BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 May, 2006, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیف جسٹس بننے سے معذرت

جسٹس نسیم سکندر
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ملک کی سب سے بڑی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیئے نامزد کیئے گئے جج نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے وفاقی شرعی عدالت کا کام گزشتہ دو ہفتوں سے بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس نسیم سکندر کو صدر جنرل پرویز مشرف نے اس ماہ کی سولہ تاریخ کو وفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا تاہم انہوں نے بیس مئی کو وزارت قانون کو ایک خط میں اس عہدے کو قبول کرنے سے معذرت کر لی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا صدر مشرف یا حکومت نے جسٹس نسیم سکندر سے اس تقرری کے بارے میں پہلے ان کی مرضی معلوم کی تھی یا نہیں۔ جسٹس نسیم سکندر کی تقرری کے بعد سترہ مئی کو ان کی حلف برداری کی تقریب کے بارے میں بھی اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو ان سے حلف لینا تھا۔ تاہم اس وقت یہ کہ کر یہ تقریب ملتوی کر دی گئی تھی کہ یہ تقریب بعد میں ہوگی۔

وفاقی وزیر قانون اور انصاف وصی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس نیسم سکندر نے پہلے اس عہدے کے لیئے آمادگی ظاہر کی تھی تاہم انہیں بعد میں اس بات کا پتہ چلا کہ انہیں وفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس بننے کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ کے جج کا عہدہ چھوڑنا پڑے گا جس پر انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔

جسٹس نسیم سکندر کی طرف سے انکار کے بعد وفاقی شرعی عدالت میں کیسوں کی سنوائی نہیں ہو رہی کیونکہ آئین کے مطابق چیف جسٹس ہی کیس سننے کے لیئے عدالت کے بنچ بناتا ہے اور کیسوں کو مختلف بنچوں میں سنوائی کے لیئے بھیجتا ہے۔

عدالت کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ آٹھ مئی، جب سے وفاقی شرعی عدالت کے پرانے چیف جسٹس ریٹائر ہوئے ہیں، عدالت میں کسی کیس کی سنوائی ممکن نہیں ہو سکی کیونکہ عدالت کے رولز کے مطابق عدالت کو چیف جسٹس چلاتے ہیں اور انہیں کے حکم سے تمام بنچ بنتے ہیں۔

وزارت قانون کے حکام کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے نئے چیف جسٹس کی جلد تقرری کے لیئے سمری جلد ہی صدر کو دوبارہ بھیج دی جائے گی۔ملک کے آئین کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر تین سال کی مدت کے لیئے کیا جاتا ہے جس کو صدر بعد میں اتنی ہی اور مدت کے لیئے بڑھا بھی سکتے ہیں۔

جسٹس نسیم سکندر اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے امریکہ سے قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ہیگ میں واقع عالمی عدالت کی اکیڈمی میں بین الاقوامی قوانین پر کورس بھی کیا ہوا ہے۔

بعض وکلاء کا خیال ہے کہ جسٹس نسیم سکندر نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا عہدہ نہ قبول کر کے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہائی کورٹ میں ان کی مدت ملازمت دو ہزار گیارہ تک ہے اور اگر وہ سپریم کورٹ میں چلے جاتے ہیں تو ان کی مدت میں مزید تین سال کا اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ وفاقی شرعی عدالت میں وہ صرف تین سال خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو جاتے۔

اسی بارے میں
مدارس عدالت سے رجوع کریں گے
31 December, 2005 | پاکستان
جج کی خود کشی، شوہر گرفتار
09 September, 2005 | پاکستان
سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج
14 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد