BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 January, 2007, 05:00 GMT 10:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے اے جی پنجاب سمیت8 قتل

مقتول عارف بھنڈر
معروف وکیل عارف بھنڈر کی عمر پینتالیس سال تھی
جمعہ کی صبح لاہورمیں پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عارف بھنڈر سمیت سات افراد کو نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا جبکہ ایک حملہ آور بھی فائرنگ میں ہلاک ہوا ہے۔

معروف وکیل عارف بھنڈر کی عمر پینتالیس سال تھی۔ لاہور سٹی پولیس چیف خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ قتل کا محرک بظاہر ذاتی دشمنی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً سات بجے گنگا رام ہسپتال کے قریب وارث روڈ پر پیش آیا جب عارف بھنڈر اپنی گاڑی میں اپنے بھانجے محمد وسیم اور بھائی کاشف بھنڈر کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

یہ واقعہ صبح تقریباً سات بجے گنگا رام ہسپتال کے قریب وارث روڈ پر پیش آیا

فائرنگ سے عارف بھنڈر اور ان کی حفاظت پر متعین تین پولیس اہلکار محمد قمر، محمد اسلم اور محمد خان اور ان کا ایک ذاتی محافظ محمد اکبر موقع پر ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں عرف بھنڈر کا بھانجا بارہ سالہ وسیم اور پچیس سالہ بھائی کاشف بھی شامل ہیں۔ کاشف فیروز والا میں تحصیل میونسپل آفیسر تھے۔

فائرنگ سے بارہ سالہ وسیم اور پچیس سالہ کاشف بھی ہلاک ہوگئے۔ کاشف فیروز والا میں تحصیل میونسپل آفیسر تھے۔

دیگر افراد مختلف ہسپتالوں میں پہنچ کر دم توڑ گئے۔ پولیس کو جائے واردات سے کلاشنکوف فائرنگ کی گولیوں کے درجنوں خول ملے ہیں۔

عارف بھنڈر کی گاڑی کے آگے اور پیچھے ان کی حفاظت پر متعین پولیس گارڈز اور ذاتی محافظ تھے جنہوں نے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی ۔پولیس کے مطابق جوابی فائرنگ سے عارف بھنڈر کے حریف اور مبینہ حملہ آور ملک زاہد بھی ہلاک ہوگئے جبکہ دوسرے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

فائرنگ میں پانچ افراد طارق، وارث، ندیم جوزف، مصطفے اور فیاض علی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عارف بھنڈر کی کھوکھر ٹاؤن کے ملک زاہد نامی ایک شخص سے دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی۔ ان پر گزشتہ سال جنوری میں بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا لیکن وہ بال بال بچ گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد لاہور کی ضلعی عدالتوں میں وکلا نے کام کا بائیکاٹ کردیا اور پنجاب سیکریٹریٹ تک جلوس نکالا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قتل کی واردات پر مذمتی قرار داد منظور کی ہے۔ لاہور میں وکلا نے پندرہ جنوری بروز پیر کو اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
عدالت میں فائرنگ: 4 ہلاک
04 January, 2007 | پاکستان
ڈی آئی جی بنوں ہلاک
18 December, 2006 | پاکستان
جنڈولہ میں معروف حکیم قتل
21 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد