ملزم نے جج کو چپل دے مارا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ڈکیتی اور پولیس مقابلہ کے ایک ملزم نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج کو اپنے مقدمہ کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر چپل کھینچ ماری۔ سوموار کو انسداد دہشت گردی کے جج مقرب علی خان نیازی تین ملزموں سلیم مجید، اسلم اور ثاقب لنگڑا کے مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے کہ ملزم سلیم مجیدنےجج کی کسی بات پر مشتعل ہوکر اپنی چپل اتار کر مبینہ طور پر ان کو کھینچ ماری۔ خصوصی عدالت میں سرکاری وکیل سردار نجیب نے کہا کہ وہ واقعہ کے وقت جج کے کمرہ میں موجود تو نہیں تھے لیکن یہ بات ان کے علم میں آئی ہے اور اس واقعہ کے بعد ان ملزموں کے مقدمہ کی مزید سماعت جیل کے اندر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملزموں کو ہتھکڑی لگا کر لایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ پولیس بھی ہوتی ہے لیکن ملزموں کو چپل پہننے سے تو نہیں روکا جاسکتا۔ جب سرکاری وکیل سردار نجیب سے پوچھا گیا کہ کیا جج ملزموں سے سخت زبان میں گفتگو کرتے ہیں جس وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا تو انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے جج ملزموں کے مقدمہ کا قانون کے مطابق کم وقت میں فیصلہ کرنے کے لیے وکلاء کی درخواست پر بار بار پیشی کا التوا دینے سے انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ جج پر حملہ27 January, 2006 | پاکستان چیف جسٹس بننے سے معذرت22 May, 2006 | پاکستان پاکستان: شمالی علاقوں کا جج قتل25 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||