BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی پولیس کے سیریل کلرز گرفتار

کراچی پولیس پریس کانفرنس کے دوران
کراچی پولیس نے پولیس اور رینجرز کے پندرہ اہلکاروں کے قتل میں ملوث دو سیریل کلرز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی میں رواں سال جون سے اکتوبر تک پانچ ماہ میں جمشید ٹاؤن، لیاقت آباد، ملیر، بن قاسم اور شاہ فیصل کالونی میں چار پولیس افسران، دو رینجرز کے جوانوں سمیت پندرہ اہلکاروں کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

ان تمام اہلکاروں کی موت ایک ہی طریقۂ وارادت سے ہوئی تھی۔ موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کے سر کا نشانہ بنایا تھا۔

سندھ پولیس کے سربراہ جہانگیر مرزا نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے بھینس کالونی میں مقابلے کے بعد کامران عرف کامو اور محمد فرحان عرف شانی کو ایک فائرنگ کے تبادلے کے بعدگرفتار کرلیا۔

ملزمان سے دو ٹی ٹی پسٹل برآمد کیے گئے، بعد میں ان کی نشاندہی پر پولیس نے چھینے گئے تیس موبائیل، رینجرز کے ایک پسٹل سمیت دو پسٹل اور ایک سو گولیاں بر آمد کرلیں۔

پولیس نشانے پر کیوں؟
 جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر وہ پولیس کو کیوں ٹارگیٹ بناتے تھے تو آئی جی کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آخر ان کی پولیس سے کیا دشمنی تھی تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم کامران کی ماں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ہوچکی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ پولیس سے حساب برابر کرنے کے لئے یہ وار داتیں کرتے ہوں۔
سندھ پولیس کے سربراہ کے مطابق پندرہ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد شہر بھر میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان کسی مخصوص افسر یا اہلکار کو ٹارگیٹ نہیں کرتے تھے بلکہ سربراہ کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کی شناخت ہونے پر موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کرتے، انتہائی قریب جانے کے بعد کامران جو پیچھے بیٹھتا تھا سر پر نشانہ باندھ کر گولی چلاتا۔

آئی جی نے بتایا کہ ملزمان زیادہ تر پولیس اہلکاروں کی یونیفارم یا ان کی مخصوص سفید سرکاری موٹر سائیکل کی وجہ سے شناخت کرتے تھے آخری واردات میں ملزمان نے پولیس کانسٹیبل غلام غوث کو اس کی سرکاری پینٹ اور بوٹ کی وجہ سے نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے حال ہی میں مزید اسلحہ اور گولیاں خریدی تھیں اور اس سیریل کلنگ میں تیزی لانا چاہتے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر وہ پولیس کو کیوں ٹارگیٹ بناتے تھے تو آئی جی کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آخر ان کی پولیس سے کیا دشمنی تھی تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم کامران کی ماں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ہوچکی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ پولیس سے حساب برابر کرنے کے لئے یہ وار داتیں کرتے ہوں۔

ملزمان سے تفتیش کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بتایا ہے کہ انہیں وردی اور پولیس سے شدید نفرت ہے، اس لئے وہ انہیں نشانہ بناتے تھے۔ اس ٹیم کے ایک افسر نے بتایا کہ ملزمان کی عمر بیس سے پچیس سال ہے اور دونوں زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی: جرائم میں اضافہ
17 January, 2005 | پاکستان
محسن ڈاکو کے لیئے احتجاج
21 June, 2006 | پاکستان
لیاری: ارشد پپوگرفتار
11 October, 2006 | پاکستان
ترابی: ایک ملزم ہلاک 3 گرفتار
10 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد