کراچی: ریلوے انجن کی ہائی جیکنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے ریلوے انجن اغوا کرنے والے شخص کو گرفتار کیا ہے اور اس کے خلاف دہشت گردی کرنے کی ایک کوشش کی تفتیش شروع کی ہے۔ تاہم اس شخص کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور وہ ذہنی مریضوں کے ہسپتال سے فرار ہوئے تھے۔ کراچی ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ میر محمد خاصخیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شام پپری شنٹنگ سٹیشن سے ایک ریلوے انجن غائب ہوگیا تھا، جو بعد میں شہر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بن قاسم سٹیشن پر انجن کو سگنل سے روکنے کی کوشش کی گئی کنٹرول روم نے آگاہ کیا کہ اس میں کوئی شخص نظر نہیں آرہا ہے، جس کے بعد لانڈھی ریلوے سٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک پر پتھر بچھائے گئے کہ اگر ڈرائیور کو نیند آگئی ہے تو وہ جاگ جائے مگر انجن پھر بھی نہ رکا جس کے بعد آگے آنے والےسٹشنوں کو اچوکس کیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق اس دوران قراقرم ایکسپریس کے ڈرائیور کی جو اس انجن سے آگے جارہی تھی ہدایت کی گئی کہ ڈِرگ روڈ پر سٹیشن پر گاڑی روکنے کے بجائے کینٹ پر گاڑی کھڑی کریں اور ڈِرگ روڈ کے سٹیشن ماسٹر کو ہدایت کی گئی کہ انجن کو لوپ لائن پر ڈال دیا جائے۔ انجن لوپ لائن پر آنے کے بعد آخری حد عبور کرکے زمین میں دہنس گیا اور پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی ایس کے مطابق ملزم کا نام مدن ہے جو حیدرآباد کے رہائشی ہیں اور ’مشکوک لگتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے انجن عام آدمی نہیں چلا سکتا ہے اس لیئے یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ یہ سابق ملازم تو نہیں ہے۔ ایس پی ریلوے ملک افضل کا پہلے کہنا تھا کہ ملزم کا نام مدن ہے اور اس سے پاکستان کی کوئی بھی شناختی دستاویز برآمد نہیں ہوئی۔ پولیس کا خیال تھا کہ ملزم انجن کو قراقرم ایکسپریس سے ٹکرا کر تخریب کاری کرنا چاہتا تھا۔ تاہم مدن کی اہلیہ جبلی اور بیٹے رمیش نے پولیس سے رابطہ کر کے بتایا کہ مدن کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور وہ ذہنی مریضوں کے ہسپتال میں داخل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ خبر اور مدن کی تصاویر ٹیلی وژن پر دیکھی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدن کے خاندان والوں سے بیان لے لیا ہے تاہم اس واقعہ کی دہشت گردی کی ایک کوشش ہونے کی تفتیش مکمل کرنا لازمی ہے۔ اغوا ہونے والے انجن کے ڈرائیور اور فائر مین کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ کینٹ سٹیشن پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ڈی ایس کا کہنا ہے کہ ریلوے قانون کے تحت انجن کو خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ اس لاپرواہی کے الزام میں ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ | اسی بارے میں منور سہروردی کے قتل کے ملزم گرفتار22 August, 2006 | پاکستان بچوں پر دہشت گردی کے الزامات30 May, 2006 | پاکستان ریکارڈ نمبرمیں ’دہشت گرد‘گرفتار05 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||