لیاری: ارشد پپوگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے گینگ وار کے مرکزی کردار ارشد پپو کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ شہری پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بتایا کہ ارشد پپو کو لیاری کے علاقے نیا آباد سے مقابلے کے بعد ایک ساتھی سمیت گرفتار کیا گیا ہے، جن سے دو کلاشنکوف اور ایک دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ارشد پپو لیاری میں جاری گینگ وار کا ایک اہم حصہ ہے، اس کی گرفتاری کے بعد صورتحال بہتر ہوگی۔ ان کے مطابق ارشد پپو اغوا، تاوان اور قتل سمیت ساٹھ مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر تیس لاکھ رپے انعام مقرر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گروہوں نے لیاری میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا اس لڑائی میں کئی جانیں ضایع ہوئیں اور آبادی کے مکین خوف کی فضا میں جی رہے تھے۔ دوسری جانب ارشد پپو کی بیوی اسما کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اس کے شوہر کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد ایران چلاگیا تھا اور عید کرنے کے لیے ایک ہفتہ قبل ہی واپس آیا تھا کہ اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ارشد پپو کا والد لال محمد عرف حاجی لالو اور بھائی عرفات بھی گرفتار ہیں، جن پر بھی قتل اور اغوا کے مقدمات دائر ہیں حاجی لالو بھی پولیس کو انتہائی ملزمان میں شامل رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ارشد پپو نشے کا عادی ہے، اور گرفتاری کے وقت پولیس کو منت کرتا رہا کہ اسے گرفتار کرنے کے بجائے ماردیا جائے،کیونکہ گرفتاری بزدلی ہے۔ کراچی میں گزتشہ تین سالوں سے گینگ وار جاری ہے، جس میں ایک سو سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، لیاری گینگ وار کے ایک اور اہم کردار رحمان ڈکیت کی کوئیٹہ سے گرفتاری اور حراست سے فرار ہونے کی خبریں مقامی میڈیا میں شایع ہوئی تھیں مگر کراچی پولیس نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ اس تنازعے کی وجہ ڈیڑھ سو روپے بتائی جاتی ہے، پولیس کے مطابق رحمان کا ایک رشتیدار عنایت سے آفیم لینے گیا اور دونوں میں ڈیڑھ سو رپے پر جھگڑا ہوگیا اور رحمان نے طیش میں آکر عنایت کو قتل کردیا، جس کے بعد دونوں نے اپنے گروہ بنا لیے اور لیاری ان کی جنگ کا میدان بن گیا۔ اس گینگ وار کے بعد ارشد پپو کا نام منظر عام پر آیا۔ پولیس نے گینگ وار کے ایک کردار کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایک کردار پس منظر میں چلاگیا ہے مگر اس کے باوجود لیاری میں اور کئی چھوٹے چھوٹے گروہ موجود ہیں۔ | اسی بارے میں لیاری: رینجرز کا اہلکار شدید زخمی14 July, 2004 | پاکستان ’کوئی سفارش نہیں کرائے گا‘07 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||