آٹھ قتل: مقامی سیاست کا شاخسانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں فوجداری مقدمات کے معروف وکیل اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب عارف بھنڈر سمیت آٹھ افراد کا بہیمانہ قتل صوبہ میں امن و امان کی خراب صورتحال، لاقانونیت اور برادری کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست کا ایک اشارہ ہے۔ اگست سنہ دو ہزار پانچ کے مقامی انتخابات میں عارف بھنڈر لاہور کے نواحی گاؤں سے یونین کونسل کے ناظم کے امیدوار تھے لیکن ان کا اپنے حریفوں کے ساتھ اتنا لڑائی جھگڑا ہوا کہ انتخابات منسوخ کر دیے گئے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ انتخابات منعقد کرائے گئے اور دھاندلی کے الزامات کے شور میں عارف بھنڈر کو یونین کونسل کا ناظم منتخب قرار دے دیا گیا۔ ملک زاہد ان کے سیاسی حریف تھے جو پولیس کے مطابق جمعہ کے حملے میں شریک تھے اور خود بھی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔ ناظم منتخب ہونے کے کچھ دیر بعد ہی عارف بھنڈر پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ جب گزشتہ سال فروری میں عارف بھنڈر کو پنجاب کا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا گیا تو انہوں نے ناظم کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ کے ایک بڑے عہدے پر ایسے شخص کا تقرر ہی کیوں کیا گیا جس کا انتخابی حلقہ میں مخالفین کے ساتھ خوں ریز جھگڑا چل رہا تھا۔ عارف بھنڈر جاٹ تھے۔ چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ افتخار چودھری بھی جاٹ برادری سے ہیں اور پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف پولیس کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ اس کے تین کانسٹیبل فائرنگ میں ہلاک ہوگئے لیکن جوابی فائرنگ میں صرف ایک حملہ آور مارا گیا اور دیگر حملہ کرنے والے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں کی پیشہ وارانہ تربیت، اسلحہ کو استعمال کرنے کی استعداد اور مستعدی کی جو خراب صورتحال ہے یہ واقعہ اس کا ایک اشارہ ہے۔ رشوت، سفارش اور حکومتی اہلکاروں سے تعلقات کی بنیاد پر با اثر شہری اپنے مخالفین کو رگڑا لگاتے ہیں اور اپنے خلاف مقدمہ درج نہیں ہونے دیتے اور مقدمہ درج بھی ہوجائے تو تفتیش میں بچ نکلتے ہیں۔ کم ہی ہوتا ہے کہ کسی بااثر شخص کو ماتحت عدالت سے سزا ہوجائے۔ ان حالات میں کسی شکایت کنندہ کے پاس اس کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ یا تو ذلت قبول کرلے یا بدلہ لینے کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ عارف بھنڈر کا قتل اور اس موقع پر ہونے والی خوں ریزی ہولناک ہے جس سے ملک میں ناجائز اسلحہ کی فراوانی کی ایک جھلک سامنے آئی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ خطرناک وہ انتظامی بدنظمی اور لاقانونیت ہے جس کے نتیجہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جن میں لوگ جدید ترین اسلحہ حاصل کرکے حکومت کے بہت سے اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ عارف بھنڈر کی افسوسناک ہلاکت کے بعد لاہور کے وکلاء نے جلوس نکالا اور بے قصور لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑے حالانکہ وہ خود قانون کے رکھوالے سمجھے جاتے ہیں۔ وکلاء نے پندرہ جنوری کو بڑا احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک بڑا احتجاج اس نظام کے خلاف بھی ہونا چاہیے جو گاڑیوں کے شیشے توڑنے والے وکیل پیدا کرتا ہے، ذاتی تعلقات اور برادری کی بنیاد پر اعلی عہدوں پر تقرریاں کرتا ہے اور عام لوگوں پر معمول کی زندگی اور انصاف کے دروازے اس طرح بند کرتا ہے کہ وہ مخالفین کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کردیں۔ | اسی بارے میں اے اے جی پنجاب سمیت8 قتل12 January, 2007 | پاکستان لاہور: مشتبہ دہشت گرد گرفتار17 September, 2006 | پاکستان لاہور:’سیریئل کِلر‘ کے لیئے سزائے موت09 May, 2006 | پاکستان بسیں نذرِآتش پولیس پر پتھراؤ 28 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||