BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 November, 2006, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیٹھ عابد کے بیٹے سمیت 5 افراد قتل

حملہ آوور کا ذہنی توازن درست نہیں تھا: پولیس
پاکستان کی ایک مشہور کاروباری شخصیت سیٹھ عابد کے بیٹے سمیت پانچ افراد کوایک سیکورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کےمطابق ملزم نے قتل سے قبل اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے ملزم فرار ہے اور تاحال قتل کی وجوہات کی تعین نہیں ہوسکا۔

سیٹھ عابد کے بیٹے ایاز عابد کا مبینہ قاتل ان چھ سیکیورٹی گارڈز میں سے ایک ہے جنہیں جمعرات کو ہی سیٹھ عابد کی نجی ہاؤسنگ سوسائیٹی ائر لائن میں تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق نو تعینات شدہ میری ٹائم سیکیورٹی منیجمنٹ کے سپروائزر نے اپنی کمپنی کے چھ مسلح سیکیورٹی گارڈوں سمیت سیکیورٹی ایجنسی کادورہ کیا اور باقاعدہ چارج سنبھالنے کے لیے ہاؤسنگ سوسائیٹی کے دفتر میں بیٹھے ایازعابد کا انتظار کر رہے تھے۔

جمعرات کی سہہ پہر جیسےہی ایاز عابد اپنی کار سے اترے ایک باریش سیکیورٹی گارڈ نے اچانک اللہ اکبر کے نعرے لگائے اوراندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے ایاز عابد اور ان کے ایک رشتہ دار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

مقتول ایاز سیٹھ عابد کے واحد صاحبزادے تھے جو قوت گویائی سے محروم نہیں ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ملزم کا ایک ساتھی سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔
ملزم فائرنگ کرتا ہوا سڑک پر آیا جہاں اس نے دو بچیوں سمیت چھ راہ گیروں کو اپنی فائرنگ سے زخمی کیا ۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزم نے فرار ہونے کے لیے ایک کار روکی اور ڈرائیور کو یہ کہہ کر گولی ماردی کہ اس کے بقول اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک لادین ریاست میں رہ رہا ہے اور اس پر کوئی احتجاج نہیں کرتا۔

پولیس نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے کہا کہ ملزم اس کے علاوہ بھی ایسی باتیں کرتا رہا جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ وہ یہ قتل و غارت اللہ کے نام کر رہا ہے۔
اب تک پولیس کو ملنے والے شواہد کے مطابق بظاہر ملزم کی مقتولین سے کوئی ذاتی دشمنی یا وجہ عناد نہیں تھا۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم نفسیاتی مریض اور کوئی مذہبی جنونی بھی ہوسکتا ہے تاہم ابھی اس کی گرفتاری سے پہلے کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔

ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک پولیس ٹیم اس کے گاؤں بھجوادی گئی ہے۔

اسی بارے میں
صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد