BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلام کہنے پر دو سال سزا

ہائی کورٹ
قانون کے تحت احمدیوں کو اسلامی اصلاحات استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔
پاکستانی پنجاب کی ایک مقامی عدالت نے احمدی فرقے کے تین ارکان کو کلمہ طیبہ لکھنے اور مسلمانوں کو السلام وعلیکم کہنے کے الزامات کے تحت دو دوسال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان میں ایک قانون کے تحت احمدیوں کو اسلامی اصلاحات استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ضلع جھنگ کے گاؤں چک نمبر بیس میں بارہ اکتوبر سن ءانیس سو اٹھانوے کو تھانہ شور کورٹ میں ایک مذہبی تنظیم کے رکن حافظ دوست محمد نے احمدی فرقے کے چار ارکان حق نواز ،نذیر احمد، ظفر احمد اور محمد صدیق کے خلاف درخواست دی تھی۔

 استغاثہ کے مطابق وہ اپنی عبادت گاہ پر کلمہ لکھ سکتے ہیں نہ ہی کسی کو السلام وعلیکم کہہ سکتےہیں کیونکہ استغاثہ کے بقول یہ دونوں ایسی اسلامی اصلاحات جن کو احمدی فرقے کے لوگوں کے لیے استعمال کرنا پاکستان میں غیر قانونی ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ افراد نے اپنی عبادت گاہ میں کلمہ طیبہ کے مدہم ہوتے ہوئے الفاظ کو دوبارہ تحریر کیا تھا اور مسلمانوں کو اسلام وعلیکم کہنے کے مرتکب ہوئے تھے۔

ترجمان کے مطابق اس درخواست کے نتیجےمیں تعزیرات پاکستان کی دو سو پچانوے سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کی رو سے سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔

تاہم بعد میں سیشن کورٹ نے اسے دو سو اٹھانوے سی میں تبدیل کر دیا۔
اس قانون کے مطابق پاکستان میں احمدی فرقے کے لیے اسلامی اصلاحات کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق وہ اپنی عبادت گاہ پر کلمہ لکھ سکتے ہیں نہ ہی کسی کو السلام وعلیکم کہہ سکتےہیں کیونکہ استغاثہ کے بقول یہ دونوں ایسی اسلامی اصلاحات جن کو احمدی فرقے کے لوگوں کے لیے استعمال کرنا پاکستان میں غیر قانونی ہے۔

مقدمے میں نامزد چاروں ملزموں کی ضمانت تو منظور ہوگئی تھی تاہم یہ مقدمہ شورکورٹ ضلع جھنگ کی عدالت میں زیرِ سماعت رہا اس دوران ایک ملزم محمد صدیق کا انتقال ہوگیا۔

شور کوٹ ضلع جھنگ کی عدالت کے جج عرفان اکرم تارڑ نے آج تینوں ملزموں کو دو دو سال قید اور پانچ پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ایک ملزم ظفر احمد بیرون ملک ہے جبکہ پاکستان میں موجود سزا سننے والے باقی دو ملزموں حق نواز اور نذیر احمد کو گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا گیا۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ملک میں امتیازی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد