| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذیشان کاظمی کو ہلاک کر دیا گیا
کراچی میں نامعلوم افراد نے سابق پولیس انسپکٹر ذیشان کاظمی کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا اور گولی مار کر ہلاک کرکے لاش بوری میں بند کرکے منگل کی شب سڑک پر پھینک کر فرار ہوگئے۔ پولیس کو گزشتہ رات فیروزآباد کے علاقے میں لوگوں نے اطلاع دی کہ ایک ہائی روف گاڑی میں سوار کچھ لوگ سڑک پر بوری میں بند ایک لاش پھینک کر گئے ہیں۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دی جہاں پولیس حکام کے مطابق، ڈاکٹروں سے رپورٹ دی کہ لاش کے جسم پر سگریٹ سے جلانے اور تشدد کے نشانات موجود ہیں اور اس کی آنکھ میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ لاش ایدھی سرد خانے میں رکھوادی گئی۔ بعد میں لاش کی شناخت کی گئی تو پتہ چلا کہ کہ وہ سابق پولیس انسپکٹر ذیشان کاظمی کی ہے۔ فیروز آباد کے ایڈیشنل سپرنٹنڈینٹ پولیس (اے ایس پی) شہزاد احمد نے بتایا کہ لاش ان پولیس افسران نے شناخت کی ہے جو ذیشان کاظمی کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بائیں جانب کی آنکھ میں گولی ماری گئی ہے جو پار ہوگئی ہے۔ جبکہ جسم پر بھی تشدد کے نشانات ہیں۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن طارق جمیل نے بتایا کہ ذیشان کاظمی کے کچھ رشتہ داروں نے بھی انہیں شناخت کیا ہے۔ ایدھی سرد خانے کے انجارچ کا کہنا ہے کہ ذیشان کاظمی کے بھائی عرفان نے بھی لاش دیکھی ہے اور کہا کہ وہ اس کے بھائی کی ہے۔ پولیس کے مطابق ذیشان کاظمی بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مفرور ملزم تھے۔ انہیں ایک ماہ قبل ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ ذیشان کاظمی انیس سو پچانوے چھیانوے میں بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آپریشن میں حصّہ لینے کی وجہ سے کافی متنازعہ تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||