BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 April, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلم قبرستان میں احمدی میت‘

قبرستان(فائل فوٹو)
انیس سو اٹھاسی سے لے کر اب تک ملک میں چھبیس احمدیوں کی قبر کشائی کی جا چکی ہے
لاہور کے قریبی ضلع قصور کے نواحی گاؤں میں گزشتہ ماہ احمدی مسلک کی ایک چودہ سالہ لڑکی کی قبر کشائی کر کے اس کی میت دوسرے قبرستان میں منتقل کر دی گئی جو ملک میں اس قسم کی چھبیسویں قبر کشائی ہے۔

پاکستانی قوانین کی رو سے مناسب قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کے بغیر کسی قبر سے نکالنا جرم ہے اور اس کی سزا مقرر ہے۔ تاہم احمدی مسلک کی افراد کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کے بعد قبر کشائی ایک معمول بن چکا ہے۔

پاکستانی آئین احمدی مسلک کو غیر مسلم قرار دیتا ہے جبکہ احمدی خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں۔

ضلع قصور سے بیس کلومیٹر دور گاؤں چندا والا میں چودہ سالہ سالہ نادیہ حنیف میٹرک کی طالبہ تھیں اور ایک ایس او ایس ماڈل سکول میں قران پڑھاتی تھیں جہاں ستر سے زیادہ بچے ان کے شاگرد تھے اور پچاس قرآن کی تعلیم مکمل کر چکے تھے۔

ان کی چار بہنیں اور تین بھائی ہیں جو اب بھی اسی گاؤں میں رہائش پذیر ہیں۔ نادیہ بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ نادیہ کے والد محمد حنیف کمبوہ نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں احمدیت اختیار کر لی تھی۔ ان کے خاندان کا ایک قریبی موضع سہجرہ میں مشترکہ قبرستان تھا۔

 پاکستانی قوانین کی رو سے مناسب قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کے بغیر کسی قبر سے نکالنا جرم ہے اور اس کی سزا مقرر ہے۔ تاہم احمدی مسلک کی افراد کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کے بعد قبر کشائی ایک معمول بن چکا ہے۔

متوفیہ کے والد حنیف احمد کا کہنا ہے کہ آٹھ مارچ کو ان کی بیٹی تین ہفتے شدید بیمار رہنے کے بعد لاہور کے جناح ہسپتال میں انتقال کرگئی تھیں۔ اسی روز معمول کے مطابق نادیہ کی نعش کو موضع سہجرہ کے مشترکہ قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

متوفیہ کی بہن فائزہ حنیف کے مطابق اس موقع پر کسی نے تدفین پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ بہت سے مسلمان بھی جنازے میں شریک ہوئے تھے۔

فائزہ کہتی ہیں کہ تدفین کے چند روز بعد کچھ مقامی افراد نے’مجلس تحفظ ختم نبوت‘ کے نام سے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ مسلمانوں کے قبرستان میں کسی احمدی کو دفن نہیں کیا جا سکتا اور کہا کہ ان کے پاس اس کا فتوی موجود ہے کہ میت کو قبرستان سے نکالا جائے۔ تاہم یہ فتوی کبھی ان کو دکھایا نہیں گیا۔

متوفیہ کی بہن کاکہنا ہے کہ موضع سہجرہ کے مولوی نے سپیکر پر اعلان کرنا شروع کر دیے کہ ’انہیں خواب آتے ہیں کہ قبرستان کے مردوں پر عذاب آگیا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ بچی کو یہاں سے نکالو کیونکہ وہ غیر مسلم ہے‘۔

 جب خدا بندے کی سنتا ہے تو انسانوں کے آگے رونے کا کیا فائدہ۔ خدا ہمارا ساتھ دے گا
فائزہ

فائزہ کہتی ہیں کہ ان کے باپ اور بھائی نے نو دن گاؤں کے لوگوں کی منتوں میں گزارے کہ وہ قبر کشائی نہ کریں کیونکہ جوان لڑکی کی قبر کشائی مناسب بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس کی موت تو بھول گئی اور لوگوں کی منتوں میں لگ گئے‘۔

فائزہ کہتی ہیں کہ ان کے والد اور بھائی پولیس کے تھانیدار اور ضلعی پولیس افسر کے پاس بھی گئے کہ نادیہ کی قبر کشائی نہ کی جائے لیکن انہوں نے کوئی مدد کرنے سے انکار کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کمانڈو پولیس قبر کشائی کے وقت موجود تھی اور ان کے اہل خانہ بھی لیکن قبر کشائی گاؤں کا اہتمام ان لوگوں نے کیا جو اس کا مطالبہ کررہے تھے اور انہیں نے میت کو دوبارہ قصور کے احمدی قبرستان میں دفن کروایا جبکہ پولیس سارے عمل کے دوران نگرانی کرتی رہی۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان راشد جاوید کا کہنا ہے کہ قصور پولیس نے ضلعی پولیس افسر مبین احمد کی نگرانی میں سولہ مارچ کی رات کو نادیہ حنیف کے اہل خانہ کے ٹیلی فون قبضہ میں لے لیے اور ورثا کی اجازت کے بغیر نادیہ حنیف کی قبر کھود کر اس کی میت نکال لی۔

 سنہ انیس سو چوہتر میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا جبکہ اپریل انیس سو چوراسی میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اینٹی احمدی آرڈیننس کی رو سے احمدیوں کے لیے سرعام کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، سلام کرنا، عبادت کے لیے اکٹھے ہونا اور مسلمانوں جیسے نام رکھنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

متوفیہ کی بہن فائزہ کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے لوگ پورے گاؤں کو قرآن پڑھنا سکھاتے ہیں اور ابتدائی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی کسی شخص نے ان کے خاندان کے احمدی ہونے پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب نادیہ فوت ہوئی تو انہیں ان کا احمدی ہونا یاد آگیا۔

فائضہ کہتی ہیں کہ قبر کشائی کے بعد ان کے خاندان نے حکومت سے کوئی شکایت نہیں کی کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ کہتی ہیں۔ ’جب خدا بندے کی سنتا ہے تو انسانوں کے آگے رونے کا کیا فائدہ۔ خدا ہمارا ساتھ دے گا‘

جماعت احمدیہ کے مطابق انیس سو اٹھاسی سے لے کر اب تک ملک میں چھبیس احمدیوں کی قبر کشائی کی جا چکی ہے جن میں اٹھارہ مرد اور آٹھ خواتین شامل تھیں۔ سنہ دو ہزار چار میں ایک احمدی کو ان کی تدفین کے ایک سال بعد قبر سے نکالا گیا اور لاش غائب کردی گئی جو آج تک نہیں ملی۔

جماعت احمدیہ کے مطابق انیس سو چورانوے میں کوٹ مومن ضلع سرگودھا میں تین احمدیوں کی قبور کو مسمار کر کے زمین کو ہموار کردیا گیا۔ جماعت احمدیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں ان کے اور دوسرے فرقوں کے مشترکہ قبرستان ہیں لیکن ان مشترکہ قبرستانوں میں چھتیس موقعوں پر احمدی افراد کی تدفین کی اجازت نہیں دی گئی۔

سنہ انیس سو چوہتر میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا جبکہ اپریل انیس سو چوراسی میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اینٹی احمدی آرڈیننس کی رو سے احمدیوں کے لیے سرعام کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، سلام کرنا، عبادت کے لیے اکٹھے ہونا اور مسلمانوں جیسے نام رکھنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
احمدی رپورٹ، منافرت مہم
08 March, 2006 | پاکستان
جب احمدیوں کا وجود جرم ٹھہرا
07 December, 2005 | پاکستان
احمدی مسجد پر حملے کی مذمت
08 October, 2005 | پاکستان
انسانی حقوق پر تشویش
19 March, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد