BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منور سہروردی کے قتل کے ملزم گرفتار

پولیس اہلکار نیاز صدیقی
سی سی پی او نیاز صدیقی
کراچی پولیس نے پیپلز پارٹی کے رہنما منور سہروردی اور پولیس انسپیکٹر ذیشان کاظمی کے قتل میں ملوث دو ملزموں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔



کراچی شہری پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے منگل کی شب ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عاشق حسین کھوسو نامی شخص کو لانڈھی سے گرفتار کیا گیا جس کی نشاندہی پر کھارادر سے پھر نہال تالانی نامی ایک اور شخص کو حراست میں لیا گیا۔

سی سی پی او نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملزمان نہ صرف پیپلز پارٹی کے منور سہروردی کے قتل میں ملوث تھے بلکہ کراچی کے متنازع ایس ایچ او ذیشان کاضمی کے قتل میں بھی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اکتوبر دو ہزار تین کو انڈر ورلڈ کے ڈان شعیب خان کی ایما اور علی سنارا کے کہنے پر پولیس انسپیکٹر ذیشان کاظمی پر تشدد کیا اور پھر قتل کردیا اور بعد میں ان کی لاش بوری میں ڈال کر فیروز آباد کے علاقے میں پھینک دی۔

ذیشان کاضمی کی لاش اکتوبر 2003 میں فیروزآباد سے ملی تھی۔ کچھ لوگوں کا دعوی تھا کہ ان کی ہلاکت میں انٹیلیجنس ایجنسیاں یا نیم فوجی اہلکار ملوث تھے تاہم اس بارے میں کبھی کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے تفتیش میں یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے شعیب خان کے کہنے پر اور علی سنارا کے قتل کا بدلہ لینے کے لیئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منور سہروردی کو قتل کیا۔

نیاز صدیقی کے مطابق ملزمان نے بتایا ہے کہ شعیب خان کے کہنے پر منور سہروردی کو قتل کیا گیا کیونکہ ان کا پلاٹ اور زمینوں پر جھگڑا تھا جس بنا پر ان کی آپس میں دشمنی تھی۔

منور سہروردی کو جون سنہ 2004 میں نا معلوم مسلح افراد نے قتل کیا تھا۔

علی سنارا پی پی پی شہید بھٹو گروپ کے سربراہ میر مرتضیٰ بھٹو کے قریبی ساتھی تھے جبکہ پولیس انسپیکٹر ذیشان کاظمی کو مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں نامزد کیا گیا تھا حالانکہ وہ واقعہ کے ٹائم کراچی کے اس علاقے میں تعینات بھی نہیں تھے۔

علی سنارا کو جنوری سنہ 2004 میں نا معلوم مسلح افراد نے قتل کیا تھا۔


پولیس سربراہ سے سوال کیا گیا کہ کیا ملزمان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کا انڈر ورلڈ سے تعلق ہے اور یہ شعیب خان کے دوست ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری پر سندھ حکومت کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں نیاز صدیقی نے کہا کہ کراچی پولیس کو انتہائی مطلوب ملزم رحمان ڈکیت پولیس حراست میں تھا ہی نہیں تو فرار کیسے ہوسکتا ہے۔

کچھ نشریاتی اداروں کی جانب سے یہ خبر نشر کی گئی تھی کہ رحمان ڈکیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ جس کے بعد پولیس کے ایس ایچ او کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد