھی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں) | اسی بارے میں پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما قتل20 February, 2007 | پاکستان ’خاتون وزیرکوقتل کرکےجہاد کیا ہے‘21 February, 2007 | پاکستان عمر احمد گھمن کا استعفیٰ منظور 22 February, 2007 | پاکستان ظل ہما قتل کیس، تفتیشی ٹیم24 February, 2007 | پاکستان آٹھ قتل: مقامی سیاست کا شاخسانہ12 January, 2007 | پاکستان راولپنڈی میں دھماکہ، ایک ہلاک16 February, 2007 | پاکستان ’ہندو انجینئر: ٹکڑے کر کے جلایا گیا‘07 February, 2007 | پاکستان ’ اقلیتوں کی کوئی نہیں سنتا‘ 08 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||