عدالت میں فائرنگ: 4 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے علاقے خیرپور میں ایک پولیس اہلکار کی عدالت کے اندر فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا کر کے اپنی بہن کے اغوا کا بدلہ لیا ہے۔ خیرپور سیشن کورٹ میں یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا۔ سپاہی محمد موسیٰ نے سرکاری رائفل سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوگئے جن میں سے چار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بانھو لانگاہ، لال بخش، دہنی بخش اور امام بخش شامل ہیں۔ یہ تمام افراد مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے عدالت میں آئے تھے۔ خیرپور پولیس کے سربراہ جاوید جسکانی نے بتایا کہ ملزم سپاہی موسیٰ لانگاہ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال قبل اس کی بہن کو بانھو لانگاہ نے اغوا کرکے شادی رچائی تھی اور اس نے بدلہ لینے کے لیے یہ فائرنگ کی تھی۔ پولیس کے مطابق سپاہی موسیٰ جیل کے قیدیوں پر مامور تھا کہ اسے جیسے ہی بانھو لانگاہ نظر آیا تو اس نے فائر کیے، جس میں دوسرے لوگ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت دائر کیا جائے گا۔ باقی زخمی افراد ہسپتال میں ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں ملزم نے جج کو چپل دے مارا11 December, 2006 | پاکستان سلام کہنے پر دو سال سزا05 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||