BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محسن ڈاکو کے لیئے احتجاج

رحمان
رحمان ڈاکو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا
کراچی کے قدیمی علاقے لیاری کے رہائشی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بدھ کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا، وہ رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

کراچی پولیس کو قتل، اغوا اور منشیات فروشی کے مقدمات میں انتۃائی مطلوب رحمان ڈکیت کو کچھ روز قبل کوئٹہ سےگرفتار کیا گیا تھا۔

شہر میں انڈر ورلڈ کے ڈان کے نام سے مشہور رحمان ڈکیت کی گرفتاری پر صوبائی حکومت نے پچاس لاکھ روپے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔

بدھ کے روز دس سے زائد بسوں اور دیگر گاڑیوں میں سوار ہوکر لیاری کے رہائشی لوگ پریس کلب پہنچے جن میں رحمان کی بھابی اور چھوٹا بیٹا بھی شامل تھا۔

 مشرف اگر نوکریوں پر پابندی نہیں لگاتا تو غریب نوجوان اس طرح دربدر نہیں ہوتے وہ نوکریوں سے پابندی ہٹائیں یہاں کوئی ڈکیت نہیں رہےگا۔

رحمان کی بھابھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے رحمان کو ڈکیت بنایا ہے، اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔

برقعہ پوش اس خاتون کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل اس کے شوہر اور رحمان کے بھائی رحیم کو پولیس گھر سے اٹھا کر لے گئی تھی اور بعد میں اسے قتل کردیا۔

آج رحمان کی جان کو خطرہ ہے اس کو فوری طور عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ رحمان کو اسلام آباد میں رکھا گیا ہے جہاں اس کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس نے غلطی کی ہے تو اللہ اسے معاف کرےگا۔

رحمان ڈاکو شادی کے بعد جرائم کی دنیا کو چھوڑنا چاہتا تھا

لیاری کے ایک بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ رحمان کی کوئی ماں یا بہن نہیں ہے ہم سب اس کے پڑوسی ہیں وہ غریبوں کا محسن ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ رحمان کو بگاڑنے والے اس کو برباد کرنے والے پولیس افسران ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرف اگر نوکریوں پر پابندی نہیں لگاتا تو غریب نوجوان اس طرح دربدر نہیں ہوتے وہ نوکریوں سے پابندی ہٹائیں یہاں کوئی ڈکیت نہیں رہےگا۔

رحمان کی بھتیجی حرا محمد شریف کی جانب سے ایک تحریری بیان تقسیم کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ رحمان نے شادی کے بعد جرائم کی دنیا چھوڑنی چاہئی تھی مگر ارشد پپو میرے چچا کو دہمکیاں دیتا اور چیلنج کرتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ رحمان نے ارشد پپو کو سبق سکھانے کے لیئے لڑائی کی لیکن کسی بےگناہ کو کبھی بھی قتل نہیں کیا۔

واضح رہے کہ رحمان اور ارشد پپو دونوں کراچی پولیس کو مطلوب ہیں دونوں کے گروہوں میں گینگ وار میں کئی لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ پولیس لیاری میں منشیات کی فروخت اور بدامنی کا ذمے دار دونوں گروہوں کو قرار دیتی ہے۔

رحمان نے کراچی کے قریبی بلوچستان کے علاقے حب میں اپنا اڈہ قائم کیا ہوا تھا جسے وائٹ ہاؤس کے نام سے پکارا جاتا تھا، ڈیڑھ سال قبل قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ایک کارروائی کے بعد اس بم سے مسمار کردیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد